1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
تنازعاتپاکستان

پاکستانی سفارت کاری میں تیزی لیکن خطے میں تناؤ برقرار

عاطف بلوچ اے ایف پی، روئٹز کے ساتھ | ادارت | افسر اعوان
18 اپریل 2026

پاکستانی سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اس بات کی نشاندہی ہے کہ جنگ بندی اور مذاکرات کے باوجود صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔

https://p.dw.com/p/5CPys
ترکی، پاکستان، شہباز، ایردوآن
وزیراعظم شہباز شریف نے دورہ ترکی کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کیتصویر: Turkish Presidency/SIPA/picture alliance

پاکستانی فوجی سربراہ عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت اپنے الگ الگ دورے مکمل کر کے واپس وطن لوٹ آئے لیکن دوسری طرف ایران اور امریکہ کے مابین ایک نیا تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان خود کو امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ علاقائی طاقتوں اور عالمی مفادات کی پیچیدگی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کسی ایک ملک کی ثالثی اس کشیدگی کو مکمل طور پر شاید کم نہیں کر سکتی۔ 

تاہم پاکستانی فوج کے ایک بیان میں عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین قیام امن کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تین روزہ دورہ ایران کے اختتام پر جاری کیے گئے اس بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ پاکستان کے اس 'غیر متزلزل عزم‘ کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ 'مذاکرات کے ذریعے تصفیے میں سہولت فراہم کرے اور امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دے‘۔

 پاکستانی فوج کے مطابق تہران میں 'فیلڈ مارشل نے مکالمے، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی روابط کے ذریعے زیرالتوا مسائل کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا‘۔

عاصم منیر ایران میں
اپنے دورہ ایران کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیںتصویر: Hamed Malekpour/Islamic Consultative Assembly News Agency/AP Photo/dpa/picture alliance

اپنے دورہ ایران کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی، پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر کے سربراہ سے بھی ملاقاتیں کیں۔

'پائیدار قیام امن کی امید قائم ہے‘

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان کی ان کوششوں کے نتیجے میں آئندہ دنوں میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اور مذاکراتی عمل شروع ہو سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے پارلیمان کے اسپیکر قالیباف اور وزیر خارجہ عراقچی نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں بعد اعلیٰ ترین سطح کا براہ راست رابطہ تھا۔

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین ہوئے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، تاہم اس کے باوجود سفارتی کوششیں جاری رہیں، جن میں پاکستان کے وزیر اعظم نے امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سعودی عرب، قطر اور ترکی کا تین ملکی دورہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ بھی ہفتے کے روز مکمل ہوا۔ 

یہ صورتحال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی سفارت کاری اگرچہ فعال اور متحرک ہے مگر زمینی حقائق اور فریقین کے سخت مؤقف کے باعث امن کا راستہ اب بھی نازک اور غیر یقینی بنا ہوا ہے۔

پاکستان، ایرانی امریکی مذاکرت کے دوسرے دور کے لیے کوشاں