ٹرمپ کی ’پہلے امریکا‘ کی پالیسی ناکام رہے گی، جرمنی | حالات حاضرہ | DW | 28.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ کی ’پہلے امریکا‘ کی پالیسی ناکام رہے گی، جرمنی

جرمنی نے ریپبلکن پارٹی کے امریکی صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کی ’پہلے امریکا‘ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی کوئی سوچ کامیاب نہیں ہو سکتی۔

Donald Trump Rede

ڈونلڈ ٹرمپ

جرمن دارالحکومت برلن سے جمعرات اٹھائیس اپریل کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق جرمنی، جو یورپ اور نیٹو میں امریکا کا انتہائی اہم اتحادی ملک ہے، کی طرف سے کہا گیا ہے کہ واشنگٹن نے اگر اپنی خارجہ پالیسی میں ’پہلے امریکا‘ کی سوچ اپنائی، تو آج کے عالمگیریت کے دور میں ایسی کسی پالیسی کا ناکام رہنا یقینی بات ہو گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کل بدھ کے روز اپنی ایک تقریر میں یہ تجویز دی تھی کہ واشنگٹن کو اپنی خارجہ اور دفاعی سیاست میں جامع اور زبردست تبدیلیاں لانا چاہییں۔ ریپبلکن پارٹی کی طرف سے نومبر کے صدارتی انتخابات کے لیے امیدوار بننے کے خواہش مند ٹرمپ کی اس تقریر کو دنیا بھر میں بڑی توجہ سے دیکھا اور سنا گیا تھا۔

اس بارے میں جمعرات کے روز اپنے محتاط سفارتی ردعمل میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کی دفاعی اور خارجہ پالیسی کی تشکیل نو کی جو بات کی ہے، ’وہ خود اپنے اندر تضادات لیے ہوئے ہے‘۔

شٹائن مائر نے ٹرمپ کی اس تقریر پر ردعمل سے متعلق برلن میں صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا، ’’پہلے امریکا، بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کا امریکی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے حوالے سے مطلب کیا ہے؟‘‘

جرمن وزیر خارجہ نے مزید کہا، ’’اس دنیا کا سلامتی سے متعلق ڈھانچہ، اس کی کسی ایک ملک کی طرف سے یکطرفہ طور پر تنظیم نہیں کی جا سکتی۔ اس بدلی ہوئی حقیقت کو کوئی بھی امریکی صدر نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اس لیے ’پہلے امریکا‘ دراصل کوئی جواب ہے ہی نہیں۔‘‘

Luxemburg EU-Außenministertreffen PK Frank-Walter Steinmeier

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر

فرانک والٹر شٹائن مائر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی بدھ کے روز کی گئی تقریر کے حوالے سے یہ منطقی سوال بھی اٹھایا کہ ایک طرف اگر یہ کہا جائے کہ ’ہم امریکا کو دوبارہ مضبوط بنا دیں گے‘ اور ساتھ ہی دوسری طرف زور دے کر یہ بھی کہا جائے کہ ’امریکا خود کو دنیا سے پیچھے ہٹا لے‘، تو اس کا مطلب کیا ہے؟

جرمن وزیر خارجہ کے مطابق، ’’یہ دو مختلف باتیں بظاہر ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں۔ لگتا یہی ہے کہ یہ بات کہنے سے پہلے بہت اچھی طرح سوچا نہیں گیا۔‘‘

اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کل کی تقریر میں جو کچھ کہا، وہ تھیں تو بڑی باتیں لیکن ان میں کئی جگہوں پر تخصیص کا فقدان تھا۔ اس دوران ٹرمپ نے یورپ اور ایشیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں (ٹرمپ کے امریکی صدر بن جانے کی صورت میں) اپنا دفاع خود کرنا ہو گا۔

ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ صدر بننے کے بعد وہ (موجودہ) تجارتی معاہدوں کو ٹکرے ٹکڑے کر دیں گے اور مسلم شدت پسندی کا مقابلہ کرتے ہوئے امریکی قومی مفادات کو باقی ہر قسم کی سوچ اور خیالات پر ترجیح دیں گے۔

DW.COM