پاکستانی میڈیا اپنے لیے قابل عمل کاروباری ماڈلز کی تلاش میں | بولو بھی بیرومیٹر | DW | 01.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

بولو بھی بیرومیٹر

پاکستانی میڈیا اپنے لیے قابل عمل کاروباری ماڈلز کی تلاش میں

پاکستانی حکومت میڈیا سے متعلق قواعد وضوابط اور سنسرشپ کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک وسعت دے رہی ہے جبکہ مرکزی دھارے کے خبر رساں ادارے ابھی اظہار رائے کی آزادی کے نئے مواقع کے لیے ٹھوس راستوں کی تلاش میں ہیں۔

 

  •  پاکستانی صحافت اور میڈیا میں مختلف پلیٹ فارمز اور نقطہ ہائے نظر میں تنوع کی کمی ہے

  •  پاکستان میں روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا یکساں نوعیت کا مواد شائع اور نشر کر رہے ہیں اور ان پر ایک ہی طرح کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہے

  •  شہریوں کی مدد سے شروع کیے جانے والے صحافتی منصوبوں کا دائرہ کار محدود ہے

  •  آن لائن صحافت کی سمت سفر کے لیے پائیدار منصوبوں کا فقدان ہے

پاکستان کی ٹیلی وژن چینلز کے زیر اثر میڈیا انڈسٹری اس وقت ڈیجیٹل تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ تاہم آن لائن تحقیقاتی صحافت اور سٹیزن جرنلزم کے لیے کسی پائیدار کاروباری ماڈل کی عدم موجودگی میں یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔ پاکستان میں ڈیجیٹل منظر نامہ ابھی تک قواعد و ضوابط سے آزاد ہے۔ اس بارے میں جو قانون سازی کی جا رہی ہے، اس کے ذریعے نفرت آمیز آن لائن مواد کی تشہیر، ہتک عزت اور ہراسگی جیسے جرائم کی روک تھام تو ممکن ہو سکے گی لیکن  یہ قوانین اختلافی رائے رکھنے والوں کے خلاف کارروائی اور معاشرے کی کمزور آوازوں کو دبانے کے لیے سرکاری قدغنوں اور پابندیوں کا باعث بھی بن سکتےہیں۔

پاکستان میں ڈیجیٹل میڈیا کے منظر نامے پر  بڑے بڑے ٹی وی چینلز اور اخبارات چھائے ہوئے ہیں۔ یہ میڈیا ہاؤسز فیس بک، ٹوئٹر اور واٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فیس بک صارفین کی تعداد تین کروڑ تیس لاکھ ہے جبکہ ملک میں سٹیزن جرنلزم کے مواقع انتہائی کم ہیں، جس کی وجہ سے معاشرے کے کمزور طبقات کو میڈیا پر نمائندگی کے بہت ہی کم مواقع میسر آتے ہیں۔

پاکستان کے ڈان میڈیا گروپ کی ڈیجیٹل حکمت عملی کے سربراہ اور ایڈیٹر جہانزیب حق کہتے ہیں، ''اس طرح کا مواد شاذ و نادر ہی موجود ہوتا ہے، جس میں خواتین، اقلیتوں اور علاقائی زبانیں بولنے والوں کی نمائندگی کی گئی ہو۔‘‘ جہانزیب حق کے مطابق خبروں سے متعلق ویب سائٹس پر نوے فیصد جبکہ فیس بک پر ستر فیصد صارفین مرد ہیں۔

ایسے صارفین جو انگریزی زبان پڑھ سکتے ہیں، ان کے پاس انتخاب کے زیادہ مواقع موجود ہیں۔ ایک غیر سرکاری تنظیم 'میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘ کے بانی سربراہ اسد بیگ کا کہنا ہے، ''ڈیجیٹل میڈیا پر بھی دیہی اور شہری علاقوں کے صارفین کے مابین پائی جانے والی تقسیم موجود ہے۔‘‘ ٹی وی چینلز کے ناظرین کی اکثریت بڑے شہروں میں رہتی ہے اور اس لیے یہ چینلز ایسے دشوار گزار علاقوں کی کوریج بہت کم کرتے ہیں، جہاں سے انہیں اشتہارات ملنے کی امید بھی کم ہو۔

پاکستان کے معروف انگریزی روزنامے دی نیوز کی ڈپٹی ایڈیٹر (ایڈیٹوریل) زیب النساء برکی کا کہنا ہے کہ صحافی گروپوں میں خواتین اور اقلیتوں کی نمائندگی بہت کم ہے، ''اس میں کوئی شک نہیں کہ پریس کلبوں اور صحافیوں کی یونینوں تک میں خواتین کی نمائندگی کم ہے۔‘‘ نئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خاص طور پر ٹوئٹر نے فیڈبیک کا ایسا طریقہ وضع کیا ہے، جس سے صحافیوں اور شہریوں کے درمیان مکالمے کی سہولت میسر آ گئی ہے۔

