پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو ایک دن بھارت کا حصہ بنائیں گے، بھارتی وزیر خارجہ | حالات حاضرہ | DW | 18.09.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو ایک دن بھارت کا حصہ بنائیں گے، بھارتی وزیر خارجہ

بھارتی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد بھارت نے اب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو بھی ایک دن بھارت کا حصہ بنانے کی بات کی ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا ہے کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور نئی دہلی حکومت کو توقع ہے کہ ایک دن بھارت اس پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب اس متنازعہ خطے کی وجہ سے دونوں ممالک میں شدید کشیدگی موجود ہے۔ نئی دہلی حکومت نے بھارتی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت پانچ اگست کو ختم کر دی جس کے بعد سے وہاں مسلسل کرفیو کی طرح کی صورتحال موجود ہے اور اس کا باقی دنیا سے رابطہ کٹا ہوا ہے۔

Indien Kaschmir-Konflikt l Stadt Srinagar

نئی دہلی حکومت نے بھارتی زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت پانچ اگست کو ختم کر دی جس کے بعد سے وہاں مسلسل کرفیو کی طرح کی صورتحال موجود ہے۔

متنازعہ علاقہ کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے۔ نئی دہلی پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو پاکستانی آکوپائیڈ کشمیر (PoK) کا نام دیتا ہے۔ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا، ''پی او کے کے حوالے سے ہمارا نقطہ نظر ہمیشہ سے واضح ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ پی او کے بھارت کا حصہ ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ ایک دن یہ ہمارے دائرہ اختیار میں ہو گا۔ مکمل طور پر ہمارے پاس۔‘‘

ادھر پاکستان نے بھارتی وزیر خارجہ کے ان بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ''ایک قابض ریاست کی طرف سے اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اور معاندانہ بیانات خطے کی صورتحال مزید خراب اور امن اور سلامتی کو داؤ پر لگا سکتے ہیں۔‘‘ اس بیان میں مزید کہا گیا، ''پاکستان امن کا حامی ہے لیکن کسی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔‘‘

منگل 17 ستمبر کو بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو میں دہرایا کہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثییت ختم کرنا بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع ا (روئٹرز، اے ایف پی)

 

DW.COM