پاکستان سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی: ’زیادہ ڈرون حملے زیر غور‘ | حالات حاضرہ | DW | 20.06.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان سے متعلق ٹرمپ کی پالیسی: ’زیادہ ڈرون حملے زیر غور‘

امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بظاہر پاکستان سے متعلق اپنی پالیسی میں زیادہ سختی پر آمادہ نظر آ رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پاکستان میں زیادہ ڈرون حملے کرنے اور امداد میں کمی پر بھی غور کیا گیا ہے۔

واشنگٹن سے منگل بیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ پاکستان کے ہمسایہ ملک افغانستان میں ان عسکریت پسندوں کے حملوں کے وجہ سے، جو پاکستان میں اپنے مبینہ ٹھکانوں سے ایسی دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے یا کرواتے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ اب اسلام آباد سے متعلق اپنی اب تک کی حکمت عملی میں زیادہ سختی لانے پر آمادہ نظر آنے لگی ہے۔

افغانستان میں ڈرون حملے میں القاعدہ کا اہم کمانڈر ہلاک، پینٹاگون

ڈرون حملے میں حقانی نیٹ ورک کا ایک کمانڈر ہلاک

پاکستان میں ٹرمپ کے دور میں پہلا ڈرون حملہ، دو افراد ہلاک

روئٹرز کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ امریکا افغانستان میں موجودہ حالات میں بہتری لانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے تحت اس کی خواہش ہے کہ پاکستان بھی افغانستان کی صورت حال میں بہتری کے لیے اپنا وہ کردار ادا کرے، جو وہ ادا کر سکتا ہے۔

اس سلسلے میں امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے اب تک جن امکانات پر غور کیا گیا ہے، ان میں یہ بھی شامل ہے کہ پاکستانی سرزمین پر کیے جانے والے امریکی ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا جائے، پاکستان کو دی جانے والی امداد میں یا تو کمی کر دی جائے یا اسے روک دیا جائے اور اگر ضروری ہو تو نیٹو کے غیر رکن ملک لیکن امریکا کے ایک بڑے اتحادی ملک کے طور پر پاکستان کی حیثیت بھی کم کر دی جائے۔

Drohne Heron TP beim Start (U.S. Army/J. Ruiz)

امریکی حکام کے مطابق پاکستان میں زیادہ ڈرون حملے کرنے اور امداد میں کمی پر بھی غور کیا گیا ہے

روئٹرز کے مطابق چند اعلیٰ امریکی حکام اس بارے میں قدرے کم امیدی کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ یہ نئے ممکنہ اقدامات اس کامیابی کو یقینی بنا سکیں گے، جو ٹرمپ انتظامیہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اس سلسلے میں امریکی انتظامیہ کے اندر ہی واشنگٹن کی پاکستان سے متعلق پالیسی میں اس ممکنہ تبدیلی کے ناقدین کا کہنا یہ ہے کہ امریکا کی سالہا سال سے کی جانے والی وہ کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکیں، جو وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کر رہا ہے کہ پاکستان افغان عسکریت پسند گروپوں کی (مبینہ) حمایت بند کر دے۔

ایسے میں پاکستان کے روایتی حریف اور بڑے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ امریکا کے مسلسل مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات بھی اس ہدف کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوں گے کہ واشنگٹن اسلام آباد کو اس کی اب تک کی علاقائی اور سکیورٹی سیاست میں تبدیلی پر مجبور کر سکے۔

ایسے ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ امریکا کے زیادہ گہرے تعاون کے حامی ہیں، نہ کہ دونوں ملکوں کے مابین موجودہ تعلقات کو مزید ‌خراب کر دیا جائے یا ہونے دیا جائے۔

یہ ساری بحث اس تناظر میں کی جا رہی ہے کہ امریکا کے لیے افغانستان کی جنگ امریکی تاریخ کی بیرون ملک لڑی جانے والی طویل ترین جنگ بن چکی ہے۔ اسی لیے جنوری میں اقتدار میں آنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ وہ افغانستان میں سولہ سال سے جاری اس جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ طور پر اس ملک اور خطے سے متعلق اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں لائیں گے۔

امریکی ذرائع کے بقول پاکستان سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ اپنے جن ممکنہ اقدامات پر غور کر رہی ہے، وہ واضح طور پر اسی وقت سامنے آ سکیں گے، جب واشنگٹن جنگ زدہ افغانستان سے متعلق اپنی نئی پالیسی کو حتمی شکل دے دے گا۔

روئٹرز کے مطابق واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے اس بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کی نئی پالیسی کو حتمی شکل دیے جانے سے قبل کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا جبکہ واشنگٹن ہی میں پاکستانی سفارت خانے نے بھی اس موضوع پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

DW.COM

اشتہار