پاکستان میں جسمانی خوبصورتی کے بدلتے ہوئے معیارات | دستک | DW | 12.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

پاکستان میں جسمانی خوبصورتی کے بدلتے ہوئے معیارات

بچپن میں جب میڈم نور جہاں کا ’’ترنم‘‘ شروع ہوا تو ہر ہفتے ایک ہی بات سننے کو ملا کرتی تھی کہ ’’ولایت توں چمڑی کھچا کے آئی اے۔ یہ جو تل گال پر ہے، وہ کبھی آنکھ کے پاس ہوا کرتا تھا۔‘‘

ہمیں وہ گاتی اور ادا سے مسکراتی ہوئی اس قدر حسین لگتی تھیں کہ ان باتوں کو ہمیشہ سے مبالغہ آرائی سے زیادہ کچھ سمجھنے کی فرصت نہ ملی۔ پھر کسی نہ کسی بھارتی اداکارہ کی کاسمیٹک سرجری (اس زمانے میں ہمیں صرف پلاسٹک سرجری کا علم تھا) کی کہانیاں پڑھنے سننے کو ملنے لگیں۔ رہی سہی کسر بھارتی ڈراموں میں پلاسٹک سرجری کروا کر کرداروں کی شکلیں بدلنے کے ''نازک موڑ‘‘ نے پوری کر دی۔ اس ساری پریکٹس میں ہماری دلچسپی اس عمل میں بھٹکتی رہی جو انگلش فلم ''فیس آف‘‘ میں دیکھنے کو ملی۔ وقت کچھ آگے بڑھا اور ہمارے ہاں پرائیویٹ چینلز کی بھرمار میں مارننگ شوز کا مینا بازار سج گیا اور وہاں پہلی مرتبہ گورے پن کے انجیکشنز سے لے کر اصطلاح ''ایستھیٹک کلینک‘‘ سمجھنے کا 'قیمتی موقع‘ ملا۔
ذاتی طور پر ایمان ہے کہ خوبصورت دکھائی دینا ہر کسی کا بنیادی حق ہے اور اس سلسلے میں خاتون بغیر کوئی لحاظ رکھے خود بھی اپنی تصاویر کو ڈسپلے فوٹو بنانے سے قبل فلٹرز لگانے کا برملا اعتراف کرنے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتیں۔

 بات لیکن یہاں ٹھہرتی ہی تو نہیں ہے کیونکہ ہمیں اب ''قبول صورتی‘‘ کے ان پیمانوں پر پورا اترنے کی آسائش میسر ہے، جو ایک سماج یا معاشرے میں مخصوص سوچ کے آئینہ دار ہیں۔ مرد کا گنجا ہونا اب طعنہ نہیں گالی سمجھا جانے والا مسئلہ ہے، جس سے نجات فرض ہے، لڑکی کی ناک ستواں ہو، بال گھنے اور ریشمی چلیں گے، آنکھ اُٹھی ہوئی ہو (نگاہیں لیکن جھکی رہیں)، چہرے کے خد و خال دل آویز ہوں، ناخن کی بناوٹ اور لمبائی اتنی چاہیے، سمارٹ ویسٹ لائن اور توند کا فرق واضح رہے، مسکراہٹ کا ڈایا میٹر کتنا ہونا چاہیے، ڈیمپل ہو جائے تو کیا ہی بات ہے، گال بھرے ہوئے ہوں، بھنویں ایسی نہیں ویسی درکار ہیں، ہونٹ گلابی ہوں، دانت مادھوری جیسے ہوں، پلکیں قاتلانہ سیاہ ہوں اور پھر جسمانی ابھار تک بھی دوسروں کی ڈیمانڈ جیسے ہی ہوں، جلد چمکدار، مسام لاپتہ جبکہ رنگت ہمیشہ گلابی چاہیے۔ جسمانی ساخت اور شخصیت کو ہم معنی بنا دیا گیا ہے۔ ان سب کے علاوہ جو ایک رویہ انسانی جبلت کا حصہ بن چکا ہے وہ بڑھتی ڈھلتی عمر کے جسمانی اثرات کو ذہن پر سوار کیے ''ٹائم لیس بیوٹی‘‘ بننے میں زمین آسمان ایک کیے رکھنا ہے۔

مصنوعی لمبی پلکوں کے مضر اثرات


ایسا نہیں ہے کہ اس قسم کی مانگ نے دو ڈھائی عشروں پہلے جنم لیا ہے لیکن انڈسٹری کا روپ دھارنے سے قبل مارکیٹ میں ان حوالوں سے طلب اور چاہ کو نئی شکل دینے میں ہمارے ہاں الیکٹرانک میڈیا نے کتنا بڑا کردار ادا کیا ہے، یہ کوئی زیادہ پرانی داستان نہیں ہے۔
مسئلہ پاکستان میں کچھ الگ نوعیت اختیار کیے ہوئے ہے۔ سب سے پہلے تو یہاں ہر قسم کی میڈیکل سکروٹنی سے بچنے کی خاطر 'دکان‘  کے باہر بورڈ بیوٹی پارلر کا آویزاں کیا جاتا ہے لیکن اپنے کلائنٹس کے لیے یہ اب 'بیوٹی کلینکس‘ کے طور پر نام بنا رہے ہیں۔ ہر معاشی طبقے سے تعلق رکھتی خواتین جب کسی بھی شعبے کی کامیاب خواتین، خاص کر شوبز اور سیاست، کو دیکھتی ہیں تو دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ویسا ہی دکھائی دینا چاہتی ہیں کیونکہ وہ ایک معیار بن کر معاشرے میں نارملائز ہو رہا ہوتا ہے۔

