’ ٹیکنالوجی نے بہت کچھ تبدیل کردیا ہے، مرد و خواتین میں فرق تیزی سے مٹ رہا ہے‘  | حالات حاضرہ | DW | 13.06.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’ ٹیکنالوجی نے بہت کچھ تبدیل کردیا ہے، مرد و خواتین میں فرق تیزی سے مٹ رہا ہے‘ 

کراچی فلم سوسائٹی کی جانب سے منعقدہ پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکاء کا کہنا تھا کہ کورونا کی عالمی وبا نے مسائل کے ساتھ بہت سے مواقع بھی پیدا کیے ہیں جنہیں استعمال کرکے فاصلوں کو مٹا کر نئی جہت تلاش کی جاسکتی ہے۔

پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے خواتین ایڈیشن کی مناسبت سے اپنے خطاب میں وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہےاور اب طاقت کے استعمال کا پیمانہ مختلف ہے۔ انہوں نے کہا،'' مرد و خواتین میں فرق تیزی سے مٹ رہا ہے اور ممکنہ طور پر آخری چند سال رہ گئے ہیں جن میں یہ بھی ختم ہوجائے گا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ڈاکٹر نہیں بلکہ فائٹر پائلٹ بننا چاہتی ہے، ٹیکنالوجی نے بہت کچھ تبدیل کردیا ہے، اب روایت سے ہٹ کر دنیا کو دیکھا جارہا ہے۔

 وزیرِ اطلاعات نے اپنے خطاب میں کہا،'' پاکستانی سینیما کے زوال کے اسباب جاننے کے لیے اسّی کی دہائی میں روس کی افغانستان میں مداخلت کو دیکھنا ہوگا، اُس وقت جب نبراسکا یونیورسٹی نے ہمارے مدارس کا سلیبس تیار کرکے پورے ملک کوایک شدت پسند سوچ کی جانب دھکیل دیا تھا اور اس کے بعد جینیوا معاہدے کرکے عالمی طاقتیں تو نکل گئیں اور ہم بھگتتے رہ گئے۔‘‘کراچی میں سجا پہلا ’پاکستان بین الاقوامی فلم میلہ‘

 

انہوں نے کہا کہ جب کوئی معاشرہ ترقی کرتا ہے تو اس کا ہر شعبہ ترقی کرتا ہے اور معاشرے کی تنزلی بھی مجموعی طور پر ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ افغانستان میں حالات ایک مرتبہ پھر خراب ہورہے ہیں اور پاکستان کو دیکھنا ہوگا کہ وہ کس حد تک خود کو پرائی جنگ سے دور رکھ سکتا ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان کی پالیسی یہی ہے کہ وہ خود کو جنگ سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔

Pakistani International Film Festival | Senator Faisal Javed Khan

سینیٹر فیصل جاوید خان۔

ان کا کہنا تھا،''  بالی وڈ کی مثال دی جاتی ہے مگر مودی سرکار نے وہاں جو کیا ہے اور کررہی ہے، دنیا دیکھے گی کہ معاشرے کے زوال کے ساتھ ان کا سینیما بھی تنزلی کا شکار ہوجائے گا۔‘‘

فواد چودھری نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ فلم پالیسی میں فلم سازوں کو بہت سی مراعات دی جارہی ہیں، جن میں سینیما کو صنعتی نرخوں پر بجلی کی فراہمی، پانچ سے دس سالوں کے لیے ٹیکس میں چھوٹ، 45 سال سے کم عمر کے فلم سازوں کے لیے 5 کروڑ روپے تک قرضے کی سہولت، کراچی میں فلم اکیڈمی کا قیام، ملک کے مختلف مقامات پر فلم بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے تعاون شامل ہے۔

اس تقریب سے اپنے خطاب میں معروف دانشور اور سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کے سبب، انٹرٹینمنٹ کی صنعت کا ٹیلی ویژن کی حد تک تو بہت فائدہ ہوا ہے، مگر سینیما کی صنعت مکمل طور پر بیٹھ گئی ہے، جس کی جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

