پاکستانی ٹیم کو لگنے والا زخم کتنا گہرا ہے؟ | کھیل | DW | 08.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

کھیل

پاکستانی ٹیم کو لگنے والا زخم کتنا گہرا ہے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم میزبان آسٹریلیا کے ہاتھوں تیسرا میچ پرتھ میں دس وکٹوں سے ہار کر ٹی ٹونٹی سیریزمیں دو صفرسے ناکام ہو گئی ہے۔

عالمی نمبر ایک ٹیم پاکستان کو جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور سری لنکا کے بعد کیلنڈر ائیر 2019ء میں حیران کن طور پر چوتھی سیریز میں منہ کی کھانا پڑی ہے۔

پرتھ پرتھ ہی رہا

پرتھ کا 'واکا' گراونڈ ہمیشہ سے ایشیائی بلے بازوں کے لیے ایک ڈراونا خواب ہوا کرتا تھا لیکن اب کی بار پاکستان اور آسٹریلیا کا میچ شہر کے نئے کرکٹ اسٹیڈیم اوپٹس میں کھیلا گیا، جہاں کی پچ 'واکا' جیسی ہی تیز اور باؤنسی تھی۔ صرف افتخار احمد ہی آسٹریلوی باولنگ کی کچھ تاب لاکر45 رنز بنا سکے جبکہ آٹھ بیٹسمین تو ڈبل فگر میں بھی نہ پہنچ پائے۔

اس بار پاکستانی ٹیم میں نیا خون شامل کیا گیا تھا۔ جمعہ کوڈیبیو کیپس اپنے سر سجانے والے کوہستان کے پیسر موسیٰ خان اور بنوں کے بیٹسمین خوش دل شاہ سمیت پاکستانی پلئینگ الیون میں سات ایسے کھلاڑی تھے جو پہلی بار ویسٹرن آسٹریلیا کے اجنبی دیار میں کھیل رہے تھے۔ اس ناکامی میں ٹیم کی ناتجربہ کاری کا بھی خاصا عمل دخل رہا۔

بابر اعظم الیون کو ’ابر کرم‘ نے بچا لیا

شکیب الحسن کو نئی اسپانشرشپ ڈیل مہنگی پڑ سکتی ہے

بابر اور بانجھ بیٹنگ لائن اپ

بابر اعظم پاکستان کرکٹ ٹیم میں واحد سپر اسٹار ہیں۔ پاکستان کے لیے اس مشکل دورے میں واحد حوصلہ افزا بات بھی ان کی بیٹنگ کا کپتانی کے بوجھ تلے نہ دبنا تھا۔ سڈنی اور کینبرا میں پاکستانی اننگز کی نبض بابر کی دو نصف سینچریوں کی بدولت ہی چلتی رہی لیکن پرتھ میں نئے کپتان کے مچل اسٹارک کے ہاتھوں جلدی آؤٹ ہونے پر ڈریسنگ روم کو بیس اوورز کھیلنے کے لالے پڑ گئے۔ فخرزمان اور آصف علی سیریز میں بری طرح آوٹ آف فارم نظر آئے۔ حارث سہیل اور محمدرضوان ایک لمحہ کے لیے بھی اس فارمیٹ میں نہ بھا سکے۔ فخر زمان کو نئے کپتان کے ایما پر ہی سلیکٹرز نے اس دورے میں منتخب کیا تھا لیکن اوپنر کی تکنیک آسٹریلوی سرزمین پر بہت بری طرح بے نقاب ہوئی۔ کپتانی میں فیلڈ پر بابر اعظم زیادہ معتبر نظر نہیں آئے۔ مانوکا اوول پر رن دوڑنے کے معاملے میں آصف علی پر ناگواری کا اظہار اچھا تاثر نہیں چھوڑ سکا۔ سیریز کے اختتام پر پاکستانی کپتان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس ناکامی سے کئی سبق سیکھے ہیں جو آگے چل کر انکے اور ٹیم کے کام آئیں گے۔

بولنگ اور فیلڈنگ بھی مایوس کن

آسٹریلیا میں پاکستانی بولرز بھی اپنی دھاک نہ بٹھا سکے اور تین میچوں وہ صرف تین ہی وکٹ لے سکے۔ لیگ اسپنر شاداب خان مارچ2017ء میں اپنے ڈیبیو کے بعد سے 46  وکٹوں کے ساتھ پاکستان کے سب سے کامیاب ٹی ٹونٹی بولر ہیں لیکن وہ اس سیریز میں ایک بھی وکٹ نہ لےپائے۔ دو میچوں میں تو شاداب سے یکسر ایک گیند بھی نہ کرائی گئی۔ عامر نے قدرے بہتر بولنگ کی لیکن دوسرے اینڈ پر انہیں محمد عرفان، وہاب ریاض اور عماد وسیم کی بالکل مدد نہ ملی۔ پاکستان کی آؤٹ کرکٹ کا معیار بھی خاصا پست تھا۔ پرتھ میں محمد عامر کے پہلے ہی اورر میں محمد حسنین وارنر کو صفر پر کیچ کرنے اورصرف دو گیندوں بعد امام الحق اسی بیٹسمین کو رن آوٹ کا سنہری موقع گنوا بیٹھے۔ آسٹریلیا کے وسیع و عریض گراونڈز پر پاکستانی کھلاڑیوں کی فٹنس کسی بھی وقت مثالی نہیں لگی۔

مصباح پرتنقید

پاکستان کے سری لنکا کے ہاتھوں ہوم سیریز میں وائٹ واش کے بعد سرفرازاحمد کو کپتانی سے ہاتھ دھونا پڑے تھے اور نئے ہیڈ کوچ مصباح الحق کو بھی سلیکشن کے معاملات پر میڈیا میں آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔ اب آسٹریلیا میں یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ پاکستانی ٹیم کا مسئلہ سرفراز احمد اور شاید خود مصباح کی سوچ سے بھی زیادہ گہرا ہے۔ پہلے آسٹریلیا اور انگلینڈ جیسے ممالک اس فارمیٹ میں اپنی طاقتور ٹیم کو اتارنے سے گریز کرتے تھے مگر اب ہرکوئی اگلے دو سال میں ٹی ٹونٹی کے دو ورلڈکپ کی تیاری میں سنجیدہ لگ رہا ہے ۔ دوسری جانب شعیب ملک اور محمد حفیظ سمیت بعض سینئر کھلاڑیوں کے منظر سے ہٹنے سے پاکستان ٹیم میں ایک خلا پیدا ہوا ہے جسے پر کرنے کے لیے احسان علی اور رضوان حسین جیسے مزید نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کی ضرورت ہوگی۔

 

DW.COM