 بہت مہنگے علاقوں میں سجے 'ایستھیٹک کلینک‘ سے لے کر درمیانے طبقے کو کم داموں میں انہی ناموں سے ملتی جلتی مختلف سروسز یا سہولیات مہیا کرنے میں ایک پوری انڈسٹری مصروفِ عمل ہیں۔ دوسرا پہلو اس سے زیادہ وحشت ناک ہے اور وہ ہے 'شاپنگ تھراپی‘ جو کہ بالآخر شوہرِ نامدار کو "راہِ راست" پر رکھنے کے لیے انہی ماہرین تک کا راستہ دکھاتی ہے جنہیں بِلز کی ادائیگی صاحب کے کریڈٹ کارڈز سے ہو رہی ہوتی ہے۔

 وہ سوچتا ہے کہ اچھا ہے دھیان کہیں اور لگا ہوا ہے اور یہ سمجھتی ہیں کہ کم عمر خواتین کے پیچھے خواری انجوائے کرتے مجازی خدا کو اسی طرح اپنی جانب مائل کیا جاسکتا ہے۔ ایک ان دیکھی سرفیس ٹینشن جس پر سوشل سرکل میں رشتہ چلائے رکھنے کا بلبلہ تیرتا رہتا ہے۔ اور اس سب میں آپ کو "خوبصورت اور جوان و پرکشش" بنانے والوں کا گھر کاروبار بھی چلتا رہتا ہے۔ حفظانِ صحت کے اصول پر پورا اترتے محفوظ انتظامات ہوں یا انجیکشن بردار "ماہر" کی معمولی غلطی سے اٹھنے والے جسمانی و نفسیاتی نقصان کا ہرجانہ، ایسی کوئی سہولت یہاں ہر دو جانب ثانوی اہمیت بھی نہیں رکھتی۔
پاکستان جیسا ملک جہاں کنزیومر پرائیویسی یا ذاتی معلومات کے تحفظ کی بنیادی سمجھ ہی جڑ نہیں پکڑ پائی، وہاں یہ سمجھنا کہ اب جو ایستھٹک کلینک اپنے کلائنٹس کو مساج سروس فراہم کر رہے ہیں، اس میں سب خیر اور سکون پنہاں ہے، دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ جب ملبوسات اور زیرِجامہ بیچنے والی مہنگی برانڈز کے ٹرائی رومز خفیہ کیمروں سے لیس پائے جائیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر کسٹمر کو اس کی ضرورت کے حساب کا "فوکسڈ مساج" دینے والے پیشے کا ایمان کھا کما رہے ہوں گے؟
وہ بڑے نام جو کہ اپنے عمل اور گفتگو سے لوگوں کو متاثر کرتے ہیں ان ہی کی ایک بڑی تعداد سماجی رویوں کو بہتر راہ دکھا کر انسانی زندگی کو آسان کرنے کے بجائے مارننگ شوز میں بیٹھ کر یا انسٹاگرام پر اکاؤنٹ کھول کر یا تو اپنا یا پھر اس کلینک کا بزنس بڑھا رہے ہیں، جو توثیقی پیغامات پر سپیشل ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں یا برانڈ ایمبسڈر ہی بنا رہے ہوں تو ہم جیسے عامی تو بچ جانے والے گنتی کے چند ناموں کو اس بھیڑ چال میں نہ گھسنے کی دعا ہی مانگ سکتے ہیں۔

کاسمیٹک سرجری وغیرہ کی مدد سے انسانی جسم کو ایک مقرر کردہ سماجی پیمانے کے سانچوں میں ڈھالنے کا عمل چاہے ذاتی پسند اور آزادی میں شمار ہوتا ہو لیکن یہی طے شدہ معیار کس طرح ذہانت، ٹیلنٹ، تعلیم، صحت مند سوچ اور بہتر عمل کو اہم سمجھ کر چلنے والوں کی چمکتی آنکھوں سے، دفتر سے لے کر لائف پارٹنر کے انتخاب تک، سارا اعتماد نچوڑنے میں حصہ دار بنتا ہے، شاید اس پر بات کرنا بھی اہم ہے۔ باقی تو یوں ہے کہ اگر آپ کے پاس وسائل ہیں اور فرصت بھی میسر ہو تو اپنی مرضی کے حساب کا خوبصورت دکھائی دینا آپ کا بنیادی حق ہے۔