’ٹرمپ کی خوف کی سیاست، امریکا اور دنیا کے لیے خطرناک‘ | حالات حاضرہ | DW | 20.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ٹرمپ کی خوف کی سیاست، امریکا اور دنیا کے لیے خطرناک‘

وفاقی جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا ہے کہ امریکا میں ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی ’خوف کی سیاست‘ سلامتی کے حوالے سے امریکا اور دنیا دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو گی۔

USA Einwanderer protestieren vor dem Republikanischen-Ausschuss-Gebäude

امریکا میں تارکین وطن کے پس منظر کے حامل افراد کے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک مظاہرے کا منظر

نیوز ایجنسی روئٹرز کی جرمن دارالحکومت برلن سے بدھ بیس جولائی کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکا میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے ڈونلڈ ٹرمپ کو باقاعدہ طور پر اس پارٹی کا صدارتی انتخابی امیدوار نامزد کیے جانے پر اپنے ردعمل میں شٹائن مائر نے کہا کہ ٹرمپ کی سیاست ’خوفزدہ اور الگ تھلگ کر دینے والی‘ سیاست ہے، جو عالمی سلامتی امور کے حوالے سے خود واشنگٹن کے علاوہ پوری دنیا کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

جرمن وزیر خارجہ نے روئٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ انہیں خاص طور پر ارب پتی بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کے ان مشکوک دعووں اور نعروں پر بھی تشویش ہے، جن میں انہوں نے امریکا کی سمندر پار ذمے داریوں میں کمی کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’امریکا کو دوبارہ عظیم‘ بنانا چاہتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق جرمن وزیر خارجہ نے یہ بات منگل کو رات گئے ایک دورے پر امریکا روانہ ہونے سے پہلے کہی۔ اس دورے کے دوران شٹائن مائر واشنگٹن میں کئی دوسرے ملکوں کے خارجہ اور دفاعی امور کے وزراء کے ساتھ ان ملاقاتوں میں حصہ لیں گے، جن میں امریکی قیادت میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے خلاف عسکری مہم سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔ یہ دو روزہ ملاقاتیں آج بدھ سے شروع ہو رہی ہیں۔

Symbolbild Flaggen Europafahne und US-Flagge Flagge Deutschland

ٹرمپ کی ’خوف کی سیاست‘ امریکا اور پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے، جرمن وزیر خارجہ

اس پس منظر میں فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا، ’’بیرونی دنیا میں امریکا کی عملی سیاست میں کمی اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کا عہد، یہ بنیادی طور پر ایک تضاد ہے اور یہی بات میرے لیے باعث تشویش بھی ہے۔‘‘

Armenien Bundesaußenminister Frank-Walter Steinmeier

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر

جرمنی میں کرسچن ڈیموکریٹک چانسلر انگیلا میرکل کی وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے شٹائن مائر نے روئٹرز کو بتایا، ’’الگ تھلگ رہنے یا رکھنے اور خوف کی سیاست کی وجہ سے سلامتی کے احساس میں کمی آئے گی، نہ کہ دنیا کے محفوظ ہونے کا احساس مضبوط ہو گا۔ اور یہ بات نہ صرف امریکا کے لیے زیادہ خطرناک ہو گی بلکہ یہ پورے یورپ اور دنیا بھر کے لیے بھی زیادہ خطرے کی بات ہے۔‘‘

جرمن وزیر خارجہ ماضی میں بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تقریر کی وجہ سے ان پر کئی بار سخت تنقید کر چکے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا، ’’سب سے پہلے امریکا۔‘‘ ٹرمپ کے برعکس شٹائن مائر متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ٹرمپ کی حریف امیدوار اور ڈیموکریٹ سیاستدان ہلیری کلنٹن، جو سابقہ امریکی خاتون اول اور وزیر خارجہ بھی رہ چکی ہیں، خارجہ امور کی ماہر ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو ابھی کل منگل انیس جولائی کے روز ہی امریکی ریبپبلکن پارٹی نے اپنے ایک کنوینشن میں باقاعدہ طور پر اپنا صدارتی انتخابی امیدوار نامزد کیا تھا۔ ٹرمپ نے یہ حتمی نامزدگی مجموعی طور پر ریبپلکن پارٹی کے اپنے 16 حریف سیاستدانوں کو شکست دے کر حاصل کی۔

DW.COM

اشتہار