پاکستانی پنجاب میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ | معاشرہ | DW | 17.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستانی پنجاب میں خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ہر روز چھ عورتوں کو قتل یا اقدام قتل جیسے سنگین جرم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اس بات کا انکشاف پنجاب کے وزیر اعلٰی کے دفتر میں امن و امان کے حوالے سے قائم کیے جانیوالے اس مرکز کی ایک دستاویز میں کیا گیا ہے جسے جرائم پر نگاہ رکھنے کیلئے قائم کیا گیا ہے۔

سرکاری طور پر تیار کی جانیوالی اس دستاویز کے مطابق پنجاب میں روزانہ آٹھ خواتین جنسی تشدد کا نشانہ بنتی ہیں ۔ گیارہ عورتیں روزانہ حملوں کا شکار ہوتی ہیں جبکہ ہر روز بتیس خواتین کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ پولیس کے شعبہ تفتیش کے اعداد و شمار کی مدد سے تیار کی جانیوالی اس رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ عورتوں کے خلاف تشدد کے مرتکب افراد کو سزا ملنے کی شرح ایک فیصد سے ڈھائی فیصد کے درمیان ہے۔ رپورٹ کے مطابق تشدد کا شکار ہونیوالی خاتون کو اندراجِ مقدمہ کیلئے پولیس کے پاس جانا پڑتا ہے پھر میڈیکل معائنے اور فورینزک سے متعلقہ شواہد کے حصول کے لیے تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ اس کے بعد اسے پراسیکیوٹر سے رابطے اور عدالتی مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ سانپ اور سیڑھی کے اس کھیل اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے رویوں کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بننے والی متاثرہ خواتین بعض اوقات حصول انصاف کی کوششوں کو ترک کر دیتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق شواہد کے حصول میں مشکلات کے حائل ہونے، متاثرہ خاتون کے پیچھے ہٹ جانے، متعلقہ حکام کی عدم دستیابی اور تاخیر سے ہونے والے طبی معائنے کی وجہ سے عورتوں کے خلاف ہونے والے تشدد کا مقدمہ بہت کمزور ہو جاتا ہے۔ اور کئی مرتبہ مظلوم خواتین کو انصاف دلانے کیلئے وزیر اعلیٰ کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

Pakistan Gewalt gegen Frauen Shahida

پنجاب میں اکثر خواتین کو زدو کوب کیا جاتا ہے

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم عورت فاونڈیشن کی ریجنل ڈائریکٹر ممتاز مغل نے سرکاری دستاویز کے اعداد و شمار کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آرز کی بنیاد پر مرتب کیے جانیوالے ان اعداد و شمار کی ساکھ دیگر ذرائع سے حاصل ہونیوالے ڈیٹا سے بہتر ہے۔ ان کے بقول عورت فاؤنڈیشن خواتین پر تشدد کے حوالے سے اخبارات کی خبروں کے ذریعے جو اعداد و شمار اکٹھا

کر تی ہے وہ بھی اس دستاویز کی معلومات کی تصدیق کر تے ہیں۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کر تے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں ضلع قصور کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی زبانی یہ معلوم ہوا ہے کہ صرف ضلع قصور میں پچھلے ایک سال کے اندر نو خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے ۔

ممتاز مغل کہتی ہیں کہ عورتوں پر تشدد کے بہت سے واقعات بدنامی کے خوف سے متاثرہ خواتین پولیس کیے علم میں نہیں لاتیں۔ پولیس تک محدود واقعات پہنچتے ہیں اور پولیس سے میڈیا تک پہنچنے والے واقعات کی تعداد تو اور بھی کم ہو جاتی ہے ''ہمارے معاشرے میں تھانے جا کر مردوں کی طرف سے کیے جانیوالے تشدد کو رپورٹ کر کے گھر آنے والی عورت کا جو حشر ہوتا ہے اس کا اندازہ کر نا مشکل نہیں ہے "۔

