پاکستان: جمہوری حکومت کے خلاف نئی احتجاجی لہر | حالات حاضرہ | DW | 07.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: جمہوری حکومت کے خلاف نئی احتجاجی لہر

پاکستان میں مسلم لیگ نواز کی حکومت کے خلاف نئی احتجاجی مہم کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ احتجاجی تحریک پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے چلائی جا رہی ہے۔

Pakistan Neue Proteste

اگست کو اسلام آباد میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔ اس مظاہرے میں متحدہ اپوزیشن بھی شامل ہو گی

اس حوالے سے ایک جانب تو آج پاکستان تحریک انصاف نے پانامہ لیکس کے حوالے سے تحریک احتساب کے نام سے احتجاجی مہم شروع کر دی ہے تو دوسری طرف پاکستان عوامی تحریک نے سانحہ ماڈل ٹاون میں 14 افراد کی ہلاکت کے خلاف تحریک قصاص کا آغازکر دیا ہے۔ تحریک احتساب کے تحت اتوار کے روز پشاور سے اسلام آباد تک ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اس ریلی کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس ریلی میں صوبے کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں شریک ہیں۔ پشاور سے اٹک تک ریلی کے راستے (جی ٹی روڈ) کو احتجاجی بینروں اور پی ٹی آئی کے پرچموں سے سجایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے خیر آباد میں ایک بڑا جلسہ کرنے کی اطلاعات بھی ہیں۔

ریلی کے آغاز پر تقریر کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے ادارے کرپشن کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں، نواز شریف اپنے آپ کو قانون سے بالا تر سمجھتے ہیں۔نیب نواز شریف اور اسحق ڈار کو بچا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نیب صرف پٹواریوں کو پکڑنے کے لیئے ہے۔ انہوں نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ،’’پاکستانیو ، میں آپ کی جنگ لڑ رہا ہوں ، آپ کا پیسہ لوٹ کر باہر لے جایا گیا ہے، آپ کو اپنے قومی وسائل کو بچانے کے لیئے اس جدوجہد میں شریک ہونا ہوگا۔‘‘ عمران خان نے مزیدکہا کہ موجودہ احتجاج تو محض ایک ٹریلر ہے اصل میچ تو ابھی شروع ہونے والا ہے۔

Pakistan - Premierminster Nawaz Sharif

مسلم لیگ نون کی طرف سے بھی نواز شریف کی حمایت میں نواز شریف زندہ باد ریلیاں نکالی جا رہی ہیں

اٰدھرگذشتہ روز پاکستان عوامی تحریک کی طرف سے لاہور کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاجی دھرنے دیے گئے۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ لاہور کے مال روڈ پر ہوا۔ اس احتجاجی دھرنے میں پاکستان عوامی تحریک کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ق)، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، مجلس وحدت المسلمین اور سنی اتحاد کونسل کے کارکنوں نے بھی شرکت کی۔
پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر االقادری نے لاہور ہی کے علاقے مال روڈ پر عوامی تحریک کے زیر اہتمام منعقدہ قصاص مارچ اور دھرنے سے ماڈل ٹاون سے کیے جانے والے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے خون کا قصاص لینے اور پانامہ لیکس کے کرپٹ کرداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی تحریک کا با ضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ،"اب آل شریف کے اقتدار کا خاتمہ ہو گا اور شریف خاندان کو اب بھارت کے سوا کوئی پناہ نہیں دے گا۔‘‘

تحریک قصاص مارچ کا آغاز جی پی او چوک سے ہوا جو مسجد شہداء سے ہوتا ہوا چیئرنگ کراس پر اختتام پذیر ہوا جہاں پر عوامی تحریک کے کارکنان نے متحدہ اپوزیشن کے ہمراہ دھرنا دیا ۔ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کو فیصلہ کرنا ہو گا انہیں ریاست پاکستان چاہیے یا سلطنت شریفیہ۔ ان کے مطابق پاکستان کی بیوروکریسی کی نج کاری ہو چکی ،نیب ،ایف بی آر،پولیس اور دیگر ادارے آل شریف کی ذاتی ملکیت اور جاگیر بن چکے ،انہوں نے کہاکہ میں دکھی دل سے کہہ رہا ہوں اس نظام میں آئین و قانون کا چیک اینڈ بیلنس ختم ہو گیا،انصاف نام کی کوئی چیز نہیں بچی ۔حکمران کاروبار کیلئے اقتدار میں ہیں ۔ نہ یہ ملک کے وفادار ہیں اور نہ انہیں ملکی سلامتی سے کوئی غرض ہے ۔ڈاکٹر قادری کا یہ بھی کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کا قصاص صرف عوامی تحریک کا مطالبہ نہیں ہے ،اب اس مطالبے میں تمام اپوزیشن جماعتیں اور عوامی حلقے بھی شامل ہو چکے ہیں۔

