پاکستانی میڈیا کی مذہبی اقلیتوں میں عدم دلچسپی | معاشرہ | DW | 27.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

پاکستانی میڈیا کی مذہبی اقلیتوں میں عدم دلچسپی

مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتا ہوا اظہار نفرت پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔ اگر یکجہتی سے اس کے خلاف کوئی حکمت عملی طے نہ کی تو مذہبی اور شخصی دونوں آزادیاں معدوم ہو جائیں گی۔

اس موضوع پر اسلام آباد میں آج ستائیس جون جمعرات کو ہونے والی ایک دلچسپ کانفرنس میں اتفاق رائے دیکھا گیا۔ کانفرنس میں دو تحقیقی رپورٹیں پیش کی گئیں جن میں چونکا دینے والے انکشافات تھے۔ پہلی تحقیق میں ٹی وی چینلز، ریڈیو اسٹیشن اور اخبارات کے حالیہ مواد کا شماریاتی جائزہ تھا جس میں یہ جانچا گیا کہ ملکی میڈیا پاکستانی مذہبی اقلیتوں کو کتنی اور کس قسم کی کوریج دیتا ہے۔

پاکستانی سماجی ترقی کے ادارے IRADA کی اس تحقیق کے مطابق پرنٹ میڈیا میں مذہبی اقلیتوں کی سب سے زیادہ کوریج ہوتی ہے جبکہ ٹی وی اور ریڈیو میں سب سے کم یا نہ ہونے کے برابر۔ تحقیق کے مطابق 3000 خبروں میں سے صرف 53 خبریں اقلیتوں کے بارے میں تھیں۔ ان میں سے  تقریباﹰ پینسٹھ فیصد ہندوؤں اور مسیحی برادری کے بارے میں تھیں، چند سکھ اور کیلاش برادریوں کے بارے میں تھیں جبکہ دیگر مذہبی اقلیتوں بشمول احمدی، بدھ مت، بہائی اور پارسیوں کے بارے میں کوئی کوریج نہیں تھی۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو تھوڑی بہت کوریج اقلیتوں کو ملی اس میں صرف ایک چوتھائی خبریں ایسی تھیں جو براہ راست کسی نہ کسی اقلیت پر فوکس کر رہی تھیں جبکہ تین چوتھائی میں اقلیتوں کا صرف بلاواسطہ ذکر تھا۔

اس تحقیقی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ زیادہ تر خبروں کا موضوع  توہین مذہب  تھا اور اس موضوع پر زیادہ تر خبروں کا تعلق مسیحی برادری سے تھا۔ اس کےعلاوہ اگر کوئی موضوع اقلیتوں کے حوالے سے ہوتا ہے، تو وہ ان کے مذہبی تہوار تک ہی محدود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر پانچ میں سے چار خبریں، جن میں پاکستانی میڈیا اقلیتوں کا ذکر کرتا ہے، ان میں سے کسی بھی اقلیتی نمائندے کی نہ آواز یا رائے شامل ہوتی ہے اور نہ اقلیتوں کے بارے میں بات کی جاتی ہے۔ یعنی ان کو بات کرنے کا موقع نہیں دیا جاتا جبکہ زیادہ تر خبروں میں ان کو بے چارگی کے پیرائے میں یا کسی متنازعہ پیرائے میں دکھایا جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ان نتائج پر جہاں سب کا اتفاق تھا، وہاں مختلف آراء بھی پائی گئیں۔ سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی ریاست حقوق کے پیرائے میں معاملات پر عدم توجہی کا مظاہرہ کرتی ہے اور سکیورٹی اسٹیٹ ہونے کے ناطے عوام کی فلاح کو پس پشت ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں دیگر افراد کے حقوق بھی پس منظر میں چلے جاتے ہیں، وہیں پر مذہبی اقلیتیں بھی خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں۔

 پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں دانش کے بجائے جذباتیت کا غلبہ پایا جاتا ہے جس کی بنا پر اقلیتیں معاشرے اور ریاست دونوں کی ترجیحات میں اپنے آپ کو غائب پاتی ہیں۔ ان کے بقول اس بات کا مقابلہ صرف اس طرح کیا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں دانش کے ڈھانچے اور روایت کو فروغ دیا جائے اور مضبوط کیا جائے جو کہ اظہار رائے کی آزادی کے بغیر ناممکن ہے۔

پیٹر جیکب نے، جو پیپلز کمیشن فار مائناریٹیز کے چیئرپرسن ہیں، کہا کہ مین اسڑیم میڈیا اقلیتوں کے مفادات کو جگہ نہیں دیتا اور جب کچھ جگہ پانے کے لیے اقلیتیں آن لائن جاتی ہیں اور سوشل میڈیا استعمال کرتی ہیں، تو تحقیر اور نفرت وہاں بھی ان کا تعاقب کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل میڈیا سے متعلق آگہی اور بہتر سماجی جامعیت میں ہے۔

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے سندھ کمیشن برائے حقوق نسواں کی چیئرپرسن نزہت شیریں نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کو جن مسائل کا سوشل میڈیا پر سامنا کرنا پڑتا ہے، ان میں یہ بھی شامل ہے کہ مذہبی اقلیتوں کی خواتین کے خلاف امتیاز دگنا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کو اپنی خواتین کو آگے لانا چاہیے تاکہ اقلیتوں کے بارے مں جو تھوڑی بہت میڈیا کوریج دیکھنے میں آتی ہے، اسے صنفی نقطہء نظر سے زیادہ بہتر اور متنوع بھی بنایا جا سکے۔

سکھ برادری کے ایک فعال سماجی کارکن راجیش سنگھ ٹونی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ''ہمیں اپنے ملکی میڈیا سے گلہ ہے کہ وہ ہمیں محض مذہبی اقلیتوں کے طور پر ہی کیوں دیکھتے ہیں، بطور انسان اور معاشرے کے ایک پسے ہوئے طبقے کے طور پر کیوں نہیں دیکھتے؟ اگر میڈیا عوام کے مفادات کا محافظ ہے، تو پھر پالیسی سازوں کو رپورٹنگ کر کے بتائے کہ  اقلیتوں کے بچوں کو سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے نہ ملنے کی وجہ سے ہمارے بچے برابر اقتصادی مواقع سے محروم ہو جاتے ہیں۔‘‘

نامور دانشور اور تجزیہ کار ڈاکٹر ناظر محمود کا کہنا تھا کہ مذہبی اقلیتوں کو میڈیا میں بہتر نمائندگی دینے کا ایک فعال ذریعہ یہ ہو گا کہ میڈیا میں کم ازکم پانچ فیصد نیوز سٹاف کا تعلق مذہبی اقلیتوں سے ہو تاکہ اقلیتوں سے متعلق میڈیا کوریج میں اعتدال آ سکے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار وجاہت مسعود، جن کی بے باک گفتگو سب کو پسند آئی، نے کہا کہ دانشور حلقوں کی جانب سے اگر اقلیتی برادریوں کے حقوق کا تحفظ سنجیدگی سے نہ کیا گیا، تو ان کے اپنے حقوق بھی کھو جائیں گے۔  انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،''بہتر یہ ہے کہ سب مل کر ریاست اور حکومت پر زور دیں کہ ملک میں جامعیت کو پالیسی کے طور پر فروغ دیا جائے۔‘‘

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل حارث خلیق نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ ایک سنجیدہ موضوع ہے اور اس کا حل پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اسی ریسرچ کے نتائج کی روشنی میں شراکت داروں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مختلف شراکت داروں پر مشتمل ایک نیٹ ورک بنایا جانا چاہیے، جس میں ایک ہمہ جہت حکمت عملی کی بنیاد پر ایسے اقدامات شامل ہوں، جن کے نتیجے میں اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنا کر مذہبی اقلیتوں کی آوازیں بھی قومی دھارے میں شامل کی جا سکیں۔

پاکستانی میڈیا میں مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کا رجحان کم تر

عمران خان کا دونوں نابالغ ہندو بہنوں کی بازیابی کا حکم

DW.COM