پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ امریکا، توقعات اور خدشات | حالات حاضرہ | DW | 12.07.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی وزیر اعظم کا دورہ امریکا، توقعات اور خدشات

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اکیس جولائی کو امریکا کا دورہ شروع کريں گے۔ وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان کا یہ امریکا کا پہلا دورہ ہے۔

حال ہی میں ہيوسٹن ميں تعينات پاکستانی کونسل جنرل عائشہ فاروقی کی رہائش گاہ پر وزير اعظم کے معاون خصوصی برائے اوور سيز پاکستانیز زلفی بخاری نے عمران خان کے دورے کے سلسلے میں امریکا میں آباد پاکستانی بزنس کميونٹی کی توقعات پر ڈی ڈبليو سے خصوصی گفتگو کی۔ اس موقع پر پاکستانی امريکی تاجر برادری کے ارکان بھی وہاں موجود تھے۔ زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ امريکا ميں مقيم پاکستانيوں کی پاکستان ميں سرمايہ کاری کے عمل کو آسان بنانا وزير اعظم کے ايجنڈے کا اہم جزو ہے۔ اس سلسلے ميں اسلام آباد حکومت نے بورڈ آف انويسٹمنٹ تشکيل ديا ہے، جو سرمايہ کاروں کے تمام مسائل نہايت تيز رفتاری سے حل کرے گا۔ ان کے بقول، ’’ہم چاہتے ہيں کے اوور سيز پاکستانيوں کے ليے يہ عمل نہايت ہی آسان ہو جائے۔‘‘

اپنی گفتگو میں زلفی بخاری نے واشنگٹن ميں وزير اعظم کے پاکستانی نژاد امريکی باشندوں سے خطاب اور صدر ٹرمپ کے ساتھ ميٹنگ کو نہايت اہم قرار دیا۔ زلفی بخاری اس وقت واشنگٹن ڈی سی ميں وزير اعظم کے امريکی دورے کے نگران کے فرائز بھی انجام دے رہے ہيں۔

وزير اعظم عمران حان کے دورہ امريکا کے چيف آرگنائز اور سکريٹری آفس آف انٹرنيشنل چيپٹرز، امريکا سے وابستہ ڈاکٹر عبد اللہ رياڑ نے واشنگٹن ڈی سی سے ڈی ڈبليو سے خصوصی بات چيت کی۔ انہوں نے کہا، ’’امريکا ميں مقيم پاکستانيوں نے وزير اعظم کے اس دورے کا خير مقدم کيا ہے۔ تمام پاکستانی وائٹ ہاوس سے کچھ ہی فاصلے پر منعقد ہونے والے اس جلسے کے بے چينی سے منتظر ہيں۔ اس تاريخی جلسے سے پاکستانی نژاد امريکيوں کی بہت سی اميديں وابستہ ہيں۔ وہ اپنے ليڈر کو ديکھنے کے ليے بے چين ہيں۔‘‘

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کے اس جلسے کے دوران اپوزيشن کے مظاہروں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ اس بارے میں کیے گئے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا، ’’ہم ايک آزاد معاشرے ميں رہتے ہيں اور ہر ايک کو آزادی رائے کا حق ہے۔‘‘

وزير اعظم کے دورے پر امريکا کی رياست ٹيکساس ميں بھی پاکستانی امريکيوں ميں نہايت گہما گہمی پائی جاتی ہے۔ اس دورے سے جڑی ٹيکساس کی آرگنائيزنگ کميٹی کے ليڈر اور سابق صدر پی ٹی آئی، امريکا نديم زمان نے ڈی ڈبليو کو بتايا، ’’وزير اعظم کے اس دورے سے پاکستان اور امريکا کے سفارتی تعلقات بہت مضبوط ہوں گے۔ ہر پاکستانی نژاد امريکی کی دونوں ملکوں کے ليے نيک خواہشات ہيں۔‘‘ ان کے مطابق چار ہزار لوگ اس جلسے ميں شرکت کے ليے خود کو رجسٹر کر چکے ہيں۔ انہوں نے يہ بھی بتايا کہ وزير اعظم پاکستانی نژاد امريکی تاجروں سے پاکستان ميں تجارت کے مواقع اور معيشت کی بحالی ميں ان کے کردار پر خصوصی ميٹنگ کريں گے۔

DW.COM