پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین کی مالی مدد میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 14.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سے واپس جانے والے افغان مہاجرین کی مالی مدد میں اضافہ

پاکستان میں مقیم قریب پندرہ لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین میں سے اپنے وطن لوٹنے والوں کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے دی جانے والی مالی مدد میں اضافہ کر کے یہ رقم تقریباﹰ چار سو ڈالر فی کس کر دی گئی ہے۔

ان رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو افغانستان واپسی کی صورت میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کی جانب سے دی جانی والی یہ فی کس رقم پہلے ڈیڑھ سو ڈالر تھی، جسے بڑھا کر پہلے دو سو امریکی ڈالر اور اب قریب چار سو ڈالر کر دیا گیا ہے، تاکہ یہ مہاجرین واپس اپنے وطن جا کر معاشی طور پر کچھ مستحکم ہو سکیں۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرین کے اس اقدام کے بعد رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی بڑی تعداد بخوشی واپس جانے پر تیار ہے کیونکہ اگر کوئی خاندان آٹھ افراد پر مشتمل ہو، تو اسے یو این ایچ سی آر کی جانب سے بتیس سو ڈالر تک ملیں گے، جو افغانستان جا کر وہاں کسی کاروبار کے آغاز کے لیے کم نہیں ہیں۔ لیکن دوسری جانب غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین، جن کی تعداد بھی لگ بھگ رجسٹرڈ مہاجرین جتنی، یعنی قریب ڈیڑھ ملین بنتی ہے، مزید پریشانیوں سے دوچار ہوتے جا رہے ہیں۔

Javed Khan, a non-registered Afghan refugee

ایک اکیس سالہ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرجاوید خان نے، جس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور جو اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے

ایک اکیس سالہ غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرجاوید خان نے، جس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور جو اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے، ڈوئچے ویلے کو ایک انٹرویو میں بتایا، ’’اب پاکستانی حکومت ہمیں زبردستی واپس بھیج رہی ہے۔ پہلے آنے دیا اور اب کہتے ہیں کہ واپس جاؤ۔ ہم غریب لوگ ہیں کچھ بھی نہیں ہمارے پاس۔ یو این ایچ سی آر رجسٹرڈ مہاجرین کو تو ساڑھے تین سو ڈالر فی کس تک دے رہا ہے، لیکن ہمیں کچھ نہیں دیا جا رہا۔ حکومت پاکستان بھی اب ہمیں رجسٹر نہیں کر رہی۔ ہم بھی واپس جانا چاہتے ہیں۔ یہاں ہم بہت تنگی میں ہیں، لیکن ہم واپس جائیں کیسے؟‘‘

جاوید خان نے پاکستانی پولیس کے رویے کی شکایت کرتے ہوئے کہا، ’’اس وقت غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کا سب سے بڑا مسئلہ پاکستانی پولیس ہے، جو ہمیں بہت تنگ کر رہی ہے۔ ہر بار پکڑے جانے پر کم سے کم دو تین ہزار روپے رشوت لیتی ہے پولیس۔ رشوت نہ دیں تو زبردستی طورخم بارڈر پر پہنچا دیتی ہے۔ ہم میں سے اکثر اپنے اپنے گھرانوں کے واحد کفیل ہیں۔ پھر چوری چھپے واپس آ جاتے ہیں۔ افغانستان واپسی کے لیے کم سے کم پچیس ہزار روپے ٹرک والے مانگتے ہیں۔ کہاں سے دیں گے ہم جیسے لوگ اتنا کرایہ؟ یو این ایچ سی آر کو رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین میں اتنا امتیاز نہیں کرنا چاہیے۔‘‘

اس بارے میں اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا، ’’یو این ایچ سی آر ایک عالمی ادارہ ہے، جو رجسٹرڈ مہاجرین کی حفاظت کے لیے کام کرتا ہے۔ ہمارا یہ پیکج بھی رجسٹرڈ مہاجرین ہی کے لیے ہے۔ ایسے تمام رجسٹرڈ افغان مہاجرین جو رضاکارانہ طور پر اپنے وطن لوٹنا چاہیں، انہیں فاصلے کے حساب سے 350 ڈالر سے لے کر 400 ڈالر فی کس اور اس کے علاوہ 30 سے 70 ڈالر ٹرانسپورٹ گرانٹ کے طور پر بھی دیے جا رہے ہیں۔ یہ گرانٹ پاکستان میں مقیم ایسے رجسٹرڈ افغانیوں کے لیے ہے، جو نادرا کے جاری کردہ پی او آر کہلانے والے شناختی کارڈوں کے حامل ہیں اور اب اپنی خوشی سے افغانستان واپس جانا چاہتے۔ لیکن غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ ان کی حیثیت غیر قانونی ہے اور حکومت پاکستان ان کے خلاف ایکشن لے سکتی ہے۔‘‘

