پاکستان: لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کا بل مسترد | معاشرہ | DW | 12.10.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کا بل مسترد

پاکستان میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے ملک میں لڑکیوں کی شادی کی عمر کی حد بڑھائے جانے والے مسودہ قانون کو مسترد کیے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔ اب اس مسئلے پر اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے طلب کی گئی ہے۔

یہ بل سینیٹر سحر کامران نے پیش کیا تھا، جس میں تجویز دی گئی تھی کہ لڑکیوں کے لئے شادی کی عمر سولہ سے بڑھا کر اٹھارہ برس کر دینی چاہیے۔ تاہم یہ بل کل بروز بدھ جب سینیٹ کی کمیٹی برائے داخلہ و انسدادِ منشیات کے سامنے پیش ہوا تو اسے مسترد کر دیا گیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے اسد بٹ نے بل کے مسترد کئے جانے پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی عدالتِ عالیہ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر سے کم لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا زنا بالجبر ہوگا۔ جب کہ ہمارے یہاں سینیٹ کی کمیٹی شادی کے لئے اٹھارہ سال کی عمر کو غیر اسلامی قرار دے رہی ہے۔ یہ بہت افسوناک بات ہے۔کیا اس ملک میں بقیہ سارے کام اسلامی ہو رہے ہیں؟ ہمیں اس بل کے مسترد کئے جانے پر تشویش ہے اور ہم حکومتہ رہنماؤں سے اس سلسلے میں ملاقات کریں گے اور ان کو اس بل کی حمایت پر قائل کرنے کی کوشش کر یں گے۔‘‘
انہوں نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ سندھ میں بھی تو پی پی پی کی حکومت ہے لیکن وہاں تو قانون منظور ہو چکا ہے کہ شادی کے لئے لڑکی کی کم از کم عمر اٹھارہ برس ہونی چاہیے،’’مرکز میں ان کے سینیٹرز نے کیسے اس کو مسترد کر دیا۔ یہ تو دوہرا معیار ہے۔ ہم پی پی پی قیادت سے بھی اس سلسلے میں رابطہ کریں گے اور اس بل کے مسترد کئے جانے پر ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔‘‘

چائلڈ میرج بِل ’غیر اسلامی‘ ہے، اسلامی نظریاتی کونسل
نیشنل کمیشن ہیومن رائٹس کی رکن انیس ہارون نے اس بل کے مسترد کئے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس بل کو مسترد کر کے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجنے کی کیا ضرورت تھی؟ کونسل کے کچھ ارکان تو نو سال کی بچی کی بھی شادی کروانے کے لئے تیار ہیں۔ ان کے نظریات کا سب کو علم ہے۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے حوالے سے جدید بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کا مطالعہ نہیں کیا۔ تو سب کو معلوم ہے کہ وہاں سے کیا رائے آئے گی۔ لہذا پارلیمنٹ کو چاہیے کہ وہ خود اس مسئلے پر بحث کرے۔ آخر پارلیمنٹ ملک کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے اور وہ اس مسئلے پر قانون سازی کر سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ اٹھارہ سال کی حد مقرر کرنے میں حرج ہی کیا ہے،’’آپ کے یہاں ووٹ ڈالنے کے لئے عمر کی حد اٹھارہ ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس اٹھارہ سال والے کو ملتا ہے۔ شناختی کارڈ بھی آپ کو اس وقت ہی ملتا ہے جب آپ اٹھارہ برس کے ہو جاتے ہیں۔ پاکستان بچوں کے حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی معاہدے کا دستخط کنندہ ہے اور اس بل کا مسترد کیا جانا اس معاہدے کی صریحاﹰ خلاف ورزی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا اس ماہ کے آخر میں سینیٹ کی ہیومن رائٹس کمیٹی کا اجلاس ہوگا، جہاں ان کا کمیشن اس مسئلے کو اٹھائے گا۔

کم سِنی میں ماں بننے والی لڑکیوں کے مسائل
پی پی پی کے سینیٹر تاج حیدر نے اس مسئلے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ لڑکی کی شادی کی عمر اٹھارہ برس ہونی چاہیے اور یہ کہ پی پی پی کی اس حوالے سے بڑی واضح لائن ہے،’’اس ملک میں مذہب اب کسی شخص کا نجی مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس پر مولوی صاحبان کی اجارہ داری ہے۔ رحمان ملک صاحب نے جو کہا وہ ان کی اپنی رائے نہیں تھی بلکہ انہوں نے وہ کہا جو انہیں مختلف علماء نے بتایا۔ ملک صاحب نے سینیٹ میں تیس دن مانگیں ہیں، تو بل ابھی مسترد نہیں ہوا۔‘‘
تاہم سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کے رکن شاہی سید نے اس بات کی تصدیق کی کہ بل کو مسترد کر دیا گیا ہے، ’’میں اجلاس میں موجود تھا۔ گو کے میں تھوڑا جلدی چلا گیا تھا لیکن میں اس بات کی تصدیق کر سکتا ہوں کہ اس بل کو مسترد کر دیا گیا ہے اور اس کو اسلامی نظریانی کونسل میں بھیج دیا گیا ہے تاکہ اس مسئلے پر کونسل کی رائے معلوم کی جا سکے۔‘‘

DW.COM

اشتہار