پاکستان میں ایڈز: آلودہ سرنجیں بڑا سبب | صحت | DW | 23.03.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

پاکستان میں ایڈز: آلودہ سرنجیں بڑا سبب

بظاہر پاکستان میں صرف نو ہزار افراد ایچ آئی وی ’ایڈز‘ کے مریض ہیں تاہم انجیکشنوں کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور ماہرین اسے ایڈز کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک بہت بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

default

ٹیکوں کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں کو ’IDUs‘ کہا جاتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کے حوالے سے مرتب کرائے گئے ایک جائزے کے مطابق پاکستان کی 180 ملین کی آبادی میں سے چار لاکھ بیس ہزار افراد انجیکشنوں کے ذریعے نشہ اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں۔ انسداد منشیات کے قومی پروگرام ’NACP ‘ کے سید محمد جاوید نے نیوز ایجنسی آئی پی ایس کو بتایا: ’’متعدد IDUs ایک دوسرے کی ایچ آئی وی سے متاثرہ سرنجیں استعمال کرتے ہیں۔ ہمیں ڈر ہے کہ ان کے ذریعے ایڈز دیگر شہریوں تک بھی پہنچ سکتا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی ملک افغانستان میں ہیروئن کی آسانی سے دستیابی بھی پاکستانی شہروں کے لیے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے اور اس صورتحال سے متاثر ہونے والے شہروں میں خیبر پختونخوا کا صوبائی دارالحکومت پشاور بھی شامل ہے۔ ’’پشاور میں بیس فیصد IDUs میں ایچ آئی وی وائرس کی نشاندہی ہوئی ہے اور یہ ایک خطرناک صورتحال ہے‘‘۔ یہ جائزہ کینیڈا کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے’CIDA‘ کے تعاون سے مرتب کروایا گیا تھا۔

سید محمد جاوید مزید کہتے ہیں کہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ایک لاکھ سے زائد افراد ایچ آئی وی وائرس کا شکار ہیں۔ ’’2010ء میں عالمی بینک نے منشیات کے عادی اور ایڈز کے شکار افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے دی جانے والی امداد روک دی تھی کیونکہ یہ رقم سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی میں خرچ کی جا رہی تھی۔ اسی وجہ سے مسئلہ مزید گھمبیر ہو گیا‘‘۔

عالمی ادارہ صحت کے ایک ڈاکٹر عبدالحمید آئی ڈی یوز میں ایچ آئی وی وائرس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید پریشان ہیں۔ ان کے بقول ملک میں ایسے افراد کو منشیات سے چھٹکارا دلانے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی بھی پروگرام موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈبلیو ایچ او اور امدادی اداروں کا خیال تھا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی وائرس اُن افراد کی وجہ سے پھیل رہا ہے، جو متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں کام کرتے ہیں اور چھٹیاں گزارنے یا اپنے بال بچوں سے ملنے پاکستان آتے ہیں۔

’’حال ہی میں ڈبلیو ایچ او کے ایک جائزے نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں ایڈز انجیکشنوں کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں کی وجہ سے بڑھ رہا ہے اور اس صورتحال کے تدارک کے لیے زیادہ سے زیادہ خصوصی تھیراپی مراکز قائم کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ پاکستان میں آج کل ART کہلانے والے اس طرح کے 13 مراکز قائم ہیں، جن میں اب تک پانچ ہزار افراد کا علاج کیا جا چکا ہے۔

اس جائزے کے مطابق پاکستان میں منشیات کے عادی تقریباً چار ملین افراد بھنگ یا گانجا استعمال کرتے ہیں۔ نشے کے عادی افراد میں سے صرف ایک فیصد افیون اور ہیروئن استعمال کرتے ہیں اور ان کی ایک بڑی تعداد کا تعلق افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقوں سے ہے۔