پاکستانی فلم ساز غيرت کے نام پر قتل ميں کمی کی خواہاں | فن و ثقافت | DW | 08.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستانی فلم ساز غيرت کے نام پر قتل ميں کمی کی خواہاں

آسکر ايوارڈ يافتہ پاکستانی فلم ساز شرمين عبيد چنوئے اميد کرتی ہيں کہ اکيڈمی ايوارڈ کے ليے نامزد ان کی تازہ ترين دستاويزی فلم ملک ميں غيرت کے نام پر قتل کے خلاف سخت تر قوانين متعارف کرائے جانے ميں مددگار ثابت ہو سکے گی۔

شرمين عبيد چنوئے کی اس فلم ميں ايک لڑکی کی کہانی بيان کی گئی ہے، جس نے اپنے والد کی رضامندی کے بغير اپنی مرضی سے شادی کی۔ بعد ازاں پہلے اسے اس کے والد اور پھر ايک رشتہ دار نے قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس دستاويزی فلم کو جنوری ميں آسکر ايورڈ کے ليے نامزد کيا گيا، جس کے بعد پاکستانی وزير اعظم نواز شريف نے اس عہد کا اظہار کيا کہ وہ اس سفاکانہ جرم کے خلاف سخت موقف اختيار کريں گے۔

پاکستان ميں ہر سال سينکڑوں مرد اور خواتين کو غيرت کے نام پر قتل کر ديا جاتا ہے۔ ہيومن رائٹس کميشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2015 ميں تقريباً پانچ سو مرد و خواتين کو غيرت کے نام پر قتل کيا گيا۔ مبصرين کا کہنا ہے کہ غيرت کے نام پر قتل کے زيادہ تر واقعات ميں مقتول کے رشتہ دار ہی ملوث ہوتے ہيں، جن کا يہ موقف ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص نے خاندان کو شرمندہ کيا۔

شرمين عبيد چنوئے کی اس فلم ميں ايک لڑکی کی کہانی بيان کی گئی ہے، جس نے اپنے والد کی رضامندی کے بغير اپنی مرضی سے شادی کی

شرمين عبيد چنوئے کی اس فلم ميں ايک لڑکی کی کہانی بيان کی گئی ہے، جس نے اپنے والد کی رضامندی کے بغير اپنی مرضی سے شادی کی

پاکستان کے جنوبی شہر کراچی ميں نيوز ايجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے شرمين عبيد چنوئے نے کہا، ’’لوگوں کو يہ سمجھنا چاہيے کہ يہ کافی سنگين جرم ہے۔‘‘ ان کے بقول ايسے عوامل مذہب اور پاکستانی ثقافت کا حصہ نہيں۔ چنوئے کے مطابق ايسے واقعات کو ’پہلے سے منصوبہ بنانے کے بعد قتل‘ کے طور پر ديکھا جانا چاہيے اور قاتلوں کو جيل بھيجا جانا چاہيے۔

پاکستانی فلم ساز کی فلم ’آ گرل ان دا ريور : دا پرائس آف فار گيونس‘ مارچ ميں ٹيلی وژن چينل ايچ بی او پر چلائی جائے گی۔ يہ فلم صوبہ پنجاب کی انيس سالہ لڑکی صبا کی کہانی پر ہے۔ صبا کے اپنی مرضی سے شادی کرنے پر اس کے والد اور انکل نے اسے مارا پيٹا، اس کے چہرے پر گولی ماری اور پھر اسے ايک بوری ميں بند کر کے دريا ميں پھينک ديا۔ صبا کسی نہ کسی طرح بچ گئی اور پھر اس نے اپنے ساتھ ايسا سلوک کرنے والوں کو انصاف کے کٹھہرے ميں کھڑا کرنے کا عہد کيا۔

بعد ازاں اس کے والد اور انکل دونوں کو حراست ميں لے ليا گيا تاہم صبا پر کافی دباؤ ڈالا گيا کہ وہ انہيں معاف کر دے۔ يہ امر اہم ہے کہ پاکستانی قوانين کے تحت معافی کی صورت ميں شکايت درج کرانے والے سے يہ حق چھين ليتا ہے کہ وہ اپنے حملہ آوروں کے ليے سزا کی کوشش کرے، خواہ معاملہ قتل کی کوشش جيسے سنگين جرم ہی کا کيوں نہ ہو۔ اگر اس قانون ميں تبديلی کر کے معاف کر دينے کی سہولت ہٹائی جا سکے، تو پاکستان ميں غيرت کے نام پر قتل کيے جانے والوں کی تعداد ميں کمی رونما ہو سکتی ہے۔

فلم ساز شرمين عبيد چنوئے پہلے بھی پاکستان ميں تيزاب پھينکنے کے واقعات پر مبنی دستاويزی فلم ’سيونگ فيس‘ کے ليے آسکر ايوارڈ جيت چکی ہيں۔