Pakistan Politiker Imran Khan PTI

عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ احتجاج تو محض ایک ٹریلر ہے اصل میچ تو ابھی شروع ہونے والا ہے

ادھر اسلام آباد میں تحریک قصاص کے شرکا نے آب پارہ چوک پر دھرنا دیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ 14 اگست کے بعد ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں اس حکمت عملی کے خلاف متحد نظر آئیں گی۔ گوجرانوالہ میں ماڈل ٹاون سے ریلی نکالی گئی اور سیالکوٹی دروازے پر دھرنا دیا گیا جس سے شہر کی ٹریفک کافی دیر جام رہی۔ فیصل آباد میں عوامی تحریک کے کارکنوں نے ریلوے اسٹیشن سے گھنٹہ گھر چوک تک احتجاجی مارچ کیا جبکہ کراچی میں احتجاجی کارکن نمائش چورنگی سے تبت سنٹر اور ایم اے جناح روڈ تک گئے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تحریک قصاص کے پہلے مرحلے میں پاکستان عوامی تحریک متحدہ اپوزیشن کے ساتھ ملکر سولہ، بیس اور ستائیس اگست کو ملک کے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کرنے جا رہی ہے، اس مرحلے کے اختتام پر 30 اگست کو اسلام آباد میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ نون نے بھی حزب اختلاف کے احتجاج سے نمٹنے کے لیئے حکمت عملی ترتیب دے لی ہے۔ مسلم لیگ نون کی طرف سے نواز شریف کی حمایت میں نواز شریف زندہ باد ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، ہفتے کے روز ملتان میں نکالی گئی ایک ایسی ہی ریلی میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے پتلے بھی نذر آتش کیئے گئے۔ اتوار کے روز پشاورشہر میں پاکستان مسلم لیگ نون کی طرف سے بھی حکومت کی حمایت میں ایک بڑے جلسے کا اہتمام کیا گیا۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار سجاد میر نے بتایا کہ یہ ماننا بڑا مشکل ہے کہ طاہرالقادری یہ احتجاجی مہم اپنی مرضی سے یا نیک مقاصد کے تحت چلا رہے ہیں، دوسری طرف ان کے بقول عمران خان کے بارے میں بھی یہ تاثر ماجود ہے کہ ان کی احتجاجی تحریک کے پیچھے نادیدہ نہیں بلکہ دیدہ ہاتھ موجود ہیں، ان کے بعض اپنے بیانات (جیسے ایمپائر کی انگلی کے کھڑے ہو جانے کی بات) بھی صورت حال کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔

Pakistan Anti-government protest leader and cleric Tahir-ul-Qadri

ڈاکٹرقادری کے مطابق سانحہ ماڈل ٹاؤن کا قصاص صرف عوامی تحریک کا مطالبہ نہیں ہے ،اب اس میں تمام اپوزیشن جماعتیں اور عوامی حلقے بھی شامل ہو چکے ہیں

سجاد میر کے بقول اپوزیشن کی تقریر نواز حکومت کی ساکھ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، اس کا فائدہ اپوزیشن کو اگلے انتخابات میں ہو سکتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پانامہ لیکس کے معاملے پر حکومت بیک فٹ پر آ گئی ہے، لیکن اس کے باوجود احتجاجی تحریک کے نتیجے میں اس حکومت کے خاتمے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختون خواہ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر شوکت یوسف زئی نے اس تاثر کی تردید کی کہ پاکستان تحریک انصاف کی احتجاجی تحریک کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ یا کسی اور طاقتور حلقے کا ہاتھ ہے۔ " ہمارے پیچھے صرف اللہ کی مدد اور عوام کا ساتھ ہے، اور کرپٹ حکومت کے خلاف جدوجہد کرنا ہمارا جمہوری حق ہے اور ہم اپنی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچا کر رہیں گے۔‘‘

DW.COM