پاکستان: ′مذہبی آزادی کی خلاف ورزی′ پر امریکی رپورٹ مسترد | حالات حاضرہ | DW | 19.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان: 'مذہبی آزادی کی خلاف ورزی' پر امریکی رپورٹ مسترد

امریکا نے 'مذہبی آزادی کی خلا ف ورزی کرنے والے' ملکوں میں پاکستان کا نام برقرار رکھا ہے جبکہ سفارشات کے باوجود بھارت کا نام اس میں شامل نہیں کیا۔ پاکستان نے امریکی رپورٹ کو 'زمینی حقائق کے برخلاف' قرار دیا ہے۔

پاکستان نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کے حوالے سے امریکی وزارت خارجہ کی تازہ ترین رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان نے اس جائزے کو 'یک طرفہ' قرار دیا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی وزارت خارجہ کا جائزہ "زمینی حقائق کے یکسر خلاف" اور" یکطرفہ" ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، "امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن کے بیان اس طرح کے جائزے کی معتبریت پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ کسی ملک پر اس طرح انگلی اٹھانے سے دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے کاز کو فروغ دینے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔"

پاکستان دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا، "ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ عدم رواداری، تفریق، دیگر اقوام سے منافرت اور اسلاموفوبیا کے خلاف کی جانے والی عالمی کوششیں باہمی تعاون اور باہمی افہام کے اصولوں پر مبنی ہونی چاہیئں۔"

خیال رہے کہ امریکا نے پاکستان کو 2018 میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

 رپورٹ میں کیا ہے؟

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلینکن نے گزشتہ روز مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ملکوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ہر ملک میں مذہب یا عقیدے کی آزادی کی وکالت کرنے کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 انٹونی بلنکن کا کہنا تھا، "میں برما، چین، اریٹیریا، ایران، شمالی کوریا، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان اور ترکمانستان کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں سے متعلق خصوصی تشویش والے ممالک (سی پی سی) کی فہرست میں شامل کر رہا ہوں۔" ان کا مزید کہنا تھا، "میں الجزائر، کوموروس، کیوبا اور نکاراگوا کو ان حکومتوں کے لیے خصوصی واچ لسٹ میں بھی شامل کر رہا ہوں جو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث رہی ہیں۔"

انہوں نے الشباب، بوکو حرام، حیات تحریر الشام، حوثی، داعش، آئی ایس آئی ایس- گریٹر صحارا، داعش- مغربی افریقہ، جماعت نصر الاسلام والمسلمین اور طالبان کو بھی خاص تشویش کی تنظیموں کے طور پر نامزد کیا ہے۔

سی پی سی کی فہرست میں ان ممالک کو رکھا جاتا ہے جہاں 'مذہبی آزادی کی منظم، اور مسلسل سنگین خلاف ورزیاں 'ہو رہی ہوں۔ انٹونی بلینکن کا کہنا تھا کہ ہم تمام حکومتوں پر دباؤ ڈالتے رہیں گے کہ وہ اپنے قوانین اور طرز عمل میں خامیوں کو دور کریں اور بدسلوکی کے ذمہ داروں کے لیے احتساب کو فروغ دیں۔

بھارت فہرست میں شامل نہیں

امریکی وزارت خارجہ مذہبی آزادی کے حوالے سے خصوصی تشویش والے ممالک کی فہرستیں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سفارشات پر مرتب کرتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ مذکورہ کمیشن نے بھارت کا نام بھی اس فہرست میں شامل کرنے کی تجویز دی تھی لیکن اس کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے بھارت کا نام فہرست میں شامل نہیں کیا۔ کمیشن نے اس حوالے سے بالخصوص لنچنگ کے واقعات، دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اور متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کا ذکر کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بائیڈن انتظامیہ بھارت کو ایک اہم شریک کار کے طور پر دیکھتی ہے اور غالباً یہی وجہ ہے کہ اس نے بھارت کو سی پی سی ملکوں کی فہرست میں شامل نہیں کیا۔

دوسری طرف کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ''حکومت نے منظم انداز میں توہین مذہب اور احمدی مخالف قوانین پر عمل درآمد کیا اور مذہبی اقلیتوں کو غیر ریاستی عناصر سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔"

 ج ا/ ص ز  (ایجنسیاں)

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات