پاکستانی نژاد زاہد قریشی پہلے مسلم وفاقی امریکی جج مقرر | حالات حاضرہ | DW | 11.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی نژاد زاہد قریشی پہلے مسلم وفاقی امریکی جج مقرر

زاہد قریشی امریکا کی تاریخ میں پہلے مسلم وفاقی جج ہوں گے۔ امریکی سینیٹ نے ان کی تقرری کی توثیق کر دی ہے۔ دونوں سیاسی جماعتوں کے اراکین نے ان کی نامزدگی کی خاطر خواہ حمایت کی۔

پاکستانی نژاد زاہد قریشی امریکا کی وفاقی عدالت کے پہلے ایشیائی امریکی جج ہوں گے۔ سینیٹ میں اس سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ میں صدر جو بائیڈن کی طرف سے نامزد قریشی کی  16 کے مقابلے میں 83 اراکین نے حمایت کی۔ وہ نیو جرسی ڈسٹرکٹ کی عدالت میں وفاقی جج کی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ سینیٹ نے دو دیگر وفاقی ججوں کی تقرری کی بھی منظوری دے دی۔

آبادی اور پیشہ ورانہ تنوع کی مثال

بدھ کے روز ووٹنگ سے قبل سینیٹ میں اکثریتی رہنما چک شومر نے کہا ”قریشی امریکی تاریخ میں پہلے مسلمان وفاقی جج ہوں گے، جو امریکا کا تیسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ ہمیں نہ صرف اپنی آبادی کے تنوع بلکہ پیشہ ورانہ تنوع کو بھی وسعت دینا چاہئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدر بائیڈن بھی مجھ سے اس بات پراتفاق کریں گے کہ زاہد قریشی اس کی ایک مضبوط مثال ہوں گے۔"

وفاقی جج کے طورپر زاہد قریشی کے نام کی تجویز پیش کرنے والے نیو جرسی کے ڈیموکریٹ سینیٹر کوری بوکر نے قریشی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ’ضمیر کی آواز کا اظہار کرنے والے اور محب وطن شخص ہیں اور وہ ایک مسلمان‘ بھی ہیں۔

 بوکر کا کہنا تھا" ہم مذہبی تکثیریت اور مذہبی تنوع کا جشن منا رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی غیر معمولی موقع ہے اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ دونوں جماعتیں اس خوشی میں شامل ہیں۔“

ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ڈک ڈربن نے کہا کہ قریشی کی خدمات کا ریکارڈ شاندار ہے اور وہ ایک پاکستانی تارک وطن کے بیٹے ہیں۔

زاہد قریشی کون ہیں؟

زاہد قریشی ایک پاکستانی تارک وطن کے بیٹے ہیں۔ وہ نیویارک سٹی میں پیدا ہوئے اور نیوجرسی میں پلے بڑھے، جہاں ریوٹزر لا اسکول سے انہوں نے قانون میں ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے سن 2001 میں ایک لا فرم میں ملازمت اختیار کی لیکن گیارہ ستمبر 2001 کو امریکا کے ٹوئن ٹاورز پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد انہوں نے امریکی فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔

ایک فوجی وکیل کے طورپر خدمات انجام دیتے ہوئے وہ کیپٹن کے رینک تک پہنچے۔ انہیں سن 2004 سے 2006 کے درمیان عراق میں تعینات کیا گیا۔ فوجی خدمات چھوڑدینے کے بعد انہوں نے پہلے امریکا کے محکمہ داخلی سلامتی کے لیے اور پھر نیوجرسی میں امریکی اٹارنی کے دفتر میں کام کیا۔ سن 2019 میں انہیں نیوجرسی میں مجسٹریٹ مقرر کیا گیا اور اب وہ ریاست میں وفاقی عدالت کی بنچ میں جج کے طورپر کام کرنے والے پہلے ایشیائی امریکی اور مسلم جج بن گئے ہیں۔

زاہد قریشی امریکی قانون اور نظام انصاف میں کام کرنے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ انہیں ریاستی اور وفاقی سطح پر جرائم کے پیچیدہ مقدمے لڑنے اور کارپوریشنوں میں تفتیش کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔

قریشی کی تقرری کا خیر مقدم

امریکی مسلمانوں کی تنظیموں اور پاکستانی امریکی برادری نے زاہد قریشی کی تقرری کا خیر مقدم کیا ہے۔

نیوجرسی مسلم لائرز ایسوسی ایشن کی صدر ڈالیا یوسف نے کہا وہ قریشی کی نامزدگی اور ان کے نام کی توثیق کے پورے عمل کو قریب سے دیکھ رہی تھیں اور وفاقی بنچ میں ان کے پہلے مسلم جج کے طورپر تقرری سے کافی پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا”مسلمان اس ملک کا اورسماجی تانے بانے کا حصہ ہیں اور حکومت کے تمام شعبوں بشمول قانون سازیہ، عدلیہ اور انتظامیہ میں ہماری نمائندگی ہونی چاہئے۔"

بائیڈن کی کابینہ، سب سے متنوع

زاہد قریشی امریکا کی مختلف کمیونیٹیزسے تعلق رکھنے والے ان گیارہ افراد میں سے ایک ہیں جنہیں صدر جو بائیڈن نے اس سال کے اوائل میں عدالتی خدمات کے لیے نامزد کیا تھا۔ اپنی نامزدگی کے بعد قریشی اپریل میں سینیٹ کی عدالتی کمیٹی کے روبرو شہادت کے لیے پیش ہوئے تھے۔

صدر بائیڈن نے ان افراد کی نامزدگی کے وقت کہا تھا کہ ان میں سے ہر ایک امریکی آئین کے مطابق غیر جانبدارانہ طور پر انصاف مہیا کرنے کی قابلیت رکھتا ہے۔ یہ امیدوار امریکہ کے اس تنوع، تجربہ اور تناظرکی نمائندگی کرتے ہیں، جو امریکہ کو ایک مضبوط ملک بناتا ہے۔

بائیڈن کی کابینہ امریکا کی تاریخ میں اب تک کی سب سے متنوع کابینہ ہے۔ کابینہ میں نصف تعداد خواتین کی ہے اور ان میں اکثریت سیاہ فاموں کی ہے۔ پہلی مرتبہ ایک خاتون کو وزیر خزانہ اور ایک سیاہ فام کو وزیر دفاع بنا یا گیا ہے۔

بائیڈن کابینہ میں پہلے سے ہی مختلف عہدوں پر تین پاکستانی دلاور سید، سلمان احمد اور علی زیدی شامل ہیں۔

 ج ا/ ص ز  (ایجنسیاں)

ویڈیو دیکھیے 01:48

امریکا اور پاکستان میں ’پیار اور نفرت‘ کا رشتہ ہے، جیمز لِنڈسی

DW.COM