ٹوڈ ایکن کا بیان، ریپبلکن پارٹی بھی ناراض | حالات حاضرہ | DW | 21.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹوڈ ایکن کا بیان، ریپبلکن پارٹی بھی ناراض

ریپبلکن امریکی رہنما ٹوڈ ایکن کی جانب سے زنا بالجبر سے متعلق متنازعہ بیان پر ان کی اپنی جماعت بھی سخت ناراض ہے۔ سینیئر ریپبلکن رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ ’ریپ‘ سے متعلق اس بیان پر ایکن سینیٹ کی رکنیت کی دوڑ سے الگ ہو جائیں۔

ایکن کی جانب سے اتوار کے روز ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہا گیا تھا، ’’خواتین میں بیالوجیکل طور پر دفاعی صلاحیت موجود ہوتی ہے، جس کے ذریعے وہ کسی غیر قانونی جنسی تعلق کی صورت میں حاملہ ہونے سے بچ سکتی ہیں۔‘‘

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایکن کے اس بیان کا مطلب یہ ہے کہ امریکا میں خواتین کو قانونی ’ایبورشن‘ کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بیان کی وجہ سے ریپبلکن صدارتی امیدوار مِٹ رومنی کی انتخابی مہم کی بجائے امریکا میں موضوع گفتگو ٹوڈ ایکن کا یہ بیان بن گیا ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اگلے ہفتے ریپبلکن جماعت صدارتی امیدوار کے طور پر باقاعدہ طور پر مِٹ رومنی کے نام کا اعلان کرنے والی ہے۔

Barack Obama USA Presse

امریکی صدر اوباما نے نے بھی ایکن کے بیان پر تنقید کی ہے

اس بیان کے بعد ریپبلکن جماعت نے سینٹ کی نشست کے لیے انتخابی مہم چلانے والے ٹوڈ ایکن کے لیے نقد سرمائے کی فراہمی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلے میں ان کے حریف ڈیموکریٹک امیدوار مک کاسکیل تھے اور یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایکن بآسانی یہ نشست جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اس بیان پر امریکی صدر باراک اوباما نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بیان ’تکلیف دہ‘ ہے۔ اس بیان کے بعد ریپبلکن صدارتی مہم میں ’ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کے وعدوں‘ کی بجائے اب موضوع گفتگو امریکا میں سماجی مسائل کی جانب مبذول ہو گئی ہے۔ اب تک مٹ رومنی انتخابی مہم میں معاشی اصلاحات کے موضوع مرکزی نقطہ رہا ہے۔

100 رکنی امریکی سینیٹ میں برتری کے لیے ریپبلکن جماعت کو چار نشستوں کی ضرورت ہے جسے ٹوڈ ایکن کے اس بیان کے بعد حاصل کرنا اب کافی مشکل ہو گیا ہے۔

at /ai (Reuters, AFP)