پاکستانی روپے کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح پر | حالات حاضرہ | DW | 31.05.2012

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی روپے کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح پر

رواں مالی سال کے بجٹ کی آمد سے قبل پاکستانی روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ۔ اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر 94 روپے 50 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے

فاریکس ڈیلروں کا کہنا ہے کہ امپورٹ بل اور آئی۔ ایم ۔ ایف کے قرضوں کی ادائیگی کے نتیجے میں زر مبادلہ کے ذخائر پر ممکنہ دباﺅ پرمارکیٹ میں ردِ عمل دیکھا جا رہا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو 2012 ء سے 2015 ء تک چار قسطوں میں آئی ۔ ایم۔ ایف کو سات ارب بیاسی کروڑ ڈالر واپس کرنا ہے۔ جو ذرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ ہے ۔


رواں مالی سال میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلہ میں 6 روپے سے زیادہ کم ہو چکی ہے ۔ انٹر بینک میں بھی پاکستانی روپے کے مقابلہ میں امریکی ڈالر ، برطانوی پاونڈ کی قدر میں اضافہ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم یورو کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔
کرنسی ڈیلر ایسو سی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے سربراہ یاسین انور کا امریکی جریدے کو دیا گیا انٹرویو روپے کی قدر میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔ واضح رہے کہ مرکزی بینک کے گورنر نے دو روز قبل امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جنرل ‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ نوٹ چھاپ کر اور قرضوں سے حکومت چلائی جا رہی ہے جس کی وجہ سے مہنگائی مذید بڑھے گی ۔ ا

Geldwechsler in Pakistan

زر مبادلہ سخت دباؤ میں

س انٹریو میں گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سنگین مسائل کا سامنا ہے ۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری ساٹھ سال کی کم ترین سطح پر ہے۔ مالی سال کا خسارہ GDP کے 8 فیصد تک پہنچ گیا ہے تاہم اُن کے انٹریو کے بعد روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی اور ان کے انٹرویو سے بحرانی کیفیت پیدا ہونے کے بعد آج انہوں نے اپنے انٹرویوکے متنازع حصوں کی تردید جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان کو ایسی صورتِ حال درپیش نہیں ہوگی جس کی وجہ سے ہنگامی طور پر بیرونی امداد کی ضرورت پڑے ۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی۔ ایم ۔ ایف کی آدائیگیوں میں کوئی مشکلات نہیں ہونگی۔
سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہد کا کہنا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پررواں مالی سال میں معیشت پر دباﺅ ضرور ہوگا ، معاشی ترقی کی صورت حال اچھی نہیں ہوگی اور مہنگائی کا طوفان زیادہ تیزی سے اُبھر کا سامنے آئے گا۔ اور آئندہ سالوں میں ذر مبادلہ کے ذخائر آدھے رہ سکتے ہیں۔ معاشی صورت حال پر گہری نظر رکھنے والے سینٹر ہارون اختر نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو حدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ روپے کی قدر میں کمی اور ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ مرکزی بینک کے سربراہ کے انٹرویو کو روپے کی قدر میں کمی کی وجہ نہیں سمجھتے ۔

Geldwechsler in Quetta

کوئٹہ میں منی ایکسچینج ڈیلر کی سرگرمیاں


ماہر اقتصادیات ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی کا کہنا ہے کہ ملک کی مخدوش سیاسی صورتِ حال امریکہ سے بڑھتی کشیدگی ، اتحادی ممالک کی طرف سے کولیشن سپورٹ فنڈ کی عدم فراہمی ، بد امنی اور لاقانونیت ایسے اسباب ہیں جس کہ وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہو پارہی ۔ یہی تمام عوامل اقتصادی بحران کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے بجٹ کی آمد سے قبل پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 39 پیسے کی کمی کو عوام کے لئے خوش آئند قرار دیا مگر اُن کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کے آگے ایسے اقدامات سے عوام کی اشک شوئی نہیں ہو سکے گی۔ حکومت کو اپنے پر تعیش اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال میں ملک کی معیشت پر غیر ملکی وصولیابیوں کے مقابلے میں آدائیگیوں کا حجم چار ارب ڈالر زیاہ رہنے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ روپیہ آنے والے دنوں میں مذید گراوٹ کا شکار رہے گا ۔

رپورٹ: رفعت سعید کراچی

ادارت: کشور مصطفیٰ