پاکستانی فوج کے تجربے ميں ہاتھ کھوئے تھے، ابو حمزہ | حالات حاضرہ | DW | 09.05.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی فوج کے تجربے ميں ہاتھ کھوئے تھے، ابو حمزہ

نيو يارک کی ايک عدالت ميں دہشت گردی و ديگر الزامات کا سامنا کرنے والے ابو حمزہ المصری نے مقدمے کے سماعت کے دوران پاکستان، افغانستان، بوسنيا اور الجزائر ميں اپنی سرگرميوں کے بارے ميں بتايا۔

مسلمان عالم مصطفی کامل مصطفی، جسے ابو حمزہ المصری کے نام سے جانا جاتا ہے، کے خلاف امريکی شہر نيو يارک کی ايک عدالت ميں مقدمہ چلايا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز مقدمے کے سماعت کے دوران ابو حمزہ نے اپنے خلاف لگائے جانے والے تمام گيارہ الزامات کو مسترد کر ديا۔

ابو حمزہ نے عدالت کو بتايا کہ سن 1993 ميں پاکستان کے شہر لاہور ميں ملکی فوج کے ايک تجربے کے دوران اُس کے دونوں ہاتھ ضائع ہو گئے تھے۔ بم دھماکے ميں جو آلہ استعمال کيا گيا تھا، اُسے ايک ايسے شخص نے تيار کيا تھا، جس کا نام اُس عرب باشندے کے نام سے مشابہت رکھتا ہے، جس کے بارے ميں مانا جاتا ہے کہ اُس نے 2000ء اور 2001ء ميں افغانستان ميں القاعدہ کے جنگجوؤں کو تربيت فراہم کی تھی۔

مصطفی کامل مصطفی يا ابو حمزہ نے بتايا کہ حادثے کے بعد اُسے ايک ملٹری ہسپتال لے جايا گيا، جہاں وہ قريب ايک ماہ تک زير علاج رہا۔ اُس نے بتايا کہ پاکستانی فوج نے اُسے اُس وقت پيشکش کی کہ اگر وہ اُس واقعے کے حوالے سے خاموشی اختيار کر لے، تو کسی اور عرب مجاہد کو گرفتار نہيں کيا جائے گا۔

ابو حمزہ 1992ء ميں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوا تھا۔ وہ افغان جنگ کے بعد خطے ميں بحالی کے کاموں ميں شرکت کے ارادے سے پاکستان گيا تھا۔ اُس نے بتايا کہ اُسے کافی حيرانی تھی کہ کس طرح لاہور کے ايک علاقے ميں دو مکانات کے درميان خالی زمين پر دھماکا خيز مواد کی آزمائش کا عمل جاری تھا۔ اُس نے مزيد کہا، ’’ميں کافی حيرت زدہ تھا کہ پڑوسی شکايت کيوں نہيں کرتے يا پوليس کو کيوں نہيں بلاتے۔ وہ سب فوج گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔‘‘

ابو حمزہ نے مقدمے کی سماعت کے دوران مزيد بتايا کہ جب مالی امداد مہيا کرنے والے سعوديوں نے کئی بڑے منصوبوں کی مالی معاونت ترک کر دی تو اُس نے پاکستانی فوج کے ليے ملازمت کرنے کے معاملے ميں چند عرب باشندوں کی مدد کی تھی۔ اُس کے بقول پاکستانی فوج کو ’ديگر مسلح تنازعات‘ کے ليے ’حکمت عملی سے متعلق صلاحيتوں اور دھماکا خيز مواد کے ساتھ تجربے‘ والے افراد درکار تھے۔

نيو يارک کی ايک عدالت ميں دہشت گردی و ديگر الزامات کا سامنا کرنے والے المصری نے مقدمے کی دوسری سماعت کے دوران پاکستان، افغانستان، بوسنيا اور الجزائر ميں اپنی سرگرميوں کے بارے ميں بتايا۔

ابو حمزہ کو 1998ء ميں يمن ميں سولہ مغربی باشندوں کے اغوا، 1999ء ميں اوريگن ميں جہادی کيمپ شروع کرنے کی کوشش، القاعدہ کی معاونت، طالبان کی مدد کرنے اور دہشت گردی کی تربيت کے ليے نئے لوگوں کو افغانستان بھيجنے کے الزامات کا سامنا ہے۔