قیصر خان آفریدی نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ریاستی اور سرحدی علاقوں کے امور کی وفاقی وزارت یا سفران منسٹری اور افغان حکومت کے مابین بات چیت چل رہی ہے اور ہو سکتا ہے کہ ان غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کو بھی سفری دستاویزات جاری کر دی جائیں۔ لیکن اس معاملے میں یو این ایچ سی آر فریق نہیں ہے۔

اسی بارے میں جب ڈی ڈبلیو نے اسلام آباد میں افغان سفارت خانے میں مہاجرین کے امور کے نائب سربراہ ذبیح اللہ سے ان کا موقف دریافت کیا تو انہوں نے کہا، ’’ہماری سفران منسٹری سےجو میٹنگ ہوئی تھی، اس میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کو بھی رجسٹر کیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ جو رجسٹرڈ ہیں اور رضاکارانہ طور پر واپس جانا چاہتے ہیں، ان کی تو مدد کی جا رہی ہے اور واپسی کے لیے ایک ماہ کا وقت بھی دیا گیا ہے، لیکن جو غیر رجسٹرڈ ہیں، ان کے لیے کچھ نہیں کیا جا رہا۔‘‘

Mr. Qaiser Khan Afridi

اسلام آباد میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا کہ یو این ایچ سی آر ایک عالمی ادارہ ہے، جو رجسٹرڈ مہاجرین کی حفاظت کے لیے کام کرتا ہے

افغان سفارت کار ذبیح اللہ نے مزید کہا کہ جن کی کوئی شناخت نہ ہو، ایسے افراد تو خود پاکستان کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ پھر حکومت پاکستان انہیں رجسٹر کیوں نہیں کر رہی؟ اگر کر لے تو بہت فائدہ ہے، سکیورٹی حوالے سے بھی۔ کون کہاں رہتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ کس سے تعلق ہے؟ سب معلوم ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے پاکستان میں غیر رجسٹرڈ افغانوں کی شناخت کے لیے باقاعدہ طور پر قریب 100 افراد کی خدمات حاصل کی تھیں، جو ایسے افراد کی شناخت کے عمل میں پاکستان آ کر مدد کریں گے اور پھر اس مد میں رقوم جاری کی جانا تھیں۔ لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہیں ہو سکا کیونکہ افغانستان ابھی تک حکومت پاکستان کی طرف سے اجازت کے انتظار میں ہے۔

اسی بارے میں پاکستان کے چیف کمشنر برائے مہاجرین ڈاکٹر عمران زیب خان نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے میں دراصل کچھ حکومتی ’اسٹیک ہولڈرز‘، جن میں بلوچستان حکومت اور وفاقی وزارت داخلہ بھی شامل ہیں، کے کچھ تحفظات ہیں۔ ان کو بنیادی اعتراض یہ ہے کہ مہاجرین کی رجسٹریشن کا طریقہ کار بہت طویل ہے۔ اس کارروائی میں نو ماہ کا عرصہ لگتا ہے اور ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تو حکومت پاکستان نے رجسٹرڈ افغان مہاجرین یا پی او آر کارڈ ہولڈرز کو پاکستان میں رہنے کے لیے مزید چھ ماہ کی مہلت دی ہے۔ ’’تو پھر رجسٹریشن کا نو ماہ پر محیط عمل کیسے شروع کیا جا سکتا ہے جبکہ حکومت چھ ماہ میں ان مہاجرین کی واپسی کی خواہش مند ہے۔‘‘

جب ڈاکٹر عمران زیب خان سے ڈی ڈبلیو نے پوچھا کہ افغان حکومت کی جانب سے شناخت کے لیے سو افراد کو پاکستان بھیجنے کے معاملے میں تاخیر کیوں، تو انہوں نے بتایا کہ دراصل مارچ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان ان غیر رجسٹرڈ افغان شہریوں کا اندراج کرے گا، جس کے بدلے میں کابل حکومت ان افغانوں کو سفری دستاویزات اور پاسپورٹ جاری کرے گی۔ ’’لیکن پھر افغان حکومت کے اس بارے میں کچھ تحفظات نکل آئے کہ حکومت پاکستان پہلے ایک MOU پر دستخط کرے۔ یہ کرے، وہ نہ کرے۔ ایسے ہی باہمی اختلافات کے باعث اس معاملے میں تاخیر ہوتی گئی۔‘‘