Symbolbild Ehrenmorde Gewalt gegen Frauen

غیرت کے نام پر قتل بھی پاکستانی معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ ہے

ممتاز مغل بتاتی ہیں کہ 2008 سے 2014 تک کے اعداد و شمار پر نگاہ ڈالیں تو اندازہ ہو تا ہے کہ پاکستان میں عورتوں پر تشدد کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ "اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب واقعات کو رپورٹ کیے جانے کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے''۔

عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک اور رہنما نبیلہ شاہین ایڈووکیٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پاکستان میں عورتوں کو قتل، اقدام قتل، تیزاب پھینکنے، اعضا کاٹنے، اغوا کرنے اور مار پیٹ کرنے سمیت کئی قسم کے تشدد کا سامنا ہے۔ ان کے بقول گھریلو تشدد کو تو عام طور پر تشدد سمجھا ہی نہیں جا تا اور ایسے واقعات عموماً رپورٹ بھی نہیں ہو تے ۔"عورتوں کے خلاف تشدد کے بڑے واقعات پر بھی بعض اوقات پولیس یا تو رپوٹ لکھنے پر اکتفا کرتی ہے یا پھر پنچایت کے ذریعے معاملے کو رفع دفع کرانے کا مشورہ دیتی ہے"۔ ان کے مطابق پنجاب کے دور دراز کے پسماندہ علاقوں میں صورتحال کافی تشویشناک ہے۔ نبیلہ شاہین کا خٰیال ہے کہ عورتوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے قوانین کو بہتر بنانے، خواتین کو آگاہی فراہم کر نے اور متاثرہ خواتین کو قانونی و نفسیاتی امداد فراہم کیے جانے کی ضرورت ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ پنجاب میں خواتین کی صوبائی محتسب اور خواتین کے کمیشن کے علاوہ خواتین کے لیے قائم کیے گئے تھانے بھی کام کر رہے ہیں۔

Pakistan Gewalt gegen Frauen Shahida

پاکستان میں بہت سی تنظیمیں خواتین کے ساتھ ہونے والے تشدد کے خلاف کام کر رہی ہیں تاہم انہیں زیادہ قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے

اب پنجاب کی حکومت نے خواتین کو تشدد سے بچانے کیلئے ہر ضلعے میں خصوصی حفاظتی مرکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ملتان میں قائم کیے جانیوالے مرکز میں ون ونڈو آپریشن کے تحت تشدد کی شکار خواتین کو ایک ہی جگہ پر پولیس ، پراسیکیوٹر اور سائیکالوجسٹ کی خدمات کے علاوہ دارالامان کی سہولتیں بھی میسر ہیں۔ غربت ، جہالت اور بے روزگاری کی وجہ سے تشدد کا شکار ہونیوالی خواتین کو اس مرکز کے ذریعے فنی تعلیم فراہم کر نے، بینکوں سے قرضے دلوانے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مدد فراہم کروانے کی بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ادھر پنجاب حکومت نے قصور، مظفر گڑھ اور راولپنڈی کو خواتین کے تشدد کے حوالے سے وائلنس فری ڈسٹرکٹ بنانے کیلئے ایک پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا ہے ۔ پہلے مرحلے میں ضلع قصور میں کام شروع کیا گیا ہے۔غیر ملکی امدادی ادارے اور سول سوسائٹی کے تعاون سے شروع کیے جانیوالے اس منصوبے کے تحت لوگوں کوعورتوں پر تشدد کے خلاف آگاہی فراہم کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ سرکاری اہلکاروں کو تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کی کامیابی کے بعد پنجاب کی حکومت اس کا دائرہ دیگر اضلاع تک پہنچانے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔ اس نمائندے کی طرف سے کی جانے والی مسلسل کوششوں کے باوجود پنجاب حکومت کا کوئی رد عمل سامنے نہیں آ سکا۔

DW.COM

اشتہار