پاکستان میں مذہبی منافرت کے خلاف سرگرم کارکن کا قتل | حالات حاضرہ | DW | 08.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں مذہبی منافرت کے خلاف سرگرم کارکن کا قتل

پاکستان میں سماجی حقوق کے لیے اور مذہبی منافرت کے خلاف سرگرم کوششیں کرنے والے ایک نمایاں کارکن اور سابق صحافی کو ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے اتوار آٹھ مئی کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹد پریس کی رپورٹوں کے مطابق خرم ذکی نامی اس کارکن پر یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ اس حملے میں خرم ذکی ہلاک ہو گئے جبکہ دو دیگر افراد زخمی بھی ہوئے۔

مقدس حیدر نامی ایک پولیس اہلکار نے اے پی کو بتایا کہ یہ خونریز واقعہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت اور بندرگاہی شہر کراچی میں ہفتہ سات مئی کو رات گئے اس وقت پیش آیا، جب خرم ذکی ایک دوست کے ساتھ ایک سڑک کے کنارے واقع ایک ریستوران میں رات کا کھانا کھا رہے تھے۔

پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد چار تھی، وہ دو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ کراچی پولیس کے افسر مقدس حیدر کے مطابق دو زخمیوں میں سے ایک خرم ذکی کا دوست ہے، جو مقتول کے ساتھ تھا، جبکہ دوسرا ایک راہگیر جو حملہ آوروں کی طرف سے اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آ گیا۔

پولیس تفتیش کر رہی ہے تاہم ابھی تک اس حملے کی ذمے داری نہ تو کسی مسلح گروپ نے قبول کی ہے اور نہ ہی یہ واضح ہوا ہے کہ اس واردات کے پیچھے ممکنہ طور پر کون ہو سکتا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خرم ذکی ایک سابق صحافی تھے جو مذہبی بنیادوں پر نفرت پھیلائے جانے کے خلاف بھی بہت سرگرم تھے۔ دیگر شعبوں میں عوامی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے کے علاوہ انہیں اس وجہ سے بھی کافی شہرت حاصل ہوئی تھی کہ انہوں نے اسلام آباد کی لال مسجد کے خطیب عبدالعزیز کے خلاف سماجی مہم میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

Pakistan Karatschi Beerdigung Khurram Zaki

خرم ذکی کے قتل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے

پاکستانی دارالحکومت میں لال مسجد کو مذہبی شدت پسندی کا گڑھ مانا جاتا ہے اور ماضی میں وہاں ملکی فوج نے ایک مسلح آپریشن بھی کیا تھا، جس میں کئی افراد مارے گئے تھے۔ خرم ذکی نے اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ لال مسجد کے خطیب عبدالعزیز کے خلاف عدالت میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا تھا، جس میں اس متنازعہ مذہبی شخصیت پر عام لوگوں کو ملک کی شیعہ مذہبی اقلیت کے خلاف نفرت پر اکسانے کا الزام لگایا گیا تھا۔

پاکستان میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے حق میں اور خونریز فرقہ پرستی کے خلاف کوششیں کرنے والی سماجی تنظیموں اور سوشل میڈیا پر عام صارفین کی طرف سے خرم ذکی کے قتل کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