’دی بِگ سِک‘ پاکستانی اداکار کی فلم امریکی سینما گھروں میں

Pakistani International Film Festival | Logo

پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ’ویمن ایڈیشن 21‘

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی ڈائریکٹر جنرل فوزیہ سعید نے کہا ،'' پہلے کسی تربیت کے لیے وہ لوگوں کو اسلام آباد بلاتے تھے اور وہاں ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر سیکھنے سکھانے کا رواج تھا، تاہم اس وبا کے دوران آن لائن تربیت کا سلسلہ شروع ہوا اور حال ہی میں پی این سی اے کی جانب سے فلم سازی سے متعلق تربیت کے مختلف کورسز میں پاکستان کے دور دراز علاقوں جیسے تربت اور گوادر سے بھی طلباء اس کا حصہ بنے ہیں۔‘‘

پاکستان ادب فیسٹیول کی صدر امینہ سید نے اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ،'' رواں سال ادب فیسٹیول کا انعقاد ورچوئل ہوا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ جے پور لٹریچر فیسٹیول میں وہ اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھ کر شریک ہوئی ہیں اور آئندہ چند روز میں وہ مزید عالمی لٹریچر فیسٹیولز میں اپنے سیشنز گھر بیٹھ کر کریں گی۔ اسی طرح کئی عالمی ادیب بھی اپنے گھر بیٹھ کر پاکستان میں ہونے والے ادب فیسٹول کا حصہ بن رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستانی فلموں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے ضمن میں شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلموں کو عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے لیے اپنا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستانی فلمی صنعت: زوال کی گرد سے عروج کے چڑھتے سورج تک

 

سینیٹر فیصل جاوید خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وفاقی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ فلم سازی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے میں مدد کرے تاہم حکومت نہ تو فلمیں بنا سکتی ہے اور نہ ہی چلاسکتی ہے۔

Pakistani International Film Festival | Sultana Siddiqui

کراچی فلم سوسائٹی کی صدر سلطانہ صدیقی۔

ان کا کہنا تھا،'' پاکستان میں ایک ہزار سینیما اسکرینز کی ضرورت ہے جبکہ اس وقت بمشکل ڈیڑھ سو اسکرینز میسر ہیں، اسی طرح سالانہ ایک سو فلمیں بننی چاہییں اور صرف 25 ہی بن رہی ہیں۔‘‘

انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی فلم سازوں کو عالمی سطح پر اپنی شناخت منوانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پڑوسی ملک کی فلموں کا چربہ بنانے سے اجتناب کریں۔

کراچی فلم سوسائٹی کے زیر انتظام تیسرا پاکستان فلم فیسٹیول (وومن ایڈیشن)، کورونا کی عالمی وبا کے سبب انتہائی محدود پیمانے پر منعقد کیا جارہا ہے جس میں شرکاء کی تعداد بھی کافی کم رکھی گئی ہے۔

وبا کے سبب فلم اسکریننگ سمیت کئی سیشنز منسوخ کرنا پڑے اور اس عالمی سطح کے ایونٹ کو دو دو گھنٹے کے تین سیشنز تک محدود کیا گیا، تاہم شرکت کے اعتبار سے اس میں پاکستان کے نامور فلمساز، سینیما مالکان، اداکار سمیت اس شعبے سے تعلق رکھنے والی اہم ترین شخصیات کے ساتھ ساتھ، کراچی میں قائم متعدد سفارتی مشنز کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

پاکستان میں  فلم ’زندگی تماشہ‘ کی ریلیز پر پابندی لگا دی گئی

منتظمین کی جانب سے میلے کو اس مرتبہ، خواتین ایڈیشن کا نام دیا گیا ہے تاکہ اس شعبے میں کام کرنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں درپیش مسائل اور چیلنجز پر بھی غور کیا جائے۔

کوکب جہاں/ کراچی