پاکستان جیش العدل کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، ایران | حالات حاضرہ | DW | 16.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان جیش العدل کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، ایران

ایران نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی پاسداران انقلاب پر حملہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے بصورت دیگر ایرانی فوج ’دہشت گردوں کو سزا‘ دینے کے لیے خود کارروائی کرے گی۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل محمد علی جعفری نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی خبردار کیا ہے کہ انہیں ایرانی سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے سنی عسکریت پرست گروہوں کی معاونت کرنے پر ایران کی طرف سے ’انتقامی اقدامات‘ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ریاض حکومت اور متحدہ عرب امارات تہران حکومت کے ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

بدھ تیرہ فروری کے روز جنوب مشرقی ایران میں پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی دستوں پر کیے گئے ایک خود کش حملے میں پاسداران انقلاب کے ستائیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران کے اقلیتی بلوچ اور سنی عسکریت پسندوں کے گروہ ’جیش العدل‘ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔ یہ گروہ ماضی میں بھی ایرانی سرحد پر ایسی کارروائیاں کرتا رہا ہے۔ تہران حکومت کے مطابق اس عسکریت پسند گروہ نے پاکستان میں اپنے محفوظ ٹھکانے بنا رکھے ہیں اور ایران ماضی میں بھی پاکستان سے اس گروہ کے خلاف کارروائی کے مطالبے کرتا رہا ہے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ میں شائع ہونے والے میجر جنرل محمد علی جعفری کے ایک بیان کے مطابق، ’’اگر پاکستان نے اپنی ذمہ داریاں نہ نبھائیں، تو ایران کو عالمی قوانین کے مطابق اپنی سرحدوں کی حفاظت کا اختیار حاصل ہے ۔ ۔ ۔ اور ہم دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے کارروائی کریں گے۔‘‘

سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے خطے میں تہران کے حریف ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو بھی مورد الزام ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا، ’’رجعت پسند علاقائی ریاستیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکا اور اسرائیل کے احکامات پر ان (حملہ آوروں) کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔‘‘

تہران کی جانب سے یہ ردِ عمل ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب حال ہی میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں امریکا اور پولینڈ کی مشترکہ میزبانی میں ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں کئی خلیجی ممالک کے علاوہ اسرائیل نے بھی شرکت کی تھی۔

ش ح / م م (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM

اشتہار