ٹریفک حادثات کیسے روکے جا سکتے ہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 19.07.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹریفک حادثات کیسے روکے جا سکتے ہیں؟

وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے علاقے ڈیرہ غازی خان کے قریب ہونے والے ٹریفک کے ایک المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے مسافروں کی تعداد تینتیس تک پہنچ چکی ہے۔

بڑی عید سے پہلے ہونے والے اس بڑے ٹریفک حادثے نے عید کی خوشیوں کو ماند کردیا ہے اوراس وقت سارے علاقے میں سوگ اور ماتم کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے۔

مقامی طور پر اطلاعات کی فراہمی کے لیے قائم کیے گئے خدمت مرکز پر موجود امتیاز نامی ایک پولیس اہلکار نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ اس حادثے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔ ان کے مطابق زیادہ تر ہلاک شدگان اور زخمیوں کا تعلق ضلع راجن پور اور اس کے قریبی علاقوں سے ہے۔

اعلٰی حکومتی شخصیات نے اس واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس حادثے کی رپورٹ طلب کرنے اور غفلت کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے روایتی بیانات جاری کیے ہیں۔

پاکستان میں وقفے وقفے سے ہونے والے ٹریفک حادثات اور ان پر حکومتی شخصیات کے روایتی بیانات اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ابھی چند روز پہلے خیبر پختونخواہ کے علاقے شوگران میں مسافروں سے بھی ایک گاڑی کھائی میں جا گری تھی۔ پچھلے چند ہفتوں میں بلوچستان کے ضلع خضدار، پنجاب کے ضلع خانیوال کے علاقے کبیر والا ، آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد اور روہڑی میں مسافر کوچ  کو پیش آنے والے حادثات میں درجنوں مسافر جاں بحق ہو گئے تھے۔

دریائے نیلم میں بس گرنے سے کم از کم چوبیس افراد ہلاک

دنیا بھر میں ٹریفک حادثے انسانی جانوں کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد ٹریفک حادثات کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ٹریفک حادثات کی وجہ سے زیادہ ترہلاکتیں دنیا کے غریب اور متوسط آمدنی والے ملکوں میں ہوتی ہیں اقوام متحدہ کے ذریعے سن دو ہزار تیس تک دنیا بھر میں ٹریفک کے حادثوں میں کمی لانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔

Pakistan schwerer Unfall Dera Ghazi Khan

ڈیرہ غازی خان میں ہونے والے حادثے میں بس کا ملبہ

 

ایک عالمی تحقیقاتی ادارے کے مطابق پاکستان میں ہلاکتوں کا باعث بننے والے پچاس عوامل اوربیماریوں میں ٹریفک حادثات پندرہویں نمبر پر ہیں۔ پاکستان میں ایڈز، ناقص خوراک،  مرگی، تشدد کئی قسم کے سرطان اور خود کشیوں کی وجہ سے انفرادی طور پر ہونے والی اموات سے ٹریفک حادثات میں مرنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں قائم ایمرجینسی ریسکیو سروس کی طرف سے ایک روز پہلے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق صوبے کے سینتیس اضلاع میں صرف ایک دن میں ایک ہزار اٹھاسی ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔ان حادثات میں تیرہ افراد ہلاک، ایک ہزار ایک سو چھتیس زخمی اور چھ سو اکانوے افراد کوسیریس حالت میں ہسپتال لے جانا پڑا۔ پنجاب ایمرجنسی سروس کے مطابق سب سے زیادہ حادثات لاہور میں اس کے بعد فیصل آباد اور پھر ملتان میں رپورٹ ہوئے۔ اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ٹریفک حادثات موٹر سائیکل سواروں آٹو رکشا والوں اور موٹر کاروں اور وینز چلانے والوں کو پیش آئے اس کے بعد بسوں اور ٹرکوں کے حادثات رپورٹ ہوئے۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ زیادہ تر ٹریفک حادثات اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ یا تو ڈرائیور غلطی کا ارتکاب کرتا ہے یا پھر گاڑی یا سڑک کی خرابی اس میں کارفرما ہوتی ہے۔ ان کے بقول سڑکوں پر سفر کرنے والے دیگر افراد بھی بعض اوقات اپنی غفلت سے ٹریفک حادثات کا باعث بن جاتے ہیں۔

