1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان مؤثر امریکی ایرانی مکالمت کی میزبانی کے لیے دباؤ میں

مقبول ملک (ہارون جنجوعہ، اسلام آباد)
31 مارچ 2026

پاکستان ایسے وقت پر ایران جنگ میں ثالثی کی کوششوں میں ہے، جب تنازعے کے پھیل کر علاقائی جنگ بن جانے کے خدشے سے معیشت اور سلامتی دونوں کو خطرہ ہے۔ ایک طویل علاقائی جنگ پاکستانی معیشت اور سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ ہو گی۔

https://p.dw.com/p/5BQzn
دائیں سے بائیں: امریکی صدر ٹرمپ، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ وائٹ ہاؤس میں لی گئی ایک تصویر
دائیں سے بائیں: امریکی صدر ٹرمپ، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر۔ وائٹ ہاؤس میں لی گئی ایک تصویرتصویر: Government of Pakistan

فروری کی 28 تاریخ کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے ساتھ شروع ہونے والی اور اب تک جاری ایران جنگ میں پاکستان سفارتی سطح پر بطور ثالث اپنی کوششیں تیز تر کر چکا ہے اور اس مقصد کے لیے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ اپنے اسٹریٹیجک تعلقات کو اسلام آباد اپنی سفارتی کامیابی کی سیڑھی بنانا چاہتا ہے۔

ٹرمپ کا ایرانی جزیرے خارگ کے آئل ٹرمینل پر قبضے پر غور

گزشتہ اتوار 29 مارچ کے روز اسلام آباد میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اس جنگ میں ثالثی کوششوں کے حوالے سے جو مشاورتی اجلاس ہوا، اس میں تہران اور واشنگٹن کے مابین ممکنہ مذاکرات کے لیے راہ ہموار کرنے پر تبادلہ خیال تو کیا گیا، تاہم اس جنگی تنازعے کی شدت میں کمی کے تاحال کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

اسلام آباد میں اس چار ملکی وزراتی اجلاس کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے یہ بات بہرحال کھل کر کہی تھی، ''پاکستان کے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہو گی کہ وہ امریکہ اور ایران کے مابین آئندہ دنوں میں بامعنی مذاکرات میں مدد کرتے ہوئے اس مکالمت کی میزبانی کر سکے۔‘‘

دائیں سے بائیں: مصر، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ اسلام آباد اجلاس میں مشاورت کرتے ہوئے
دائیں سے بائیں: مصر، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ اسلام آباد اجلاس میں مشاورت کرتے ہوئےتصویر: Muammer Tan/Turkish Foreign Ministry/REUTERS

اسحاق ڈار نے کوئی تفصیلات بتائے بغیر کہا تھا، ''پاکستان اس بارے میں بہت خوش ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں نے ہی ان مذاکرات میں معاونت کے لیے پاکستان پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔‘‘

مذاکرات براہ راست یا بالواسطہ؟

ان ممکنہ امریکی ایرانی مذاکرات کے بارے میں ابھی تک یہ پہلو غیر واضح ہے کہ آیا یہ بات چیت براہ راست ہو گی یا بالواسطہ؟ اس کے علاوہ تہران اور واشنگٹں دونوں میں سے کسی نے بھی خاص طور پر یہ تصدیق بھی نہیں کی کہ یہ مکالمتی کوششیں لازمی طور پر آگے بڑھیں گی۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں جاری کیے جانے والے اور تاحال اپنے متضاد بیانات میں دونوں ہی ممالک ان مذاکراتی کوششوں سے متعلق مختلف دعوے کر رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین شدید سرحدی فائرنگ کا تبادلہ

ایران اس سے قبل ممکنہ جنگ بندی کے لیے امریکہ کے تجویز کردہ اس 15 نکاتی امن منصوبے کو رد کر چکا ہے، جو تہران تک واشنگٹن کی طرف سے اسلام آباد نے پہنچایا تھا۔ تہران نے اس امریکی پلان کو ''مبالغہ آمیز، نامناسب اور غیر حقیقت پسندانہ‘‘ قرار دیا تھا۔

اسلام آباد اجلاس کے موقع پر میزبان ملک پاکستان اور سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ایک گروپ فوٹو
اسلام آباد اجلاس کے موقع پر میزبان ملک پاکستان اور سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کی ایک گروپ فوٹوتصویر: Muammer Tan/Turkish Foreign Ministry/REUTERS

ان امن تجاویز میں ایران سے دیگر باتوں کے ساتھ ساتھ یہ امریکی مطالبات بھی کیے گئے تھے کہ تہران اپنا یورینیم کی افزودگی کا پروگرام مکمل طور پر ختم کر دے، اپنی جوہری تنصیبات منہدم کر دے اور ساتھ ہی خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کو معمول کی تجارتی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھول دے۔

ایرانی وزارت خارجہ کا موقف

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کل پیر 30 مارچ کو ایک بریفنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔

