ٹی ٹین کی پاکستان میں مخالفت | کھیل | DW | 14.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ٹی ٹین کی پاکستان میں مخالفت

آج ٹی ٹین لیگ کے شروع ہونے ہر کرکٹ میں ایک نئے فارمیٹ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ چار مخلتف فارمیٹ میں کھیلا جانے والا کرکٹ دنیا کا یہ اکلوتا کھیل بن جائے گا۔

پہلی ٹی ٹین لیگ آج سے تاریخی شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہو رہی ہے، جس میں پاکستان، بھارت سری لنکا اور بنگلہ دیش سے چھ ٹیمیں شریک ہو رہی ہیں۔ پہلے دن کھیلے جانیوالے دو میچوں میں کیرالہ کنگز کا مقابلہ پنجابی لیجنڈز سے ہوگا۔ دوسرے میچ میں مراٹھا عریبینز اور پختونز مدمقابل ہوں گی۔ انگلینڈ کے ون ڈے کپتان آئن مورگن کیرالہ کنگز کی قیادت کریں گے۔ شعیب ملک پنجابی لیجنڈز کے آئیکون کھلاڑی ہیں۔ شاہد آفریدی پختنونز کے آئیکون اور وریندر سہواگ مراٹھاز کے کپتان ہوں گے۔

یہ ٹورنامنٹ خلیج میں مقیم ایک بھارتی نژاد تاجر شجی الملک کرا رہے ہیں۔ پاکستانی نیوز چینل اے آر وائی مالک سلمان اقبال لیگ کے صدر ہیں۔ چئیرمین ٹی ٹین لیگ شجی الملک کا کہنا ہے کہ ٹی ٹین کا خیال انہوں نے فٹبال کے کھیل سے مستعار لیا۔ اس میں میچوں کا دورانیہ فٹبال کی طرح نوے منٹ ہوگا۔ دس اووز پر مشتمل اننگز چالیس منٹ میں ختم ہو گی اور دونوں اننگز میں دس منٹ کا وقفہ ہوگا۔

ٹورنامنٹ میں پاکستانی کپتان سرفراز احمد کو بنگال ٹائیگرز میں آئیکون کھلاڑی کا رتبہ دیا گیا ہے۔ سرفراز کے علاوہ محمد عامر، فخززمان، وہاب ریاض اور حسن علی سمیت 24 صف اول کے کرکٹرز شریک ہیں۔

ٹی ٹین لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی بڑی تعداد میں شرکت پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو کئی حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ عام خیال یہی ہے کہ اس نئی لیگ کے متعارف ہونے سے پاکستان سپر لیگ کو خطرات لاحق ہو جائیں گے، جس کا تیسرا ایڈیشن اگلے سال فروری میں امارات میں ہی ہونا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے فرنچائز مالکان اب ٹی ٹین کی مخالفت میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ لاہور قلندرز کی بلواسطہ مخالفت کے بعد پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے خبردار کیا ہے کہ یہ لیگ پی ایس ایل کے لئے نقصان دہ ہوگی۔

پاکستانی میڈیا اسے پہلے ہی ایک مشکوک لیگ قرار دے چکا ہے۔ سابق پاکستانی کرکٹرز ظہیر عباس، عامرسہیل اور سابقہ بورڈ چیف شہریار خان بھی ٹی ٹین کے مخالف ہیں۔

پاکستان پی ایس ایل کے علاوہ سکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر ہر سال اپنی ہوم سیریز بھی خلیج میں کھیلنے پر مجبور ہے اس لئےعام خیال یہی ہے کہ امارات کرکٹ بورڈ کی ناراضگی سے بچنے کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس نئی لیگ میں تعاون کی حامی بھری ہے۔ پی سی بی کا موقف ہے کہ اس نے چار لاکھ امریکی ڈالرز کے عوض کھلاڑیوں کو ٹی ٹین میں جانے کی اجازت دی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو پی ایس ایل کے مچوں میں دبئی اور شارجہ اسٹیڈیمز کے کرایے کی مد میں بھی ڈھائی لاکھ ڈالرز کی رعایت دی گئی۔

پاکستان کے سابق کھلاڑی وسیم اکرم، وقاریونس، معین خان، انضمام الحق اور مشتاق احمد ٹیموں کے مینٹور کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں سری لنکن کرکٹ بورڈ کی ٹیم بھی شریک ہے۔ مراٹھا عریبینز کے پاکستانی کھلاڑی محمد عامر کہتے ہیں کہ ٹی ٹین ایک دلچسپ تجربہ ہے۔ یہ بیٹسمین کا کھیل نہیں بلکہ بیٹسمین اور باولر دونوں کی مہارت کا نیا امتحان ہوگا۔

اشتہار