پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ میں پہلا آسٹریلوی کھلاڑی | کھیل | DW | 26.12.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کرکٹ

پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ میں پہلا آسٹریلوی کھلاڑی

آسٹریلیا کے فاسٹ بولر ایرن سَمرز نے پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ میں کھیلنے کا اعلان کر لیا ہے۔ چوبیس سالہ ایرن سَمرز پاکستان کپ میں جنوبی پنجاب کی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔

آسٹریلیا کے فاسٹ بولر ایرن سَمرز

آسٹریلوی فاسٹ بولر ایرن سَمرز

پاکستان سپر لیگ کی موجودہ چیمپئن ٹیم کراچی کنگز اور بِگ بیش لیگ میں ہوبارٹ ہَریکینز کی نمائندگی کرنے والے آسٹریلوی گیندباز ایرن ‌سَمرز پاکستان کے ڈومیسٹک مقابلوں میں شرکت کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلامیہ کے مطابق چوبیس سالہ سَمرز پاکستان میں آئندہ برس آٹھ جنوری سے شروع ہونے والے ایک روزہ ڈومیسٹک کرکٹ ٹورنامنٹ 'پاکستان کپ‘  میں جنوبی پنجاب کی ٹیم کی نمائندگی کریں گے۔

مزید پڑھیے: جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرے گی

اس طرح ایرن سَمرز پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ مقابلوں میں کھیلنے والے پہلے آسٹریلوی کھلاڑی بن جائیں گے۔ اس سے قبل ماضی میں افغانستان اور زمبابوے کے کرکٹرز پاکستانی ڈومیسٹک کرکٹ کا حصہ رہ چکے ہیں۔

آسٹریلوی گیند باز سَمرز نے پاکستان کپ میں شمولیت پر پی سی بی کو دیے گئے ایک بیان میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تیز گیندبازوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور وہ اپنی فاسٹ بالنگ کی صلاحیت میں بہتری کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم  'سدرن پنجاب‘  کی جیت میں کردار ادا کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔

ڈومیسٹک کرکٹ میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی شمولیت

واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے قوانین کے مطابق ڈومیسٹک مقابلوں میں ہر ٹیم ایک غیر ملکی کھلاڑی کو اپنی ٹیم میں شامل کرسکتی ہے۔ پی سی بی کے ہائے پرفارمنس کے ڈائریکٹر ندیم خان کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں کھیلنے کے لیے غیر ملکی کھلاڑیوں کو مدعو کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: انگلش کرکٹ ٹیم اگلے برس پاکستان کا دورہ کرے گی

ندیم خان کے بقول، ہم اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام کو مضبوط، چیلنجنگ اور سخت تر بنانے کے خواہش مند ہیں تاکہ نہ صرف قومی کھلاڑیوں کو فائدہ پہنچا سکیں بلکہ غیر ملکی کرکٹرز کو بھی اپنی جانب راغب کرسکیں۔

ع آ / ع ح (روئٹرز، اے پی)

ویڈیو دیکھیے 02:41

سری لنکا پھر پاکستان میں، کچھ پرانی یادیں بس ڈرائیور خلیل کی زبانی

DW.COM