پانچ سو چچڑیوں والے اژدھے کو بچا لیا گیا | سائنس اور ماحول | DW | 12.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

پانچ سو چچڑیوں والے اژدھے کو بچا لیا گیا

آسٹریلیا میں نائیک نامی ایک اژدھے کو بچا لیا گیا ہے۔ سانپ پکڑنے والے کارکنوں کے مطابق انہوں نے آج تک ایسا نہیں دیکھا کہ کسی سانپ کی جلد پر اس قدر زیادہ چچڑیاں موجود ہوں اور اس کا خون چوس رہی ہوں۔

آسٹریلیا میں سانپ پکڑنے والے ایک شخص کو ایک ایسا اژدھا ملا، جس کے جسم سے پانچ سو سے زائد چچڑیاں چمٹی ہوئی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ سانپ کوئنزلینڈ کے ایک سوئمنگ پول سے پکڑا گیا، جہاں یہ کوشش کر رہا تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے چچڑیاں اس کے جسم سے الگ ہو جائیں۔

ٹونی ہیرسن کا کہنا تھا کہ اسے ایک گھر سے فون کال آئی کہ ان کے سوئمنگ پول میں ایک سانپ ہے اور وہ پانی سے باہر نہیں نکل رہا۔ ہیرسن نے سانپ پکڑتے ہوئے فیس بک پیج پر لائیو ویڈیو شیئر کی۔ سانپ پکڑنے کے ماہر اس شخص کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے چھبیس سالہ کیرئیر میں آج تک ایسا کوئی ایک بھی سانپ نہیں دیکھا، جس کے جسم سے اس قدر زیادہ چچڑیاں چمٹی ہوں۔

ٹونی ہیرسن کا کہنا تھا، ’’اس کے جسم پر سینکڑوں چچڑیاں تھیں۔ اسی وجہ سے وہ پانی میں تھا۔ سانپ انہیں ڈبونا چاہتا تھا۔‘‘ پکڑے جانے والے سانپ کو ’نائیک‘ کا نام دیا گیا ہے اور اسے پکڑنے کے بعد کرمبین وائلڈ لائف ہسپتال میں لے جایا گیا۔ ڈاکڑوں نے کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد اس کی جلد سے 511 چچڑیوں کو الگ گیا۔

سنیک کیچر کے فیس بک پر جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق ابھی بھی کئی چھوٹی چچڑیاں اژدھے کی کھال سے چمٹی ہوئی ہیں لیکن ان کا علاج ادویات سے کیا جائے گا۔

یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ کے پروفیسر اور ماہر طفیلیات اسٹیفن بارکر کا کہنا تھا کہ سانپوں کو چچڑیوں کے حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ کیس منفرد تھا۔ ان کے مطابق شاید اس سانپ کا دفاعی نظام کمزور ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے اسے اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

چچڑیوں سے جانوروں کو متعدد بیماریاں لگ جاتی ہیں، جو بعدازاں ان کی موت کا سبب بنتی ہیں۔ اندازوں کے مطابق نائیک کو بھی طویل عرصے تک جانوروں کے ہسپتال میں رکھا جائے گا۔

ا ا / ع س 

DW.COM

اشتہار