پاکستانی وزیر داخلہ کے متنازعہ بیان پر عوامی ردعمل | حالات حاضرہ | DW | 07.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی وزیر داخلہ کے متنازعہ بیان پر عوامی ردعمل

پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد نے وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے جس میں انھوں نے یوم عاشور کے موقع پر جلوسوں پر حملہ نہ کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کا شکریہ ادا کیا تھا۔

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

رحمان ملک کے مطابق انھوں نے اس سے قبل ان تنظیموں سے پاکستان میں محرم الحرام کے جلوسوں پر حملہ نہ کرنے اور ہتھیار پھینک دینے کی اپیل کی تھی۔

پاکستانی وزیر داخلہ کا یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حملے کی ذمہ داری لشکر جھنگوی العالمی نامی مبینہ طور پر ایک پاکستانی تنظیم نے قبول کرلی ہے۔

پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد نے وزیر داخلہ کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے اس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے رحمان ملک کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے افضل سرویا نامی ایک شخص کا کہنا تھا، ’’رحمان ملک کے اس غیر ذمہ دارانہ بیان سے امریکہ کے ان الزامات کو تقویت ملی ہے جن میں پاکستان کے دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔‘‘ ان کے بقول ایک ایسے موقع پر جب پاک امریکہ کشیدگی عروج پر ہے اور پاکستان پر حملے ہو رہے ہیں، ایسے بیانات دینا آ بیل مجھے مار کے مترادف ہے۔

ایک خاتون وکیل زاہدہ شکیل نے بتایا، ’’اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وزیر داخلہ دہشت گرد تنظیموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی سکت نہیں رکھتے اور وہ ان کے رحم وکرم پر ہیں۔ ہمارے وزیر داخلہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کا مقابلہ نہیں کر سکتے، حملے نہ کرنے کا شکریہ، براہ کرم ہمیں آئندہ بھی معاف ہی کر دیجیے گا۔‘‘

Superteaser NO FLASH Pakistan Terror Jalaluddin Hakkani Grenzgebiet Afghanistan

لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ کے اس بیان سے تاثر ملتا ہے کہ حکومت طالبان کے رحم و کرم پر ہے

مرتضٰی نامی ایک کلرک نے کہا، ’’دہشت گرد ملک وقوم کے دشمن ہوتے ہیں ان کی مذمت کی جانی چاہیے، اس لیے وزیر داخلہ کا یہ بیان مناسب نہیں ہے۔‘‘

کرنل (ر) فرخ نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وزیر داخلہ اگر ایسا بیان نہ جاری کرتے تو اچھا ہوتا لیکن ان کے خیال میں رحمان ملک نے چلتے چلتے ایک بات کی جسے سنجیدگی سے نہیں لیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول اس بیان کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ پاکستان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

راؤ مدثر اعظم نامی ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ کا یہ بیان دہشت گردوں کے خلاف ان کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

ایک بنک سے وابستہ نعمان جعفری نامی ایک نوجوان نے کہا، ’’اس طرح کے بیانات دنیا میں ہماری جگ ہنسائی کا باعث بنتے ہیں۔ ہمارے لیڈروں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ایسے بیانات کا عالمی لیول پر کیا اثر ہوتا ہے۔‘‘

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: حماد کیانی

DW.COM