پاکستانی اہلکاروں پر پولیو کیسز چھپانے کا الزام | صحت | DW | 08.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

پاکستانی اہلکاروں پر پولیو کیسز چھپانے کا الزام

ایک برطانوی اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستانی حکام پولیو کے تازہ واقعات چھپانے اور اس تیزی سے پھیلتی بیماری کی روک تھام کے لیے حکومت کے علم میں لائے بغیر بچوں کو ویکسین پلانے میں مصروف رہے ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے حکومتی دستاویزات کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیو کا پی ٹو وائرس، جس کا ماضی میں خاتمہ ہو گیا تھا، ایک مرتبہ پھر متعدی صورت اختیار کر گیا ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق پولیو کے پی ٹی وائرس کے بارہ کیسز سامنے آنے کے بعد حکام نے نہ صرف انہیں چھپایا بلکہ خوف ناک صورت حال کو روکنے کے لیے اپنے طور پر بچوں کو ویکسین پلانے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔

پاکستان میں پولیو کی ہنگامی مہم کا آغاز

کیا پاکستان پولیو کے خلاف لڑائی ہار رہا ہے؟

رواں برس پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس سے قبل ستمبر کے مہینے میں پاکستان میں پولیو کے مزید دو کیسز سامنے آئے، رواں برس پاکستان میں پولیو کے وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد ستمبر میں 64 ہو چکی تھی، جو اس بیماری میں اضافے کی واضح نشان دہی کر رہی ہے۔

دو سو آٹھ ملین آبادی کا ملک پاکستان پولیو کے خاتمے کی کوششوں میں مشکلات کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کے دیگر خطوں میں یہ بیماری مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، تاہم پاکستان اب بھی پولیو کا خاتمہ کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔

پاکستانی حکومت کے پولیو کے خاتمے کے پروگرام سے جڑے ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (ای او سی) کے مطابق تازہ کیس لکی مروت کے علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک دو سالہ لڑکی کا ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا ہی کے ضلعے میں پولیو کے ایک تازہ مریض کی اطلاعات بھی ہیں۔ پاکستان میں پولیو کے وائرس کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد کے اعتبار سے صوبہ خیبر پختونخوا سب سے آگے ہے، جہاں رواں برس اب تک 48 مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ویڈیو دیکھیے 05:51

پوليو مہم سے منسلک افراد کے خدشات و تحفظات

پاکستان کی اہم اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نواز کی جانب سے پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے اعتبار سے حکم ران جماعت تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا  ہے۔ مسلم لیگ ن کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک انکوائری ہونا چاہیے، جو یہ واضح کرے کہ پولیو کے خاتمے کا پروگرام کیوں ناکامی کا شکار ہو  رہا ہے۔

سابق وزیر صحت اور مسلم لیگ نواز کی رہنما سائرہ تارڑ نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ''وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطوں کے فقدان کی وجہ سے پولیو پروگرام تباہی کا شکار ہو گیا ہے۔‘‘

تاہم پولیو کے خاتمے کے پروگرام کے لیے وزیراعظم عمران خان کے خصوصی مشیر بابر عطا نے اپوزیشن پر الزام لگایا ہے کہ وہ پولیو سے متاثرہ بچوں کو استعمال کر کے سیاست کر رہے ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ پاکستان میں سن 2015ء میں پولیس کے 54 واقعات سامنے آئے تھے، تاہم اس کے بعد کے برسوں میں یہ بالترتیب بیس، آٹھ اور بارہ رپورٹ ہوئے۔ سن 2019 کے تاہم پہلے نو ماہ میں اس تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic