پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے، کرزئی | حالات حاضرہ | DW | 04.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے، کرزئی

افغان صدر حامد کرزئی نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ افغان حکومت اور طالبان باغیوں کے مابین جاری مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے۔

default

افغانستان کے بارے میں بون انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کی غرض سے جرمنی کا دورہ کر رہے افغان صدر نے ہفت روزہ جریدے ڈیئر شپیگل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی حکومت ابھی تک کابل اور طالبان باغیوں کے مابین ہونے والے امن مذاکرات میں تعاون کرنے سے انکار کر رہی ہے‘۔ افغان صدر کا یہ انٹرویو پیرکو اس جریدے کے تازہ شمارے میں شائع ہو گا۔

جرمن شہر بون میں پیر سے افغانستان سے متعلق ایک خصوصی عالمی کانفرنس کا آغاز ہو رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں واقع دو سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے ہلاکت خیز فضائی حملے کے نتیجے میں اسلام آباد حکومت نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ تاہم خبر ایجنسی اے ایف پی نے جرمن وزارت خارجہ کے ذارئع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس کانفرنس میں ہونے والی پیشرفت سے پاکستانی حکام کو مطلع رکھا جائے گا۔

بون کانفرنس کے دوران عالمی برادری افغانستان میں تعینات غیر ملکی افواج کے آئندہ مکمل انخلاء کے بعد کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کرے گی۔ تاہم اس کانفرنس میں پاکستان کی عدم موجودگی کے باعث اس کی ممکنہ کامیابی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ ناقدین کے بقول پاکستان کی مدد کے بغیر افغانستان میں قیام امن کے لیے کسی روڈ میپ کا تعین کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو گا۔

افغان صدر حامد کرزئی نے عالمی برادری سے اپیل بھی کی کہ وہ 2014ء کے بعد بھی شورش زدہ ملک افغانستان کی مدد جاری رکھے۔ 2014ء کے اواخر تک افغانستان میں تعینات تمام غیر ملکی افواج کا انخلاء مکمل ہو جائے گا اور وہاں سکیورٹی کی تمام تر ذمہ داریاں افغان فورسز کو سونپ دی جائیں گی۔

افغان صدر حامد کرزئی نے ڈیئر شپیگل کو بتایا، ’اگر ہم افغان جنگ میں ناکام ہوجاتے ہیں تو ہم سب کو خطرہ لاحق ہو جائےگا اور ہم نائن الیون سے پہلی والی صورتحال میں پہنچ جائیں گے‘۔

حامد کرزئی نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری جنگ کے بعد بھی افغان سکیورٹی فورسز عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانےکے قابل نہیں ہوئی ہیں، ’یہ ہماری ایک بڑی ناکامی ہے‘۔

Flash-Galerie Demonstration gegen Afghanistan Konferenz

ہفتہ کے دن جرمن شہر بون میں منعقد کیے گئے احتجاجی مظاہرے کی ایک تصویر

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان کا ساتھ نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں حقوق نسواں کو یقینی بنانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے بون کانفرنس میں پاکستان کی عدم شرکت پر ایک مرتبہ پھر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے باعث پاکستان کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا۔

بون کانفرنس میں 100 سے زائد ملکوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے حصہ لیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر ہفتہ کے دن بون شہر میں منعقد کیے گئے ایک احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یہ مظاہرین افغانستان میں جرمن فوج کی تعیناتی کے خلاف بھی آواز بلند کر رہے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس