پاکستان بھارتی مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں ناکام: مودی | حالات حاضرہ | DW | 06.02.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان بھارتی مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں ناکام: مودی

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارتی مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مودی نے تاہم اپنے مخالفین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پاکستان جس کام میں ناکام رہا وہ کام یہاں کے لوگ کررہے ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نے آج پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون پر کچھ لوگ سوال اٹھارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس سے ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا”پاکستان بھی اسی طرح کی باتیں کہہ رہا ہے۔ اس نے بھارت کے مسلمانوں کو بھڑکانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بھارت کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے پاکستان نے ہر طرح کے رنگ دکھائے لیکن اس کی ایک نہیں چل رہی ہے۔ میں حیران ہوں کہ پاکستان جو کام کرنے میں ناکام ہورہا ہے اسے یہاں کے کچھ لوگ کررہے ہیں۔"

وزیر اعظم مودی 31 جنوری کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے بھارتی صدر رام ناتھ کووند کے روایتی خطاب پر ہونے والی بحث کا جواب دے رہے تھے۔

متنازعہ شہریت قانون کے خلاف ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ایک بار پھر یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اس قانون سے کوئی بھی بھارتی شہری متاثر نہیں ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن اور بالخصوص کانگریس پارٹی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کو گمراہ کررہی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم مودی نے 'نہرولیاقت معاہدے‘ کا ذکر کرتے ہوئے کانگریس سے سوال کیا کہ کیا نہرو فرقہ پرست تھے یا وہ ہندو راشٹر بنانا چاہتے تھے؟

Screenshot Exklusivinterview mit Imran Khan

بھارتی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کو بہکانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا ”5 نومبر سن 1950کو اسی پارلیمنٹ میں نہرو جی نے کہا تھا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان سے جو متاثرہ لوگ بھارت میں رہائش اختیار کرنے کے لیے آئے ہیں انہیں شہریت حاصل کرنے کا حق ہے اور اگر اس کے لیے خاطر خواہ قانون نہیں ہے تو قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے۔1950ء میں جو نہرو۔ لیاقت پیکٹ ہوا وہ بھارت اور پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کی حفاظت کے لیے ہوا تھا اس میں اقلیت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ نہرو تو دانشور تھے، دور اندیش تھے پھر انہوں نے پاکستان کے تمام شہریوں کی جگہ اقلیتوں کا ذکر معاہدہ میں کیوں کیا؟ جو بات ہم آج بتارہے ہیں وہی بات نہرو جی نے بھی کہی تھی تو کیا پنڈت نہرو کمیونل تھے؟"

 وزیر اعظم مودی کا مزیدکہنا تھا ”نہرو لیاقت پیکٹ‘‘ پر دستخط ہونے سے ایک سال پہلے نہرو نے اس وقت کے آسام کے وزیر اعلی گوپی ناتھ کو ایک خط لکھا تھا جس میں ان سے کہا تھا کہ آپ کو ہندو شرنارتھی اور مسلم امیگرینٹ کے درمیان فرق کرنا ہی ہوگا۔ اور ملک کو ان شرنارتھیوں کی ذمہ داری لینا ہوگی۔"

 وزیر اعظم مودی نے تاہم بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کو بھی نہیں بخشا اور ان پر حملہ کرتے ہوئے کہا ''وزیر اعظم بننے کی خواہش کسی کی بھی ہوسکتی ہے۔ یہ کوئی خراب بات بھی نہیں۔ لیکن کسی کو وزیر اعظم بننا تھا اس لیے بھارت میں لکیر کھینچی گئی اور بھارت کو منقسم کردیا گیا۔"

وزیر اعظم نے یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ ان کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی مسلم مخالف نہیں ہے وہ ہر ایک شہری کو یکساں طورپر دیکھتی ہے۔ ”ہمیں یاد دلایا جارہا ہے کہ 'کوئٹ انڈیا‘  اور 'جے ہند‘ جیسے نعرے دینے والے مسلمان تھے۔ پریشانی یہی ہے کہ کانگریس کی نگاہ میں یہ لوگ صرف اور صرف مسلمان تھے، لیکن ہمارے لیے، ہماری نگاہ میں وہ بھارتی ہیں، ہندوستانی ہیں۔"

Indira Gandhi (picture-alliance/dpa)

مودی کے مطابق اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے اقلیتوں کی حمایت کا دم بھرنے کے لیے کانگریس کو آڑے ہاتھوں لیا اور سوال کیا ”اگر کانگریس اقلیتوں کی بات کرتی ہے تو کیا سکھ اقلیت نہیں ہیں؟ 1984ء میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہمارے سکھ بھائیوں کے گلے میں ٹائر ڈال کر جلادیا گیا۔ اتنا ہی نہیں ان فسادات کے ملزمین کو جیل بھی نہیں بھیجاگیا بلکہ فسادات بھڑکانے کا الزام جن پر تھا ان کو ایک ریاست کا وزیر اعلی بنادیا گیا۔" مودی کے اس بیان کو8 فروری کو دہلی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سکھ ووٹروں کو بی جے پی کی طرف راغب کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

مودی نے کشمیری لیڈروں کو بھی نہیں بخشا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلی محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کے ان بیانات کا حوالہ دیا جو انہوں نے جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ370 کو ختم کرنے کے بار ے میں دیے تھے۔”عمر عبداللہ نے کہا تھا اگر دفعہ 370 کو ختم کیا گیا تو زلزلہ آجائے گا اور کشمیر بھارت سے الگ ہوجائے گا۔ فاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ اگر دفعہ 370 کو ہٹایا گیا تو وادی کشمیر میں بھارتی پرچم لہرانے والا کوئی نہیں رہے گا۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ دراصل کشمیری عوام پر اعتماد نہیں کرتے۔ ہم کشمیریوں پر اعتماد کرتے ہیں۔"

Indien Neu Delhi - National Congress Parteipräsident Rahul Gandhi (Getty Images/AFP/S. Hussain)

مودی عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول کروانے میں مہارت رکھتے ہیں: راہل گاندھی کا بیان۔

کانگریس کے رہنما اور سابق صدر راہل گاندھی نے مودی کی تقریر پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ”ملک کو درپیش حقیقی مسائل سے لوگوں کی توجہ ہٹا دینا مودی کی خوبی ہے۔ یہ ان کا اسٹائل ہے۔ وہ کانگریس کی، جواہر لال نہرو کی، پاکستان کی بات تو کرتے ہیں لیکن بنیادی مسائل پر کبھی بھی بات نہیں کرتے۔اس وقت سب سے بڑا مسئلہ معیشت اور روزگار ہے۔ ہم نے وزیر اعظم سے بار بار اس پرسوالات پوچھے لیکن وہ ہمیشہ اس اہم سوال سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں ڈیڑھ گھنٹے تقریر کی لیکن اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ گذشتہ برس ایک کروڑ لوگوں کی نوکریاں کیوں چلی گئیں؟"

جاوید اختر، نئی دہلی

 

DW.COM

Audios and videos on the topic