ٹرمپ کا مواخذہ، گواہ کو ′خطرہ‘ | حالات حاضرہ | DW | 16.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹرمپ کا مواخذہ، گواہ کو 'خطرہ‘

میری یووانووچ نے تصدیق کی کہ انہیں' شدید خطرہ‘ ہے، جب سے انہیں یوکرائن میں امریکی سفیر کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے مواخذے کی کارروائی کے دوران اسی سفیر کے بارے ٹویٹ کی، جس کے بعد سے دھمکیوں کا شور بڑھ گیا ہے۔

یوکرائن میں امریکا کی سابق سفیر میری یووانووچ نے گواہی دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف چلنے والی مواخذے کی کارروائی کے دوسرے ہی دن اچانک انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جس موقع پر وہ کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سامنے اپنا بیان دے رہی تھیں، اس موقع پر ٹرمپ ٹوئٹر پر ان کی سفارت کاری اور ان کے ریکارڈ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔

ٹرمپ نے لکھا، ''میری یووانووچ جہاں بھی گئیں، وہاں خرابی ہی پیدا ہوئی۔ انہوں نے صومالیہ سے اپنا کام شروع کیا، وہاں حالات کیسے رہے؟ اس کے بعد وہ یوکرائن گئیں اور وہاں کے صدر  نے یووانوواچ کے خلاف بات کی۔ امریکی صدر کو سفارت کار نامزد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔‘‘

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے اس پارلیمانی کمیٹی سے تعلق رکھنے والے رکن ایڈم شِف نے کہا،'' میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، صدر جو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس کے اثرات انتہائی منفی ہوں گے۔‘‘

یووانووچ گواہی کیوں دے رہی ہیں؟

یووانووچ بدعنوانی کے خلاف اپنے موقف کے حوالے سے شہرت رکھتی ہیں۔ انہیں 2016ء میں یوکرائن میں تعینات کیا گیا تھا اور پھر انہیں مئی 2019ء میں جبری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس کمیٹی کے چیئرمین شِف کے مطابق یووانووچ کے ہٹائے جانے سے ایک ایسا بےقاعدہ راستہ بنانے میں مدد ملی، جسے ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے کییف حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا، تا کہ وہ جو بائیڈن  اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کریں۔ بائیڈن ٹرمپ کے سیاسی حریف ہیں۔ انہوں نے یووانووچ سے کہا کہ انہیں ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھا گیا تھا، جسے ہٹانا ضروری سمجھا گیا۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے یوکرائن کے صدر وولودومیر زیلنسکی کو فون کیا اور مبینہ طور پر ان سے مدد مانگی۔ اس مدد کا تعلق سابق نائب امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے بیٹے ہنٹر کے بارے میں چھان بین سے تھا۔ جو بائیڈن ممکنہ طور پر 2020ء کے امریکی صدارتی الیکشن میں ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف ڈیموکریٹ امیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ پر الزام ہے کہ ایسا کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور اسی وجہ سے امریکی کانگریس نے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

ع ا / م م 

 

DW.COM