پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر انتخابات لڑوں گی، لے پین | حالات حاضرہ | DW | 25.04.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر انتخابات لڑوں گی، لے پین

فرانس کی قوم پرست جماعت نیشنل فرنٹ کی خاتون سربراہ مارین لے پین نے پارٹی قیادت چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے بقول وہ صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر حصہ لیں گی۔

سات مئی کو فرانسیسی صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں نیشنل فرنٹ کی سربراہ مارین لے پین کی کامیابی کے امکانات کم ہی ہیں تاہم اُنہیں خود اپنی فتح کا یقین ہے۔ مارین لے پین کے مطابق پارٹی قیادت چھوڑنے کے فیصلہ کی وجہ یہ ہے کہ وہ صدارتی انتخابات پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔

پیر کی شب فرانس 2 نامی ٹیلی وژن پر انہوں نے کہا، ’’ آج شام سے میں نیشنل فرنٹ کی سربراہ نہیں بلکہ صدارتی امیدوار ہوں‘‘۔ ان کے بقول وہ اپنی پارٹی کے مفادات سے بالاتر ہو کر زیادہ سے زیادہ فرانسیسیوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

لے پین کے مطابق وہ ’’چاہتی ہیں کہ ان کی جانب سے متعارف کردہ امید، خوشحالی اور سلامتی کے منصوبے میں فرانسیسی شہریوں کی ایک بڑی تعداد ان کا ساتھ دے۔‘‘

تازہ عوامی جائزوں کے مطابق لے پین کے حریف اور آزاد امیدوار ایمانوئیل ماکروں صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں ساٹھ فیصد سے زائد ووٹ حاصل کر لیں گے۔ تاہم حالیہ عوامی جائزوں کے ان نتائج کے باوجود لے پین نے کہا، ’’ہم یہ انتخابات جیت سکتے ہیں بلکہ یہ کہنا بہتر ہو گا کہ ہم انتخابات جیت لیں گے‘‘۔

ساتھ ہی ساتھ لے پَین نے ماکروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اُن کے انتخابی پروگرام میں ایک بھی چیز ایسی نہیں ہے، جس سے فرانس کے ساتھ اُن کی محبت کا اظہار ہوتا ہو۔ لے پین خود کو فرانسیسیوں کی محافظ قرار دیتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ فرانس تقسیم ہونے سے بچانا چاہتی ہیں۔

گزشتہ اتوار کو صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ماکروں کو چوبیس فیصد جبکہ لے پَین کو 21.4 فیصد ووٹ ملے تھے۔ سوشلسٹ اور قدامت پسند امیدواروں نے اپنی شکست کے بعد ماکروں کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