اسماعیل بقائی کے الفاظ میں، ''ہم نے ابھی تک کوئی براہ راست بات چیت نہیں کی۔‘‘

پاکستان میں ایران جنگ سے متعلق مذاکرات، آبنائے ہرمز پر توجہ

اس ایرانی موقف کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں اپنے طور پر بار بار کہتے رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات میں ''پیش رفت‘‘ ہو رہی ہے۔ مگر پھر اپنی پیر کی رات ایک تازہ سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران کے ساتھ کوئی ''ڈیل‘‘ بہت جلد طے نہ پائی اور ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ نہ کھولا،تو امریکہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو تباہ کر کے رکھ دے گا۔

تہران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہی
تہران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں سے ہونے والی تباہیتصویر: Morteza Nikoubazl/NurPhoto/picture alliance

پاکستان توازن قائم کرنے کی کوشش میں

ان حالات میں اپنی ثالثی کوششیں جاری رکھتے ہوئے پاکستانی حکومت کا ہدف یہ ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ اپنے بہت اچھے سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کسی جنگ بندی معاہدے کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جائے۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی تجزیہ کار رضا رومی نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پاکستان کی اگر توانائی کی سپلائی اور تارکین وطن پاکستانیوں کی طرف سے وطن بھیجی جانے والی رقوم کو دیکھا جائے، تو اسلام آباد کا خلیجی عرب ممالک پر اقتصادی انحصار ناقابل تردید ہے۔ اسی لیے ایرانی امریکی تنازعہ براہ راست پاکستانی معیشت کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے۔‘‘

ٹرمپ ٹیرفس، بند سرحدیں اور تعطل کا شکار جنوبی ایشیائی تجارت

دوسری طرف پاکستان کے لیے یہ بھی ناگزیر ہے کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں میں بڑی احتیاط سے کام لے۔ اس وجہ سے کہ ایک طرف تو اس نے سعودی عرب کے ساتھ بھی ایک دفاعی معاہدہ کر رکھا ہے اور دوسری طرف اس کے ایران کے ساتھ نہ صرف قریبی ثقافتی تعلقات ہیں بلکہ ایک ہمسائے کے طور پر پاکستان کی قریب 900 کلومیٹر (559 میل) طویل زمینی سرحد بھی ایران سے ملتی ہے۔

وسطی اسرائیل میں ایک ایرانی ڈرون حملے کے بعد فضا سے لی گئی ایک تصویر
وسطی اسرائیل میں ایک ایرانی ڈرون حملے کے بعد فضا سے لی گئی ایک تصویرتصویر: Roei Kastro/REUTERS

رضا رومی کے مطابق، ''پاکستان اپنی ثالثی کوششوں سے نہ صرف خود کو استحکام کی ترویج کے لیے فعال کردار کے طور پر پیش کر رہا ہے، بلکہ دوسری طرف وہ خود کو ان منفی اثرات سے بھی بچانا چاہتا ہے، جس کا اسلام آباد کو اس جنگ کے پھیل کر علاقائی تنازعہ بن جانے کی صورت میں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘‘

پاکستانی امریکی تعلقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دوران اسلام آباد اور واشنگٹن کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ دو مرتبہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کر چکے ہیں جبکہ پاکستانی وزیر اعظم سے بھی ان کی مجموعی طور پر متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو ایک سے زائد مرتبہ عاصم منیر کو ''میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ بھی قرار دے چکے ہیں۔

پاکستان پیر کو مشرقِ وسطیٰ جنگ پر مذاکرات کی میزبانی کرے گا، دفتر خارجہ

پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
پاکستانی وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈارتصویر: Lev Radin/Sipa USA/picture alliance

اس تناظر میں ماضی میں اٹلانٹک کونسل نامی تھنک ٹینک اور مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ رہنے والی اور پاکستانی ایرانی تعلقات سے جڑے امور کی ماہر فاطمہ امان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے، جن کی بات تہران اور واشنگٹن دونوں ہی توجہ سے سنتے ہیں۔

امریکہ ایران کشیدگی میں پاکستان غیرمتوقع ثالث مگر کیسے؟

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران جنگ ختم کرانے کے لیے اس وجہ سے بھی بہت فعال ہے کہ وہ اس تنازعے کے اپنے ہاں ممکنہ داخلی سماجی اور سیاسی نتائج سے بھی بچنا چاہتا ہے۔

فاطمہ امان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''پاکستان کو جلدی اس وجہ سے بھی ہے کہ ایران میں عدم استحکام براہ راست پاکستان کو متاثر کرے گا، خاص طور پر صوبے بلوچستان میں سلامتی کی صورت حال کے لحاظ سے اور انرجی سکیورٹی کے ساتھ ساتھ مجموعی داخلی استحکام  کے حوالے سے بھی۔‘‘

ادارت: شکور حیم

ایران جنگ: پاکستان کی امن کوششیں اور بھارت کی مایوسی؟

Maqbool Malik, Senior Editor, DW-Urdu
مقبول ملک ڈی ڈبلیو اردو کے سینیئر ایڈیٹر ہیں اور تین عشروں سے ڈوئچے ویلے سے وابستہ ہیں۔