پاکستان: دیہی علاقوں میں چائلڈ پورنوگرافی کا رجحان | دستک | DW | 30.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بلاگ

پاکستان: دیہی علاقوں میں چائلڈ پورنوگرافی کا رجحان

کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا، تقریبا ہر عمرکا بچہ گلی میں کھیلتا نظر آتا تھا۔ بڑے بچے کرکٹ کھیل رہے ہوتے تھے تو چھوٹے پکڑن پکڑائی، بعض علاقوں میں تو مائیں بھی دروازے میں ہی بیٹھی بچوں کے کھیل دیکھ رہی ہوتی تھیں۔

اگر کوئی بچہ کھیلتا کھیلتا دور نکل جاتا تو لوگ خود گھر آ کر بچہ تھما کر جاتے 'باجی یہ آپ کا بچہ ساتھ والی گلی میں کھیل رہا تھا‘۔ ماں ایک لگاتی اور پریشانی حل ہو جاتی۔

لیکن اب ایسا کیا ہو گیا ہے کہ مائیں بچوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیتیں، کس چیز کا خوف ہے انہیں؟  بچے بھی وہی، گلیاں بھی وہی اور علاقہ مکین بھی وہی۔ کبھی کبھی تو سوچتی ہوں ہم اپنے بچوں کی کیسی پرورش کر رہے ہیں؟ انہیں گھروں میں نظر بند کر رکھا ہے، ان کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ باہر جائیں تو کوئی قابل اعتبار شخض ساتھ جائے نہیں تو بیٹھے رہیں چار دیواری میں، موبائل کی دنیا میں اپنی دنیا تلاش کرتے رہیں۔

جی جناب ایسا ہوا ہے اور ایسا کچھ نہیں بہت کچھ ہوا ہے۔ بالغ تو دور بچے بھی محفوظ نہیں۔ کہیں بچے سے زیادتی پر امام مسجد گرفتار ہو رہے ہیں تو کہیں آگے باپ اپنی اولاد کی زندگی اجاڑ رہے ہیں، کہیں سڑک پر کھیلتے ہوئے بچے درندوں کی جنسی ہوس کا نشانہ بن رہے ہیں تو کہیں چار دیواری میں ہی انہیں نہ جانے کا کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق رواں سال چھوٹے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی واقعات میں %14 اضافہ ہوا ہے اور یومیہ آٹھ سے زائد بچے جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔ اور بات یہاں رکتی نہیں بلکہ مزید شدت اختیار کر گئی ہے، 38 بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔ یہ صرف رواں برس کی رپورٹ ہے اگر گزشتہ سالوں کے اعداد شمار لکھوں تو شاید مجھ میں مزید کچھ لکھنے کی ہمت ہی باقی نہ رہے۔

ایسا آخر ہوکیا گیا ہے، ہمارا معاشرہ ایسا بدقسمت معاشرہ کیسے بن گیا؟ کبھی جو بچے گلیوں میں کھیلتے تھے، آج چاردیواری میں بھی محفوظ نہیں رہے۔ اس کا سوال مختصر تو نہیں پر بہت سادہ ضرور ہے۔ آپ کے ہاتھ میں جو ڈیوائس ہے، دنیا میں پائی جانے والی بیشتر چیزوں کی طرح نفع بھی دیتی ہے اور نقصان بھی لیکن بدقسمتی سے شعور نہ ہونے کے باعث ہمارے معاشرے میں ہونے والے نقصان کی بہت بڑی وجہ یہ ہی ہے۔

جس ملک کا تعلیمی بجٹ خطے میں کم ترین ہے، جس ملک میں والدین بچوں کو کتاب سے روشناس کروانے کی بجائے گیجیٹس اور ڈیوائسز سے روشناس کروا رہے ہیں، جس ملک کے بڑے شہروں میں کتب خانے نہ ہونے کے برابر ہوں اور قصبوں اور دیہاتوں کے اسکولوں میں گدھے بندھے ہوئے ہوں، وہاں یہ سب نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا؟

یہ بھی پڑھیے:

پاکستانی بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف ایپ: ’میرا بچہ الرٹ‘

چائلڈ پورنوگرافی، پاکستانی سمیت 24 مشتبہ افراد گرفتار

 

 ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ان ممالک میں سے ہے، جہاں چائلڈ پورنوگرافی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ صرف یہ ہی نہیں اتنے واقعات ہو جانے کے باوجود حکومتی سطح پر بھی اس مسئلے کو ایک سنجیدہ اور بڑا مسئلہ ہی نہیں سمجھا جا رہا۔

سوچتی ہوں تو روح کانپ جاتی ہے۔ کیا مائیں بچے ان درندوں کے لیے پیدا کر رہی ہیں؟ ایک مخصوص پیٹرن پر اگر غور کیا جائے تو پورنوگرافی کے زیادہ تر کیس مضافاتی علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔ یہ وہی علاقے ہیں، جہاں تعلیم نام کی چیز کوئی نہیں، خواتین کیا، بچے کیا، سب ہی جنسی استحصال کا شکار ہیں۔

 لیکن حکومت کی جانب سے نہ تو ان علاقوں کی تعلیم پر توجہ دی جا رہی ہے اور نہ ہے کوئی رورل ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کروائے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی وزیر شیریں مزاری نے قومی اسمبلی میں اس راز سے پردہ فاش کیا کہ دنیا بھر میں چائلڈ پورنوگرافی دیکھنے والوں میں زیادہ تعداد پاکستانی مردوں کی ہے لیکن پاکستانی میڈیا میں یہ بات بھی سامنے نہیں لائی گئی۔

اور یہ مسئلہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں پوری دنیا اس لعنت کا شکار ہے۔ غیر ملکی کمپنیاں پاکستان میں یہ کالا دھندہ کر رہی ہیں۔ ایسی ہزاروں ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے کم عمر ذہنوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ڈائریکٹر کیپٹن (ر) محمد شعیب کے مطابق، ''چائلڈ پورنوگرافی ایک بزنس کی شکل اختیار کر گئی ہے اور پاکستان میں موجود ایسے افراد کے لنکس غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ہیں، جو اس کاروبار کے ذریعے پیسہ کما رہے ہیں۔ اکثر و بیشتر ایسے افراد سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بچوں سے رابطہ کرتے ہیں۔‘‘ 

خدارا! اپنے بچوں کی حفاظت خود کریں، وہ وقت تو کب کا گزر گیا، جب بچے باہر بھی کھیلیں تو فکر ندارد تھی۔ خدارا! گھر میں بھی بچوں پر اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ ان کی آن لائن سرگرمیوں پر بھی نظر رکھیں۔ انہیں فلاں انکل، ڈھمکاں انکل سے دور رکھیں۔ انہیں رائٹ اور رانگ ٹچ کی پہچان دیں۔ ہو سکے تو اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ کے ذریعے بھی آگاہی پھیلائیں۔ پاکستان میں ڈیجیٹل رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیم کی سربراہ نگہت داد کہتی ہیں کہ ''پہلے چائلڈ پورنوگرافی کی روک تھام کے لیے کام کرنا بہت مشکل تھا لیکن حال ہی میں پیش آنے والے واقعات نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اس مسئلے پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔‘‘ تاہم انہوں نے ایک ایپ بھی متعارف کروائی ہے، جس کے ذریعے اپنی پہچان سامنے لائے بغیر قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