پارلیمان میں ناموس رسالت قرارداد پر بحث جمعے تک ملتوی | حالات حاضرہ | DW | 20.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

پارلیمان میں ناموس رسالت قرارداد پر بحث جمعے تک ملتوی

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے ناموس رسالت کی قرارداد پر ہونے والی بحث کو جمعے تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا ہے کہ اس معاملے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مل کر بیٹھنا چاہیے۔

 تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے مابین فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کرنے پر اتقاق کے بعد ایک غیر مشروط قرارداد کے تحت پارلیمان کے ایوان زیریں میں اس پر بحث کی گئی۔ رکن اسمبلی امجد علی خان نے یہ قرارداد پیش کی۔

قبل ازیں پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے ایک ٹویٹ پیغام میں ٹی ایل پی کی طرف سے جاری ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ ختم کروانے کے لیے حکومت اور اس تنظیم کے مابین مذاکرات کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ منگل کے روز کسی وقت قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قرارداد پیش کی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ تحریک لبیک پاکستان اپنے ملک گیر دھرنے ختم کر دے گی۔

پاکستان: حکومت اور ٹی ایل پی میں مذاکرات شروع، پولیس اہلکار رہا

Pakistan Protest Verbot Islamisten Partei Tehrik-e-Labaik

تحریک لبیک پاکستان کے حامی ملک بھر میں سراپا احتجاج بنے ہوئے۔

پارلیمان میں پیش کی گئی قرارداد میں فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے موقف کی مذمت اور اس پر افسوس کا اظہار کیا گیا تاہم اس پر ووٹنگ جمعے تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ ناموس رسالت کے معاملے پر تمام مسلمان ممالک کے ساتھ مل کر مغربی ممالک سے نمٹنے کی ضرورت ہے نیز یہ کہ اس معاملے کو بین اقوامی فورمز پر اُٹھایا جانا چاہیے۔

کالعدم تنظیمیں کالوجود کیسے رہتی ہیں؟

دریں اثناء اسلام آباد کے صحافی حلقوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں رکن اسمبلی امجد علی خان نے ناموس رسالت کی جو قرارداد پیش کی، اس پر جمعیت علماء اسلام ) ف( کے رکن اسمبلی مولانا اسعد محمود نے یہ سوال اُٹھایا کہ یہ ہنگامی اجلاس اپوزیشن کو اعتماد میں لیے بغیر کیوں بلایا گیا؟ اسی قسم کے اعتراضات مسلم لیگ )ن( کی طرف سے بھی سامنے آئے۔

جلاؤ، گھیراؤ اور تشدد کے بعد ٹی ایل پی پر پابندی کا فیصلہ

Pakistan Protest Verbot Islamisten Partei Tehrik-e-Labaik

ٹی ایل پی کے مظاہروں اور پر تشدد احتجاج سے معمولات زندگی مفلوج۔

مسلم لیگ )ن(  کے  قائد شاہد خاقان عباسی کا بھی یہی کہنا تھا کہ یہ قرارداد مشاورت سے پیش کی جانی چاہیے تھی۔ مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق پارلیمانی اجلاس میں موجود وزیر داخلہ، وزیر مذہبی امور اور دیگر وزراء شامل تھے مگر کسی وزیر کی طرف سے قرارداد پیش نہیں کی گئی۔

پیرس حملے میں ملوث پاکستانی تحریک لبیک پارٹی سے متاثر تھا

 ایک اہم سوال جو پاکستان مسلم لیگ )ن( کے رکن اسمبلی احسن اقبال نے کیا وہ یہ تھا کہ انتہائی نازک معاملے پر ہونے والے ان مذاکرات میں وزیر اعظم خود شریک کیوں نہیں ہوئے؟ جب قرارداد پارلیمان میں لانا تھی تو وزیر اعظم کو بھی اس میں موجود ہونا چاہیے تھا۔ دریں اثناء پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اس پارلیمانی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

یاد رہے کہ ٹی ایل پی رہنما علامہ فاروق الحسن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے علاوہ کوئی شرط قابل قبول نہیں۔‘‘

ک م/ ا ا (ڈی پی اے)