ریاستی اورخود ساختہ سنسرشپ

صرف روایتی اخبارات ہی اپنے آن لائن ایڈیشن کی اشاعت کے موقع پر خبری اور ادارتی مواد کی درستگی اور شفافیت کے معیار کا خیال رکھتے ہیں ۔ اس کے علاوہ میڈیا سے متعلق مواد زیادہ تر ناقص معیار کا ہوتا ہے۔ جہانزیب حق کے مطابق یہ معاملہ خاص طور پر اردو زبان میں تیار کردہ مواد کو درپیش ہے۔ عام طور پر بڑے میڈیا ادارے اخبارت میں شائع اور ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والا مواد ہی آن لائن منتقل کر دینے پراکتفا کرتے ہیں۔ اس لیے وہ نئے صارفین تک پہنچنے کا موقع کھو دیتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا، ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کا ادارتی معیار ایک ہی ہے۔

انگریزی اخبار 'ڈیلی ٹائمز‘ کے سابق ایڈیٹر اور آن لائن نیوز پلیٹ فارم 'نیا دور‘ کے بانی رضا رومی کا کہنا ہے کہ  ٹی وی اور اخبارات میں شائع ہونے والے مواد کے آن لائن منتقل ہو جانے سے ان کا ادارتی معیار ایک سا ہی رہتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس مواد کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر بھی اسی طرح کی قدغنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسی روایتی میڈیا دیکھنے میں آتی ہیں۔

صحافیوں کو بھی پاکستان کے الیکٹرانک جرائم سے متعلق مبہم قوانین کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے حکومت کی جانب سے میڈیا بشمول ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ایک نئی ریگولیٹری باڈی قائم کرنے کی تجویز پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ 2017ء میں چار انٹرنیٹ بلاگرز کو اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر ان کے خلاف توہین مذہب کے جھوٹے الزامات پر مبنی ایک خطرناک سوشل میڈیا مہم چلائی گئی۔ جہانزیب حق کہتے ہیں، ''ایک وقت تھا جب انٹرنیٹ پابندیوں سے آزاد تھا اور کسی بھی موضوع پر آن لائن بات چیت کی جا سکتی تھی۔ مگر اب یہ کام اتنا آسان نہیں رہا۔‘‘

ان خدشات کے باوجود زیب النساء برکی ڈیجیٹل صحافت کے شعبے میں بہت زیادہ امکانات اور مواقع دیکھتی ہیں، ''آزادانہ طور پر ویڈیو بلاگز، بلاگز اور نئی آن لائن صحافت کا آغاز کرنے والے اپنی آوازیں معاشرے تک پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ وہ زیادہ تر ایسے چھوٹے چھوٹے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں، جو پاکستان کے سیاسی ہیجان سے عبارت منظر نامے میں زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں کہ سنسرشپ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر وہ اپنا کام کس حد تک کر پاتے ہیں۔‘‘

قابل عمل مالیاتی ماڈلز کی عدم دستیابی

اسد بیگ کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا کے دیرپا استحکام سے متعلق شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں اور اس کی وجہ کسی قابل عمل آمدنی سے متعلق ماڈل کی عدم دستیابی ہے۔ اس کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صحافتی تنظیمیں آزاد صحافیوں کو تسلیم نہیں کرتیں۔ ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق اکثر منصوبوں کے لیے رقوم اکثر غیر سرکاری تنظیمیں فراہم کرتی ہیں۔ جہانزیب حق کے مطابق، ''سٹیزن جرنلزم نہ ہونے کی وجہ سے بلاگنگ صرف آراء اور تجزیوں تک محدود ہے۔ اکثر کامیاب بلاگر بالآخر کالم نویسوں کے طور پر بڑے میڈیا اداروں سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ رضا رومی، جو نیا دور نامی  سماجی میڈیا چلاتے ہیں، کے مطابق مقامی سطح پر شہریوں کی کاوشوں کے ذریعے ایک عوام دوست، ترقی پسند اور ہمہ جہت  نیوز ایجنڈا ترتیب دیا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں ریاستی سطح پر صرف ایک ہی نیوز چینل ہے، جسے اکثر سرکاری پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لیے پاکستان میں نجی شعبے کے ٹی وی چینلز کی بہت مانگ ہے۔ تاہم جہانزیب حق کے مطابق نجی ٹی وی چینلز کے پاس کوئی پائیدار کاروباری ماڈل یا ماڈلز موجود نہیں اور انہیں زیادہ تر سرکاری اشتہارات پر ہی مالی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مالی کفایت شعاری کی مہم کے تحت سرکاری اشتہارات کی بندش کو میڈیا انڈسڑی کے لیے قیامت کا منظر نامہ قرار دیا جا رہا ہے۔ لیکن اسد بیگ کے مطابق بہت سے میڈیا مالکان یہ کاروبار منافع کے لیے نہیں کر رہے۔ یہ مالکان اپنا ذاتی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے مزید پیسہ اور اپنی نیوز مشینری کا بے دریغ استعمال کرنے کے لیے بھی تیار رہتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کے ادارے غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ خود پر ہی پابندیاں بھی عائد کر لیتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا میں پائے جانے والے اس تضاد کا تجزیہ کرتے ہوئے اسد بیگ کہتے ہیں، ''پاکستانی میڈیا بیک وقت انتہائی آزاد اور بالکل بھی آزاد نہیں ہے۔‘‘

