پانچ مشوروں پر عمل کر کے یادداشت کھونے سے بچیں | صحت | DW | 24.07.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

پانچ مشوروں پر عمل کر کے یادداشت کھونے سے بچیں

تازہ تحقیق کے مطابق بہتر نیند لینے اور کام کے دباؤ کا اچھے طریقے سے مقابلہ کرنے سے لے کر زیادہ مطالعہ کرنے تک مختلف چھوٹی چھوٹی روزمرہ سرگرمیوں کے ذریعے الزائمر میں مبتلا ہونے کے خطرات کو ممکنہ طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے واشنگٹن سے اپنے ایک جائزے میں لکھا ہے کہ سائنسدانوں کے لیے یہ ثابت کرنے میں تو ابھی کئی سال لگ جائیں گے کہ آیا کچھ تجرباتی ادویات واقعی انسانوں کو اس قابل بنا دیں گی کہ الزائمر کی بیماری اُن پر دیر سے حملہ کرے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تحقیق پر تو برسوں لگ جائیں گے تاہم بڑی عمر کے لوگوں کو الزائمر میں مبتلا ہونے کا خطرہ آج اور اِس وقت درپیش ہے۔

امریکی شہر نیویارک میں البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن میں ڈاکٹر رچرڈ لپٹن کی لیبارٹری میں صحت مندانہ طور پر عمر رسیدگی کے مرحلے میں داخل ہونے کے موضوع پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ زندگی گزارنے کے طریقوں میں تبدیلی ’ادویات پر کیے جانے والے تحقیق جائزوں سے کہیں زیادہ مثبت نتائج دے رہی ہے‘۔

الزائمر ایسوسی ایشن انٹرنیشنل کانفرنس میں کی جانے والی تحقیق کی بناء پر یہ ہیں وہ پانچ رہنما اصول، جن پر چل کر آپ اپنے دماغ کو مستحکم اور یادداشت محفوظ رکھنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔

اچھی نیند لیں

چھ ہزار سے زیادہ افراد سے پوچھ گچھ کے بعد مرتب کیے جانے والے جائزوں سے پتہ چلا کہ نیند کی خراب کوالٹی اور خاص طور پر نیند کے دوران سانس لینے کے عمل میں رکاوٹ سے یادداشت پر منفی اثر پڑتا ہے اور یہی چیز عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ الزائمر کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ ایسے میں محققین کا مشورہ ہے کہ بہرصورت کسی اچھے ڈاکٹر سے رجوع کریں کیونکہ نیند میں خلل کی کئی صورتوں کا آسانی سے علاج ممکن ہوتا ہے۔

Symbolbild Gehirn Nervenzellen Synapsen

سیکھنے اور پیچیدہ عوامل کے بارے میں سوچنے سے اعصابی خَلیات کے درمیان رابطے مضبوط ہوتے ہیں، جو دماغ پر الزائمر کے حملے کی صورت میں بھرپور دفاع کرتے ہیں

دماغی مشقیں کریں

بزرگوں کو اپنے دماغ کو مصروف رکھنے کے لیے اکثر معمے حل کرنے، موسیقی کے اسباق لینے یا پھر ایک نئی زبان سیکھنے کے مشورے دیے جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ دماغ کو مصروف رکھنے کا عمل زندگی میں ابتدائی مراحل میں بھی شروع کیا جا سکتا ہے۔ سویڈن میں ماہرین نے سات ہزار سے زیادہ بزرگوں کا اسکول ریکارڈ کھنگالا اور یہ پتہ چلایا کہ اِن میں سے جن افراد نے بچپن میں مثلاً دَس سال کی عمر میں بھی اچھے گریڈز حاصل کیے تھے، اُن کے بڑی عمر میں چیزوں کو بھول جانے کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات کم تھے۔ یہی حال اعداد کے حوالے سے مہارت رکھنے والوں یا اُن خواتین کا تھا، جو اپنے کیریئر کے دوران محققہ یا اُستاد رہی تھیں۔

ماہرین کے مطابق سیکھنے اور پیچیدہ عوامل کے بارے میں سوچنے سے انسان کے اعصابی خَلیات کے درمیان رابطے مضبوط ہوتے ہیں اور جب کبھی الزائمر دماغ پر حملہ کرتا ہے تو یہ مضبوط خَلیات آگے سے بھرپور دفاع کرتے ہیں۔

حرکت کریں

جو چیز دل کے لیے اچھی ہے، وہی دماغ کے لیے بھی اچھی ہے۔ جسمانی ورزش اور بھی کئی مسائل مثلاً ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کلیسٹرول کی زیادہ مقدار وغیرہ سے بچاتی ہے اور دراصل اسی طرح کے مسائل کے نتیجے میں انسان بڑی عمر میں جا کر یادداشت کھو بھی سکتے ہیں۔

Symbolbild Fasten Obst

شریانوں کے لیے ایسی غذا زیادہ اچھی ہوتی ہے، جس میں پھل اور سبزیاں زیادہ ہوں اور چکنائی اور چینی کم ہو

دماغی صحت کو فراموش نہ کریں

بڑی عمر میں ڈپریشن بھی الزائمر میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے محققین نے اپنے ایک جائزے میں ایک عشرے تک آٹھ ہزار سے زیادہ بزرگوں پر نظر رکھنے کے بعد پتہ چلایا کہ تنہائی کے شکار انسانوں میں دماغی کمزوری کے اثرات زیادہ تیزی سے سامنے آتے ہیں۔ کسی بھی طرح کا تناؤ یا دباؤ دماغ کے لیے مضر اثرات کا حامل ہوتا ہے۔

صحت بخش غذا کھائیں

شریانوں کے لیے ایسی غذا زیادہ اچھی ہوتی ہے، جس میں پھل اور سبزیاں زیادہ ہوں اور چکنائی اور چینی کم ہو۔ زیادہ وزن سے منسلک ٹائپ ٹو ذیابیطس کی صورت میں آگے چل کر یادداشت کے متاثر ہونے یا اُس سے محروم ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