پاکستانی آرمی چیف باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع | حالات حاضرہ | DW | 19.08.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پاکستانی آرمی چیف باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے دفتر کے مطابق ملکی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی ان کے موجودہ عہدے پر ملازمت کی مدت میں تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ایسا پاکستان اور بھارت کے مابین شدید کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے پیر انیس اگست کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق عمران خان کے دفتر کی طرف سے اس بارے میں جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں یہ تین سالہ توسیع دو ہمسایہ لیکن حریف ایٹمی طاقتوں کے طور پر پاکستان اور بھارت کے مابین پائی جانے والی اس شدید کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی ہے، جو اس مہینے نئی دہلی حکومت کے بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے سے متعلق فیصلے کے بعد سے اور بھی زیادہ ہو چکی ہے۔

وزیر اعظم کے دفتر کے جاری کردہ بیان میں کیا گیا، ''یہ فیصلہ علاقائی سلامتی سے متعلق موجودہ ماحول کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔‘‘ جنرل قمر جاوید باجوہ کے موجودہ عہدے کی مدت معمول کے مطابق اس سال نومبر میں پوری ہونا تھی اور کئی سفارتی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کافی عرصہ پہلے ہی سے یہ پیش گوئی بھی کر رکھی تھی کہ پاکستان آرمی کے چیف آف سٹاف کے طور پر جنرل باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع کر دی جائے گی۔

Pakistan Armee chef Qamar Javed Bajwa (picture-alliance/AA/ISPR)

جنرل باجوہ نومبر دو ہزار سولہ کے اواخر میں جنرل راحیل شریف کی جگہ پاکستان آرمی کے سربراہ بنائے گئے تھے

پاکستان اور بھارت کے مابین اس سال فروری میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پلوامہ کے مقام پر کیے جانے والے ایک خود کش کار بم حملے میں کم از کم 40 بھارتی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سے نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین تعلقات بہت ہی کشیدہ ہو گئے تھے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کی فضائی افواج نے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں بھی کی تھیں۔ اس دوران پاکستانی فضائیہ نے ایک بھارتی جنگی طیارہ مار گرایا تھا اور اس کے پائلٹ کو اپنے قبضے میں بھی لے لیا تھا۔ بعد میں یہ بھارتی پائلٹ پاکستان نے اپنی طرف سے خیر سگالی کے جذبے اور امن کی خواہش کے اظہار کے طور پر واپس بھارت کے حوالے کر دیا تھا۔

پھر اس ماہ کے اوائل میں مودی حکومت نے جموں کشمیر کی منقسم ریاست کے اپنے زیر انتظام حصے کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کا اعلان بھی کر دیا تھا، جس کی اسلام آباد حکومت کی طرف سے بھرپور مذمت کی گئی تھی۔ اسی فیصلے کے خلاف چودہ اگست کو پاکستان کے یوم آزادی کے ایک روز بعد پندرہ اگست کو جب بھارت نے اپنا یوم آزادی منایا تھا، تو پاکستان میں اس روز کشمیر کے مسئلے کے تناظر میں ہی یوم سیاہ منایا گیا تھا۔

Imran Khan Pakistan Premierminister

جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سالہ توسیع کا اعلان وزیر اعظم عمران خان کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا

فوجی سربراہ کے طور پر جنرل باجوہ کا دور ملازمت

جنرل قمر جاوید باجوہ کے آرمی چیف کے طور پر عہدے کی مدت کی دوران ہی پاکستان میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں نے فوج پر یہ الزام بھی لگائے تھے کہ فوج ہی مبینہ انتخابی دھاندلیوں کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو اقتدار میں لائی تھی، جن کو اسلام آباد میں سربراہ حکومت بنے اب ایک سال ہو گیا ہے۔

جنرل باجوہ کی اسی مدت ملازمت اور عمران خان حکومت کے اقتدار کے اسی گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان میں بہت سے میڈیا اداروں کو یہ شکایت بھی رہی ہے کہ ملک میں میڈیا کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کو بھی بری طرح محدود کیا جا چکا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی فوج، جو ایک آزاد ریاست کے طور پر پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں تقریباﹰ نصف عرصے تک اقتدار پر قابض رہی ہے، ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی آئی ہے کہ وہ سیاست میں کوئی مداخلت کر رہی ہے یا اس نے میڈیا کی آزادیوں کو محدود کرنے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔

م م / ا ا / روئٹرز

DW.COM