پاکستان: ایئر ٹریفک کم، یورپ میں پاکستانیوں کے مسائل میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 24.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستان: ایئر ٹریفک کم، یورپ میں پاکستانیوں کے مسائل میں اضافہ

یورپ میں جہاں ایک طرف کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے صورت حال میں بہتری آ رہی ہے، وہیں پر پاکستانی حکومت کے بعض اقدمات کے سبب یورپ میں آباد پاکستانی برادری کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں آنے والی فضائی ٹریفک میں 80 فیصد تک کمی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد بیرون ملک سے بذریعہ ہوائی جہاز پاکستان آمد کو صرف 20 فیصد تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس وقت پاکستانی ہوائی اڈوں پر یومیہ صرف 35 طیاروں کو اترنے کی اجازت ہے اور روزانہ صرف چھ ہزار مسافر بیرون ملک سے پاکستان آ سکتے ہیں۔

پاکستان کو فائزر ویکیسن کی تیرہ ملین خوراکیں ملیں گی

سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے نظر ثانی شدہ احکامات میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کے پاکستان میں پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے تسلسل کے حوالے سے عارضی اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن کی وجہ بہت سی بین الاقوامی ایئر لائنز نے پاکستان کے لیے اپنے فضائی آپریشنز بند جب کہ کچھ نے محدود کر دیے ہیں۔ یورپ میں پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی ائی اے پر پہلے ہی سے پاپندی عائد ہے، جس کے باعث پاکستان گئے ہوئے بہت سے اوورسیز شہری مسافر پروازوں کی کمی یا منسوخی کے سبب پاکستان میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف حکومت پاکستان اپنی حکمت عملی کے حوالے سے کئی نئے اقدامات کر رہی ہے۔ لیکن ان اقدامات کی وجہ سے یورپ میں پاکستانی برادری کو وطن جانے اور وہاں سے واپسی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے ایسے پاکستانی نژاد باشندوں کو جو چھٹیاں گزارنے پاکستان گئے تھے، چھٹیاں ختم ہو جانے کے بعد معمول کی مسافر پروازیں دستیاب نہ ہونے کے سبب گونا گوں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے مسافروں کے پاس واپسی کی ایئر ٹکٹیں تو ہیں، مگر انہیں واپس لانے کے لیے کمرشل پروازیں کمیاب ہیں۔

پاکستان میں کورونا سے یومیہ اموات تین ماہ میں نچلی ترین سطح پر

ایسے اوورسیز پاکستانیوں کو شکایت یہ ہے کہ وہ وطن لوٹنے کے بعد وہان پھنس رک رہ گئے ہیں۔ وہ واپس آنا چاہتے ہیں، مگر ان کی کسی جگہ شنوائی نہیں ہو رہی۔ یہ صورت حال مجموعی طور پر کتنے شہریوں کو درپیش ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ ایسے اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کب ان ممالک کو لوٹ سکیں گے، جہاں وہ آباد ہیں۔

اس کے علاوہ ایسے بہت سے پاکستانی جو عید الاضحیٰ اور گرمیوں کی چھٹیوں کے لیے یورپ سے پاکستان جانا چاہتے ہیں تاکہ عید اور چھٹیاں اپنے عزیزوں کے ساتھ گزار سکیں، وہ بھی فلائٹیں نہ ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں ۔ معمول کی مسافر پروازوں کی کمی ہی اس بات کی وجہ بھی بن چکی ہے کہ یورپ میں انتقال کر جانے والے پاکستانی شہریوں یا پاکستانی نژاد باشندوں کی میتوں کا تدفین کے لیے پاکستان پہنچایا جانا بھی ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔

پاکستانی طلبا واپس چین پہنچنے کی اجازت کے منتظر

یورپ کے بعض ممالک سے پاکستان کے لیے چارٹرڈ پروازوں کا انتظام تو کیا گیا ہے کیونکہ چارٹرڈ فلائٹیں ان پاپندیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ لیکن ان پروازوں میں سفر کے لیے ٹکٹوں کی قیمتیں معمول کی قیمتوں سے دگنی بنتی ہیں اور کم آمدنی والے افراد ایسی ٹکٹیں نہیں خرید سکتے۔ اس کے علاوہ ایسی چارٹرڈ پروازیں باقاعدگی سے دستیاب بھی نہیں ہوتیں۔

پاکستان ميں باقی سب بند مگر مساجد گنجائش سے زائد بھری ہوئی

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشنز سینٹر کی ہدایت پر پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 25 مئی کو کیٹیگری سی میں شامل 38 ممالک پر فضائی پابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ کیٹیگری سی میں شامل 38 ممالک میں بھارت، جنوبی افریقہ، ایران، عراق، بنگلہ دیش، برزایل، زمبابوے اور یورپی اور جنوبی امریکی براعظموں کے کئی ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ ایسی ریاستیں ہیں، جہاں کورونا وائرس کی وبا کی صورت حال تشویش ناک ہے۔