گڈانی کے پاس ٹریفک حادثہ، کم از کم 35 ہلاکتیں

ان کے بقول ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے عمل کو درست بنایا جانا چاہیے۔ لائیسنس حاصل کرنے والوں کو ٹریفک رولز سے آگاہی اور ڈرائیونگ کی مکمل ٹریننگ یقینی بنانی چاہیے۔'' اصل میں ہمارے ہاں مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم ٹریفک کے قوانین کی پابندی کو اپنا شعار بنا لیں تو اس سے بھی ٹڑیفک حادثات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔‘‘

Pakistan schwerer Unfall Dera Ghazi Khan

امدادی ٹیمیں حادثے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کا بندوبست کو ایمبولنس تک پہنچا رہی ہے

ڈی جی خان کے ایک رہائشی محمد اسلم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حادثے کی جگہ پر روڈ کی حالت بھی درست نہیں تھی، ان کے مطابق حکومت کو روڈ نیٹ ورک بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر انتظار بٹ ماہر امراض چشم ہیں، ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ پہلے ان کے پاس ایک بوڑھا مریض آیا جو چند فٹ کے فاصلے پر بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ ڈاکٹر انتظار کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ کہ وہ ایک ٹرک ڈرائیور ہے اور باقاعدگی سے ٹرک چلاتا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا ٹرک کے مالک کو پتہ ہے کہ اس کے ٹرک ڈرائیور کی نظر بہت کمزور ہے  اس بوڑھے ڈرائیور کا جواب تھا کہ اگر اس کو پتہ چل گیا تو وہ اس کو نوکری سے نکال دے گا اور وہ اپنے گھر کا واحد کفیل ہے اس لیے اس نے اپنی بیماری کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے۔

بس اور آئل ٹینکر میں تصادم، کم از کم 27 افراد ہلاک

ڈاکٹر انتظار کہتے ہیں کہ پتا نہیں اس وقت ملک کی سڑکوں پر اس جیسے کتنے ڈرائیور گاڑیاں چلا رہے ہیں،  حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے ڈرائیوروں کی صحت کے حوالے سے  فٹنس سرٹیفیکیٹس بھی بن جاتی ہیں اور ان کے لائسنسوں کی تجدید بھی ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر انتظار بٹ کہتے ہیں کہ اگر موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہننے کے پابندی کر لیں تو بہت سی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ صرف محمد اکرم نامی ایک بس ڈرائیور نے بتایا کہ بعض اوقات ڈرائیوروں پر محدود وقت میں جلد منزل پر پہنچنے کا دباؤ ہوتا ہے یہ وجہ بھی تیزرفتاری کا باعث بنتی ہے جس سے حادثے ہوتے ہیں۔ شوگران کے عبدالرشید نے بتایا کہ سڑک کی خرابی حادثات کا باعث بن رہی ہے۔ حکومت سڑک بنانا چاہتی ہے اگر سڑک بن گئی تو جیپ چلانے والے مقامی افراد کا روزگار ختم ہو جائے گا اس لئے وہ یہ سڑک نہیں بننے دیتے۔

مقامی وکیل راؤ مدثر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے مضبوط سیاسی عزم سے کام لینا ہوگا۔ اگر حکومت ملک میں ٹریفک رولز کی پابندی نہ کروا سکی تو پھر اس کی رٹ کے بارے میں سوالات جنم لیں گے۔ ان کے مطابق کسی بڑے ٹریفک حادثے کی صورت میں اس علاقے کے بڑے افسروں اور سیاسی شخصیات سے بھی باز پرس کی جانی چاہیے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور