ٹرمپ نے امریکی فوجی مشرق وُسطیٰ بھیجنے کی منظوری دے دی | حالات حاضرہ | DW | 24.05.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

ٹرمپ نے امریکی فوجی مشرق وُسطیٰ بھیجنے کی منظوری دے دی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1500 امریکی فوجی اہلکاروں کو مشرق وُسطیٰ بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان فوجیوں کے ساتھ پیٹریاٹ میزائل اور لڑاکا جنگی جہاز بھی بھیجے جا رہے ہیں۔

ان فوجیوں کے ساتھ پیٹریاٹ میزائلوں کی ایک بٹالین، لڑاکا اور نگرانی کرنے والے ہوائی جہاز بھی بھیجے جا رہے ہیں۔  جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس بات کی باقاعدہ تصدیق امریکی وزیر دفاع پیٹرک شناہن نے کردی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی فوجیوں کی اس تعینات کا مقصد ’حفاظت‘ ہے۔ وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا امریکی فوجیوں کی یہ تعیناتی ’نسبتاﹰ کم تعداد میں ہے‘۔

امریکی وزیر دفاع پیٹرک شناہن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’یہ ایک محتاط دفاعی اقدام ہے جس کا مقصد مستقبل میں اشتعال انگیزیوں سے بچنا ہے۔‘‘

شناہن کے اس بیان کے مطابق اس اقدام کا مقصد، ’’ہماری فورسز کے تحفظ کو بہتر بنانا اور ایرانی فورسز کی طرف سے موجود خطرے کے خلاف امریکی فورسز کی حفاطت کو یقینی بنانا ہے۔

Patrick Shanahan

امریکی وزیر دفاع پیٹرک شناہن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، ’’یہ ایک محتاط دفاعی اقدام ہے جس کا مقصد مستقبل میں اشتعال انگیزیوں سے بچنا ہے۔‘‘

امریکا قبل ازیں رواں ماہ اپنا طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس ابراہام لنکن بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کر چکا ہے جبکہ قطر میں قائم امریکی فوجی اڈے پر جدید بمبار طیارے بی 52 بھی پہنچا دیے تھے۔ ان اقدامات کا مقصد ایران کی طرف سے نامعلوم خطرات کو قرار دیا گیا تھا۔

ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔

ا ب ا / ع ت (ڈی پی اے)

DW.COM