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

زیب النساء برکی، ڈپٹی ایڈیٹر، دی نیوز

’’آن لائن صحافت کا آغاز کرنے والی بہت سی نیوز ویب سائٹس اور افراد خبر پرکھنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں لکین ان کے پاس ڈیجیٹل صحافت کے لیے درکار آلات اور وسائل موجود نہیں ہیں۔ انہیں موبائل جرنلزم اور ڈیجیٹل ڈیٹا جرنلزم کی تربیت نہیں دی گئی۔‘‘

جہانزیب حق، ایڈیٹر و سربراہ ڈیجیٹل میڈیا سٹریٹیجی، ڈان

’’پاکستان میں میڈیا آزاد نہیں ہے۔ میڈیا پر ریاستی اور غیر ریاستی عناصر اور کاروباری مفادات کا زبردست دباؤ ہے۔ اس صورت حال کی عکاسی ڈیجیٹل میڈیا میں بھی ہوتی ہے۔‘‘

اسد بیگ، بانی و ایگزیکٹیو ایڈیٹر، 'میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی‘

’’جس طرح کے عوامل روایتی میڈیا میں رپورٹنگ پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، وہی عوامل یعنی کاروباری مفادات، سیاسی اور حکومتی دباؤ آن لائن میڈیا کی آزادی پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔‘‘

رضا رومی، سابق ایڈیٹر، ڈیلی ٹائمز اور بانی و ایگزیکٹیو ایڈیٹر، نیا دور

’’پاکستان میں صحافت کا پائیدار مستقبل شہریوں اور صحافیوں کے رضاکارانہ مالی تعاون اورصارفین کی طرف سے  چھوٹے موٹے عطیات سے منسلک ہے۔‘‘

سفارشات

شہریوں کی جانب سے اقدامات

ماہرین کے مطابق بڑے میڈیا گروپوں کے کاروباری مفادات اور منصوبوں کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کے سبب پاکستان میں صحافت کا مستقبل شہریوں کی جانب سے تعاون کے قابل عمل منصوبوں سے جڑ گیا ہے۔

رضا رومی کے مطابق، ''اگر قابل اعتماد رپورٹر اور ایڈیٹرز شہریوں کے ساتھ ملک کر خبروں کے ایجنڈے کا تعین کریں، تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ درست خبر کس نے دی نہ کہ یہ کہ پہلے کوئی خبر کس نے دی۔‘‘ رومی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منظر نامے میں مختلف نقطہ ہائے نظر اور آراء سامنے آئیں گی اور پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی بھی ممکن ہو جائے گی۔

میڈیاکا استحکام

ماہرین ملک میں آن لائن صحافت کے فروغ کے لیے پائیدار راستوں کی تلاش پر تحقیق اور سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ رضا رومی کے مطابق پاکستان میں صحافت کا مستقبل ہی سیاست اور معاشرے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ یونیورسٹیوں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ آن لائن صحافت کے فروغ کے لیے اقدامات کریں۔ جہانزیب حق کے مطابق میڈیا اداروں کو جدت پسندانہ حوالے سے سرمایہ کاری کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق میڈیا کی بقا کا دار و مدار پاکستان میں صحافت کے بدلتے ہوئے منظر نامے کے ادراک پر ہے۔

صحافت کا معیار اور دائرہ کار

آزادانہ صحافت کرنے والے صحافی اور ادارے اگر یہ چاہتے ہیں کہ صارفین انہیں آن لائن خبریں فراہم کرنے کا معاوضہ ادا کریں، تو انہیں اپنی خبروں اور حالات حاضرہ کی رپورٹنگ کا معیار بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ اسد بیگ کے مطابق اس طریقے سے تیار کردہ مواد کی صارفین کو ترسیل کا دائرہ کار بھی بڑھانا ہوگا تاکہ ایسے لوگ جو خبروں اور معلومات کے لیے ٹی وی اور اخبارات استعمال نہیں کرتے، انہیں یہ خبریں اور معلومات انٹرنیٹ کے ذریعے دستیاب ہو سکیں۔

#بولو بھی بیرومیٹر ڈی ڈبلیو اکیڈمی کا ایک پروجیکٹ ہے، جس میں ڈیجیٹل شراکت داری، آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے درمیان ربط کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ مزید معلومات کے لیے:  www.dw.com/barometer