ٹرمپ نے فان گوخ کی پینٹنگ مانگی، جواب ملا ’ٹائلٹ لے لو‘ | فن و ثقافت | DW | 28.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

فن و ثقافت

ٹرمپ نے فان گوخ کی پینٹنگ مانگی، جواب ملا ’ٹائلٹ لے لو‘

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل نیو یارک کے مشہور زمانہ گوگن ہائم میوزیم سے فان گوخ کی ایک پینٹنگ مستعار مانگی تو انہیں انکار کے ساتھ جواباﹰ ایک گولڈن ٹائلٹ ادھار لینے کی پیشکش کر دی گئی۔

نیو یارک کا مشہور زمانہ گوگن ہائم میوزیم

نیو یارک کا مشہور زمانہ گوگن ہائم میوزیم

نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ ’سوال پینٹنگ، جواب ٹائلٹ‘ کا یہ واقعہ گزشتہ برس موسم خزاں میں پیش آیا۔

Ausstellung 1912 - Mission Moderne

فان گوخ کی بنائی ہوئی ایک پینٹنگ، ان کا اپنا ہی پورٹریٹ

ڈا ونچی کا شاہکار کروڑوں ڈالر میں خریدنے والا سعودی ولی عہد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے نیو یارک کے گوگن ہائم میوزیم سے، جہاں دنیا کے بہت سے عظیم مصوروں اور دیگر فن کاروں کے شہ پارے موجود ہیں، یہ درخواست کی گئی تھی کہ وائٹ ہاؤس کو عظیم ڈچ مصور وِنسَینٹ فان گوخ کی ایک پینٹنگ مستعار دے دی جائے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس درخواست پر گوگن ہائم عجائب گھر کی خاتون مہتمم اعلیٰ نے گزشتہ برس پندرہ ستمر کو وائٹ ہاؤس کو ایک جوابی ای میل لکھی، جس میں یہ پیش کش کی گئی تھی کہ اگر صدارتی رہائش گاہ کی انتظامیہ چاہے تو میوزیم اسے اٹھارہ قیراط سونے کی بنی ایک ایسی گولڈن ٹائلٹ ادھار دے سکتا ہے، جسے تب تک ہزارہا مہمان استعمال کر چکے تھے۔

 G20 Gipfeltreffen Ehegatten

امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ

پکاسو کی نیو یارک سے چوری کردہ پینٹنگ ترکی سے مل گئی

پکاسو کی تخلیق، دنیا کا مہنگا ترین فن پارہ

روئٹرز کے مطابق یہ بات واضح نہیں کہ فان گوخ کی ایک شاہکار پینٹنگ ادھار لینے کی خواہش کے جواب میں وائٹ ہاؤس کو ایک سنہری ٹائلٹ پر گزارہ کرنے کی اس پیشکش کے جواب میں امریکی صدر کی رہائش گاہ کی طرف سے کیا جواب دیا گیا تھا۔

تاہم اس بارے میں اب روئٹرز نے واشنگٹن پوسٹ کی جمعرات پچیس جنوری کو شائع ہونے والی اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جب نیو یارک میں گوگن ہائم میوزیم کے ترجمان اور واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس سے ان دونوں کا موقف جاننے کی کوشش کی گئی، تو دونوں ہی کی طرف سے کسی بھی تبصرے سے انکار کر دیا گیا۔

گوگن ہائم میوزیم کے ایک بلاگ کے مطابق وائٹ ہاؤس کو جو گولڈن ٹائلٹ ادھار لینے کی پیشکش کی گئی تھی، وہ اطالوی آرٹسٹ ماریسیو کاتیلان کی 18 قیراط سونے سے بنائی ہوئی ایک ایسی ٹائلٹ ہے، جسے ’امریکا‘ کا نام دیا گیا ہے اور جو ایک عام ٹائلٹ کی طرح استعمال کی جا سکتی ہے۔

ہٹلر کی پینٹنگ کی نیلامی اسی ہفتے، فنی سے زیادہ تاریخی اہمیت

سونے کی بنی اس ٹائلٹ ’امریکا‘ کو 2016ء میں گوگن ہائم کے ایک باتھ روم میں نمائش کے لیے رکھا گیا تھا، اور اسے نجی حیثیت میں ایک ’لگژری تجربے‘ کے طور پر اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد استعمال کر چکے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے گوگن ہائم میوزیم سے انیسویں صدی کے عظیم ڈچ مصور فان گوخ کی جو شاہکار پینٹنگ مستعار لینے کی خواہش کی تھی، اس کا عنوان Landscape with Snow یا ’برفیلا لینڈ اسکیپ‘ ہے اور اسے صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے وائٹ ہاؤس کے نجی رہائش والے حصے میں کچھ عرصے کے لیے ایک دیوار پر آویزاں کیا جانا تھا لیکن میوزیم کی چیف کیوریٹر نیسنی سپیکٹر نے یہ درخواست مسترد کر دی۔

فرانسس بیکن کی پینٹنگ کی ریکارڈ نیلامی

روئٹرز کے مطابق اپنے ایک بلاگ میں اس امریکی عجائب گھر کی مہتمم اعلیٰ نینسی سپیکٹر نے اسی گولڈن ٹائلٹ کا حوالہ دیتے ہوئے گزشتہ برس یہ بھی لکھا تھا، ’’ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے بعد سے بہت سی شہری آزادیاں محدود کر چکے ہیں اور ان کی طرف سے ماحولیاتی تبدیلیوں کی حقیقت سے انکار نے ہمارے واحد سیارے کے طور پر زمین کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘‘