پاکستانی الیکشن بھارت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل | الیکشن اسپیشل 2018 | DW | 10.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

الیکشن اسپیشل 2018

پاکستانی الیکشن بھارت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کے حامل

پاکستان میں تازہ ترین سیاسی پیش رفت اور عام انتخابات کے حوالے سے بھارت میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ الیکشن کے نتائج خواہ جو بھی ہوں اصل زمام کار پاکستانی آرمی کے ہاتھوں میں ہی رہے گی۔

پاکستان کے انتخابات بھارت کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پڑوسی ہونے اور مشترکہ سیاسی، جغرافیائی اور تہذیبی تاریخ رکھنے کے باوجود دونوں ممالک گزشتہ ستر برسوں سے باہمی عداوت کا شکار ہیں، جس کا خمیازہ دونوں ملکوں کے امن پسند عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کے عام انتخابات میں لیڈران بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے خواہ جتنے بھی وعدے کریں وہ اس وقت اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ پاکستانی فوج اس کے لیے آمادہ نہ ہو اور ایسا نہیں لگتا کہ پاکستانی فوج اس کے لیے آمادہ ہو گی۔


اس صورت حال کے حوالے سے اسٹریٹیجک امور کے ماہر ایئرمارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’پاکستان میں جمہوریت کی لہر ابھری تھی۔ اس نے جڑ پکڑنا شروع کردیے تھے۔ لیکن اس مرتبہ جو ہوا ہے اسے انتہائی بھونڈا مذاق کہا جاسکتا ہے، جو عدلیہ نے فوج کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کے ساتھ کیا ہے۔ یہ جمہوریت کے لیے، پاکستان کے لیے اور پاکستانی عوام کے لیے مثبت قدم نہیں ہے۔‘‘

ٹریک ٹو ڈپلومیسی میں سرگرم حصہ لینے والے ایئر مارشل کپل کاک کا مزید کہنا تھاکہ وہ پاکستان کے ایک دوست کی حیثیت سے کہنا چاہتے ہیں کہ وہاں جو رہی سہی جمہوریت تھی وہ بھی اسی دن ختم ہو گئی جب نواز شریف کو ہٹایا گیا تھا، ’’پہلے وہاں فوج بغاوت کرتی تھی اب فوج کی مدد سے عدالت کے ذریعہ تختہ پلٹ کرایا جارہا ہے۔ دنیا میں ایسا کون سا ملک ہے جہاں منتخب حکومت کو اس طرح ہٹایا جاتا ہے۔‘‘

پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے ایئر مارشل کپل کاک نے کہا، ’’یہ تو ایک فکس میچ ہے۔ پاکستان میں الیکشن تو ہو گئے۔ اب تو صرف پولنگ بوتھ پر جانے کی رسمی کارروائی باقی رہ گئی ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’آرمی پاکستان میں ملی جلی حکومت بنا دے گی اور اصل حکومت راولپنڈی کی ہو گی۔ پاکستان کے ایک دوست کی حیثیت سے میں بہت مایوس ہوں۔ پاکستان کا بھارت کے ساتھ خواہ جیسا بھی رویہ رہا ہے لیکن وہاں کی موجودہ حالت پاکستان کے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔‘‘

Indien Pakistan Atal Bihari Vajpayee und Pervez Musharraf

2014ء  کے عام انتخابات میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد جب وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حلف برداری تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مدعو کیا تھا تو یہ پیغام گیا تھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کا خواہش مند ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے غیر متوقع طور پر لاہور پہنچنے سے اس خیال کو مزید تقویت ملی اور ایسا لگا کہ بھارت پاک تعلقات کے تپتے صحرا میں اچانک بادنسیم کے جھونکے چلنے لگے لیکن پھر جلد ہی پٹھان کوٹ اور اُڑی کا واقعات پیش آ گئے اور ساری امیدیں دم توڑ گئیں۔
پاکستان میں انتخابات کے نتائج کے بعد بھارت کی نریندر مودی حکومت کا رویہ کیسا رہے گا؟ اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار اور سینئر صحافی شیخ منظور احمد نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’جو بھی سویلین حکومت آئے گی بھارت کی حکومت فوج کے مقابلے اس کے ساتھ کام کرنا زیادہ پسند کرے گی۔ یوں بھی بھارت نے باہمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے فوج کے ساتھ کبھی بھی رابطہ نہیں کیا ہے۔‘‘ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا کہ دیرینہ اور حل طلب مسائل پر دونوں ملکوں کے موقف میں فوری طور پر کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔


بھارت میں نواز شریف کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کے حوالے سے ایک امید افزا رہنما سمجھا جاتا ہے، جب کہ یہاں بعض حلقے عمران خان کے سیاسی رویے کو جارحانہ سمجھتے ہیں کیوں کہ قومی اور بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بالخصوص کشمیر کے حوالے سے وہ بھارت کے خلاف اپنے عزائم کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ یہی حال بلاول بھٹو کا بھی ہے۔ وہ انتخابی ریلیوں میں یہ کہتے رہے ہیں کہ کشمیر کا ایک ایک انچ واپس لایا جائے گا۔

دریں اثنا موقر روزنامہ ٹائمزآف انڈیا نے آج اپنے اداریہ میں نریندر مودی حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ بھارت کا لائحہ عمل فی الحال تین نکاتی ہونا چاہیے۔ پاکستان میں جاری کشیدگی کے اثرات سرحد پار تک پھیل سکتے ہیں لہٰذا اس پر سخت نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ سیاست میں بات چیت کا چینل ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے اور چونکہ آرمی پاکستان کا سب سے طاقت ورادارہ ہے، اس لیے اس کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہیے۔

تیسرا یہ کہ پاکستان میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی وجہ سے جو لوگ وہاں سے بھاگ رہے ہیں ان کی مدد کی جائے اور دست گیری کی جائے، ٹھیک اسی طرح سے جیسا کہ امریکا نےسابقہ سوویت یونین کے برگشتہ عناصر کے ساتھ کیا تھا اور جس کی وجہ سے اسے سرد جنگ جیتنے میں بڑی مدد ملی تھی۔

DW.COM

اشتہار