پانامہ لیکس: یورپی یونین بھی ٹیکس چوروں کے خلاف متحرک | حالات حاضرہ | DW | 12.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پانامہ لیکس: یورپی یونین بھی ٹیکس چوروں کے خلاف متحرک

ٹیکس چوری کے رجحانات کے باعث یورپی یونین کو سالانہ اربوں یورو کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یورپی کمیشن کی تازہ تجاویز کے مطابق آئندہ بڑی کمپنیوں کو اپنا تمام ٹیکس اور مالیاتی ڈیٹا منظر عام پر لانا پڑے گا۔

EU - Künftiger EU Komissar Hill

یورپی یونین کے مالیاتی استحکام کے امور سے متعلقہ کمشنر جوناتھن ہِل، جن کا تعلق برطانیہ سے ہے

’پانامہ پیپرز‘ نے اس امر کو طشت از بام کر دیا ہے کہ کیسے پوری دنیا میں افراد اور کمپنیاں ٹیکس بچانے کی کوشش کرتی ہیں۔ اسی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے یورپی کمیشن نے اب ٹیکس چوروں کی جنت کہلانے والے علاقوں میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

DW.COM

کمیشن کی طرف سے دی گئی تازہ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ آئندہ ان بڑی کمپنیوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ یورپی یونین کے رکن ملکوں کے اندر اور باہر دیے جانے والے ٹیکسوں کی ساری تفصیلات منظر عام پر لائیں۔ ان تجاویز پر عملدرآمد سے پہلے یورپی یونین کے رکن ملکوں اور یورپی پارلیمان کی جانب سے ان کی منظوری ضروری ہو گی۔

ایک اندازے کے مطابق یورپی یونین کے رکن ملکوں کو ٹیکس بچانے کی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال پچاس سے لے کر ستر ارب یورو تک کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یورپی کمیشن نے اس سال کے آغاز ہی میں قوانین کا ایک جامع پیکج پیش کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ بڑی کمپنیوں کو اپنی آمدنی پر ٹیکس وہاں ادا کرنا چاہیے، جہاں وہ آمدنی حاصل کی گئی ہو۔

اپنی تازہ تجاویز میں یورپی کمیشن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے اندر سرگرم ایسی کمپنیوں کو، جن کے کاروبار کا سالانہ حجم کم از کم 750 ملین یورو ہے، اپنی ٹیکس ادائیگیوں سے متعلق تفصیلات سے نہ صرف متعلقہ محکموں کو آگاہ کرنا چاہیے بلکہ انہیں انٹرنیٹ پر بھی جاری کرنا چاہیے تاکہ ہر کسی کو اس بارے میں پتہ چل سکے۔

پہلے صرف اُن کاروباری سرگرمیوں پر ٹیکسوں کی تفصیلات سامنے لانے کا ذکر تھا، جو یورپی یونین کی حدود میں انجام پاتی ہوں۔ اب کمیشن کی تجاویز کا اطلاق کثیر القومی کمپنیوں کی اُن سرگرمیوں پر بھی ہو گا، جو وہ ایسے علاقوں میں کرتی ہیں، جنہیں عام زبان میں ’ٹیکس چوروں کی جنت‘ کہا جاتا ہے۔

Symbolbild Panama Papers Mossack Fonseca

یورپی یونین کے رکن ملکوں کو ٹیکس بچانے کی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہر سال پچاس سے لے کر ستر ملین یورو تک کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے

کمیشن کی تازہ تجاویز کے تحت بڑی کمپنیوں کو اپنے ملازمین کی مجموعی تعداد، ٹیکس لگنے سے پہلے اپنی مکمل آمدنی اور ادا کیے گئے ٹیکسوں کی مالیت سے متعلق تمام تر تفصیلات انٹرنیٹ پر جاری کرنا ہوں گی۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق جرمنی میں تقریباً ایک ہزار دو سو مقامی کمپنیاں ان تجاویز سے متاثر ہوں گی تاہم ان تجاویز کا اصل ہدف ایمیزون اور ایپل جیسی غیر ملکی کمپنیاں ہیں۔

مالیاتی امور سے متعلق یورپی کمشنر جوناتھن ہِل کے مطابق ٹیکسوں سے متعلق اپنے پیچیدہ انتظامات کے باعث ملٹی نیشنل کمپنیاں صرف کسی ایک ملک میں سرگرم کمپنیوں کے مقابلے میں تقریباً ایک تہائی ٹیکس بچا لیتی ہیں۔

اشتہار