پاکستان: معلومات تک رسائی کا قانون، کون سی حکومت کتنی شفاف | حالات حاضرہ | DW | 28.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان: معلومات تک رسائی کا قانون، کون سی حکومت کتنی شفاف

پاکستان میں عام شہریوں کو بنا مانگے اور ازخود معلومات کی فراہمی میں خیبر پختونخوا کی حکومتی کارکردگی شفاف ترین اور وفاقی حکومت کی کارکردگی سب سے کم شفاف ہے۔ پنجاب حکومت دوسرے اور سندھ حکومت تیسرے نمبر پر ہے۔

یہ بات ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں سامنے آئی ہے، جسے انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی اینڈ ڈویلپمنٹ (IRADA) نے تیار کیا ہے۔ یہ رپورٹ انٹرنیشنل رائٹ ٹو انفارمیشن ڈے کے سلسلے میں تیار کی گئی ہے، جو ہر سال اٹھائیس ستمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان میں وفاقی اور تین صوبائی حکومتوں کی کارکردگی میں شفافیت کی درجہ بندی وفاق اور تین صوبوں میں رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین میں شامل یکساں شقProactive Disclosure of Information کے تحت کی گئی ہے۔

کے پی کے شفاف ترین

یہ شق ان چاروں رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین میں شامل ہے، جن کے تحت وفاقی حکومت کے تمام سرکاری ادارے 43 اقسام کی اطلاعات ازخود اپنی ویب سائٹس پر جاری کرنے کے پابند ہیں جبکہ خیبر پختونخوا حکومت 30 اقسام، سندھ حکومت 25 اور پنجاب حکومت 24 اقسام کی اطلاعات کی فراہمی کی پابند ہیں۔ یہ شق ان تمام قوانین میں شفافیت کا حکومتوں پر ازخود لاگو ہونے والا اشاریہ ہے۔
بلوچستان اس درجہ بندی میں شامل کیوں نہیں؟
بلوچستان میں رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون ابھی موجود نہیں، اس لیے یہ صوبہ اس رینکنگ مں شامل نہیں ہے۔ اس تحقیق میں کئی دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ وفاقی حکومت کی وزارت اطلاعات و نشریات 53 فیصد نمبروں کے ساتھ پاکستان کا شفاف ترین سرکاری ادارہ ہے جبکہ وزارت داخلہ 26 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے کم شفاف وفاقی محکمہ ہے۔

محکموں کی صورتحال

سی طرح خیبر پختونخوا میں بھی محکمہ اطلاعات 89 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے ہے جبکہ محکمہ داخلہ اور محکمہ قبائلی معاملات 47 فیصد نمبروں کے ساتھ اپنی کارکردگی کی شفافیت میں سب سے نیچے ہیں۔ اسی طرح پنجاب میں بھی اطلاعات و ثقافت کا محکمہ 83 فیصد پوائنٹس کے ساتھ شفاف ترین ہے جبکہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ 37 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے کم شفاف سرکاری محکمہ ہے۔ سندھ میں اسی طرز‍ کی شفافیت کے لحاظ سے وزارت خزانہ 53 فیصد پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے جبکہ محکمہ اطلاعات 21 فیصد نمبروں کے ساتھ سے سب پیچھے ہے۔
اس رینکنگ کے مطابق وفاقی اور تین صوبائی حکومتوں کے تمام سرکاری محکموں میں سے خیبر پختونخوا کا محکمہ اطلاعات 89 فیصد نمبروں کے ساتھ پورے ملک کے شفاف ترین سرکاری ادارے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کے برعکس وفاقی محکمہ داخلہ صرف 26 فیصد پوائنٹس کے ساتھ ازخود اطلاعات کی فراہمی کے حوالے سے ملک کاسب سے کم شفاف سرکاری ادارہ نکلا۔

جنرل اسمبلی سے عمران خان کا خطاب، پھر مودی حکومت پر تنقید

فوج نواز بل پر کئی حلقوں کو تشویش

پاکستانیوں کے لیے’ہائبرڈ نظام حکومت‘ کی خوشخبری

وفاقی اور صوبائی انفارمیشن کمیشن
پاکستان میں اس وقت نافذ چاروں رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وفاق اور تینوں صوبوں میں متعلقہ انفارمیشن کمیشن قائم ہیں، جن کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی طرف سے حکومتوں سے طلب کردہ اطلاعات فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں مداخلت کر کے متعلقہ اداروں سے مطلوبہ اطلاعات زبردستی شہریوں کو دلوانا ہے۔

