پاکستانی طالب علم تيمور احمد امريکا ميں خوف زدہ کيوں ہے؟ | معاشرہ | DW | 09.07.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

پاکستانی طالب علم تيمور احمد امريکا ميں خوف زدہ کيوں ہے؟

امريکی انتظاميہ کی جانب سے غير ملکی طلباء کو ملک چھوڑنے کی ہدايت نے امريکا ميں لگ بھگ ايک ملين غير ملکی طلباء کی مشکلات ميں اضافہ کر ديا ہے۔ ہزاروں پاکستانی طلباء بھی خوف ميں مبتلا ہيں۔

يو ايس اميگريشن اينڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے محکمے نے اسی ہفتے اعلان کيا ہے کہ امريکا ميں زير تعليم ايسے غير ملکی طلبا، جن کی تمام کلاسيں آن لائن جاری ہيں، انہيں اپنے ملک واپس جانا پڑے گا بصورت ديگر انہيں ملک بدری کا خطرہ ہے۔ لاس اينجلس کی کال اسٹيٹ يونيورسٹی ميں زير تعليم پاکستانی طالب علم تيمور احمد کو خدشہ ہے کہ اگر ان کی يونيورسٹی نے جلدی کوئی کلاس شروع نہيں کی، تو انہيں واپس جانا پڑ سکتا ہے۔ پچيس سالہ تيمور نے خبر رساں ادارے اے ايف پی کو بتايا، ''ميں فکر مند ہوں کيونکہ اس سے ميرا منصوبہ اور ممکنہ طور پر ميرا مستقبل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔‘‘

کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر ميں اس ہفتے امريکی محکمہ اميگريشن نے يہ اعلان کيا ہے کہ ايسے غير ملکی طلبا جن کی تمام کلاسيں آن لائن جاری ہيں کلاسوں کی بحالی تک اپنے ممالک واپس چلے جائيں۔انٹرنيشنل ايجوکيشن انسٹيٹيوٹ کے مطابق پچھلے سال امريکا ميں غير ملکی طلبا کی تعداد ايک ملين سے زائد تھی۔ دو معروف امريکی تعليم اداروں ميساچوسٹس انسٹيٹيوٹ آف ٹيکنالوجی (MIT) اور ہاروڈ يونيورسٹی نے آٹھ جولائی کو حکومتی فيصلے کو قانونی طور پر چيلنج کر ديا ہے۔

امريکی رياست ٹيکساس کی ايک نامور يونيورسٹی ميں زير تعليم ايک بھارتی طالب علم نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتايا کے وہ اور اس جيسے کئی ديگر غير ملکی طلبا اس وقت امريکا ميں خوف زدہ ہيں۔ ''اگر ميں بيمار ہو جاتا ہوں، تو ميری تيمار داری کے ليے يہاں کوئی نہيں۔ امريکا ميں علاج پر آنے والا خرچا بھارت کے مقابلے ميں کہيں زيادہ ہوتا ہے۔‘‘

امريکا اس وقت کورونا کی وبا سے شديد ترين متاثرہ ملک ہے مگر صدر ٹرمپ ستمبر سے تمام تر اعلی تعليمی اداروے کھولنے پر اصرار کر رہے ہيں۔ ايسے ميں وہاں موجود غير ملکی طلباء خود کو 'کوليٹرل ڈيمیج‘ کے طور پر ديکھتے ہيں۔ يہ جنگی صورت حال ميں ايسے جانی و مالی نقصان کو کہا جاتا ہے، جو دشمن کو نشانہ بنانے کی کوشش ميں غير دانستہ طور پر  خود کو بھی نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔

اليکٹريکل انجينيئرنگ کی تعليم حاصل کرنے والی ايک بھارتی طالبہ نے بتايا کہ ايريزونا ميں کورونا کے کيسز بڑھ رہے ہيں ليکن اس کے باوجود اسے اپنی تحقيق جاری رکھنا پڑ رہی ہے۔ 'يہ ظالمانہ ہے، بالکل ظلم اور کچھ بھی نہيں۔‘‘

امريکا ميں زير تعليم غير ملکی طلبا اس سال کے اواخر ميں کورونا کی وبا کی ايک اور لہر کی توقع کر رہے ہيں۔ ايسی صورت ميں تمام کلاسيں آن لائن کر دی جائيں گی۔ ايک طالبہ نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر اے ايف پی کو بتايا، ''اگر ميرا ويزا مسترد ہو جاتا ہے، تو ميری تين سال کی محنت ضائع ہو جائے گی۔ ميں نے اس ڈگری کو حاصل کرنے کے ليے کافی وقت صرف کیا ہے۔‘‘

صرف طلباء ہی نہيں امريکی يونيورسٹيوں کی انتظاميہ کا بھی ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کی اميگريشن سے متعلق پاليسياں امريکی تعليمی اداروں کو غير ملکی طلباء ميں غير مقبول بنا رہی ہيں۔

ع ص / ک م، اے ايف پی