انفارمیشن کمیشنوں کی کارکردگی

اس رپورٹ میں چاروں انفارمیشن کمیشنوں کی انفرادی کارکردگی میں شفافیت کا تقابلی جائزہ بھی شامل ہے۔ اس تقابلی جائزے کے مطابق خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن ازخود اطلاعات کی فراہمی کے اشاریے کے تحت سو فیصد پوائنٹس کے ساتھ سر فہرست ہے جبکہ 89 فیصد نمبروں کے ساتھ پنجاب انفارمیشن کمیشن دوسرے نمبر پر اور وفاقی انفارمیشن کمیشن 63 فیصد پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن کے پوائنٹس اس لیے صفر رہے کہ اس کی اب تک ویب سائٹ ہی نہیں بنی۔
قوانین اور پالیسی ایک ہی، لیکن نتائج متضاد
'ارادہ' کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر آفتاب عالم نے اس رینکنگ کے بارے میں ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا، ‘‘دلچسپ بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کی مجموعی کارکردگی باقی تمام حکومتوں سے اچھی ہے جبکہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سب سے بری ہے، حالانکہ پشاور اور اسلام آباد میں ایک ہی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حکومتیں ہیں۔ تو ثابت یہ ہوا کہ اطلاعات تک رسائی کی پالیسی تو ایک ہے مگر نتائج بالکل متضاد۔ اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ قوانین اور پالیسی یکساں ہونے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک پارٹی کے طور پر شفافیت شاید کوئی ترجیح نہیں ہے۔‘‘
آفتاب عالم کے مطابق جن وفاقی یا صوبائی محکموں نے اوسطاﹰ اچھی کارکردگی اور شفافیت کا مظاہرہ کیا، ان کی مجموعی کارکردگی میں بھی زیادہ شفافیت کے لیے ابھی بہتری کی کافی زیادہ گنجائش موجود ہے۔

'شہریوں کو ان قوانین کا زیادہ استعمال کیوں کرنا چاہیے‘

رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے میڈیا رائٹس پر کام کرنے والی تنظیم فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''عام شہری اگر اس قانون کا استعمال زیادہ کریں تو حکومتوں پر عوام دوست پالیسیوں کے لیے زیادہ دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔‘‘ اقبال خٹک نے اس کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اس سال فروری میں وفاقی رائٹ ٹو انفارمیشن قانون کے تحت انہوں نے کابینہ ڈویژن کو درخواست دے کر پوچھا تھا کہ تب تک موجودہ حکومت کی وفاقی کابینہ کے کتنے اجلاس ہوئے تھے اور ان میں صحافیوں کے تحفظ کے موضوع پر کتنی بار بات چیت ہوئی تھی؟ بار بار کی کوششوں کے باوجود جب انہیں یہ فراہم نہ کی گئیں، تو انہوں نے فیڈرل انفارمیشن کمیشن کو شکایت کر دی تھی، جس نے کابینہ ڈویژن کو مطلوبہ اطلاعات کی فراہمی کا حکم جاری کیا تو یہ اطلاعات مہیا کر دی گئی تھیں۔

یوں یہ حقیقت سامنے آئی کہ موجودہ حکومت کے قیام سے لے کر فروری 2020 تک وفاقی کابینہ کے کل 62 اجلاس ہوئے تھے، مگر ان میں ایک بار بھی صحافیوں کے تحفظ کے قانون کے مطالبے پر گفتگو نہیں کی گئی تھی۔ اقبال خٹک کے بقول، ‘‘ان معلومات کی فراہمی کے بعد ہی کابینہ ڈویژن نے ہمیں اضافی معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ اطلاعات کی فراہمی کی درخواست کے بعد کابینہ کے ایک اجلاس میں صحافیوں کے تحفظ کو بھی ایجنڈا مین شامل کیا گیا، اس پر گفتگو ہوئی اور کافی عرصے سے التوا میں پڑے ہوئے صحافیوں کے تحفظ کے مجوزہ بل کی اصولی منظوری دے دی گئی۔ اس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اسی سال اپریل میں اپنی ایک ٹویٹ میں وعدہ بھی کیا کہ صحافیوں کے تحفظ کا بل جلد ہی پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔‘‘


فیڈرل انفارمیشن کمشنر زاہد عبداللہ کا موقف

وفاقی انفارمیشن کمشنر زاہد عبداللہ نے اس موضوع پر ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ''وفاقی اور صوبائی رائٹ ٹو انفارمیشن قوانین طویل جدوجہد کے بعد بنے۔ ان کی افادیت اسی صورت ممکن ہے، جب زیادہ سے زیادہ شہری ان کو استعمال کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے اطلاعات کی فراہمی کی درخواست بھی کریں۔ حکومتی محکموں اور اداروں کی کارکردگی میں شفافیت اسی طرح رواج پائے گی۔ ہر طرح کے بنیادی انسانی اور شہری حقوق کا تحفظ اسی صورت ممکن ہے جب شہریوں کو معلومات تک رسائی بھی بلا تاخیر اور با آسانی حاصل ہو گی۔‘‘

پاکستان میں وفاقی حکومت کے محکموں کی کارکردگی میں شفافیت کی صورت حال خیبر پختونخوا کی حکومتی کارکردگی کے مقابلے میں بری کیوں ہے؟ اس بارے میں زاہد عبداللہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''خیبر پختونخوا میں تو یہ قانون 2013 میں بن گیا تھا، سات سال پہلے۔ مگر وفاقی سطح پر یہ قانون 2017 میں بنا اور نومبر 2018 میں اس پر باقاعدہ عمل شروع ہوا۔ اس لیے کارکردگی میں یہ فرق بھی قابل فہم ہے۔ یہ بات بھی ہے کہ جب کوئی نیا ادارہ بنتا ہے، تو پہلے سال اسے عموماﹰ بجٹ نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ بھی کئی طرح کے مسائل ہوتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ اس طرح کی رپورٹیں جاری کی جاتی رہیں، تاکہ سول سوسائٹی بھی اپنا کام کرتی رہے اور سرکاری اداروں کی خود احتسابی کا عمل بھی جاری رہے۔‘‘