ٹرمپ امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کے خواہش مند | حالات حاضرہ | DW | 24.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹرمپ امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں اضافے کے خواہش مند

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امریکی ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد میں اضافے کے خواہش مند ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق وہ چاہتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت کے حوالے سے پیچھے رہ جانے والا امریکا دنیا کے باقی تمام ملکوں سے آگے رہے۔

USA Präsident Donald Trump (picture-alliance/abaca/O. Olivier)

ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے جمعہ چوبیس فروری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیوز ایجنسی روئٹرز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جمعرات تئیس فروری کی رات کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے (ذخیرے کے) حوالے سے امریکا بین الاقوامی سطح پر سب سے آگے رہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخاب کے بعد لیکن اپنی صدارتی حلف برداری سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا، ’’امریکا کو اپنی ایٹمی صلاحیت میں بہت زیادہ اضافہ کرنا ہو گا، اس وقت تک جب تک کہ دنیا جوہری اسلحے کے حوالے سے ہوش میں نہیں آ جاتی۔‘‘

ٹرمپ کے ’زہریلے بیانات نے دنیا کو تاریک تر‘ کر دیا، ایمنسٹی

اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں روئٹرز کے ساتھ انٹرویو میں بطور صدر ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق پہلی بار اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’میں دیکھنا تو یہ چاہوں گا کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں سے پاک ہو۔ لیکن مجھے اس بات پر بھی تشویش ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں سے متعلق اپنی صلاحیتوں میں امریکا پیچھے رہ گیا ہے۔‘‘

NO FLASH Symbolbild USA geben Zahl ihrer Atomsprengköpfe bekannt (picture alliance/abaca)

امریکی ایٹمی ہتھیار

اسی انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کی وجہ سے امریکا کی قومی سلامتی کو خطرہ ہے لیکن ’اگر بیجنگ میں چینی حکومت چاہے‘ تو وہ اس مسئلے کو ’بڑی آسانی سے حل‘ کرا سکتی ہے۔ اپنی اس سوچ کی وضاحت کرتے ہوئے ریپبلکن ٹرمپ نے روئٹرز کو بتایا کہ کمیونسٹ شمالی کوریا کے بڑے بڑے اقدامات مسلسل زیادہ ہوتے جا رہے ہیں اور بیجنگ اگر چاہے تو پیونگ یانگ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے ایسے اقدامات سے روک سکتا ہے۔

امریکی صدر نے اپنے اسی انٹرویو میں یورپی یونین کے بارے میں بھی کھل کر اظہار خیال کیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ درجنوں یورپی ملکوں کے اتحاد اور ایک علاقائی بلاک کے طور پر وہ یورپی یونین کی ’مکمل حمایت‘ کرتے ہیں۔

’ٹرمپ ہمارے صدر نہیں‘، امریکا میں مظاہرے

میڈیا، امریکی عوام کا دشمن ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

اس انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے اپنی صدارتی حیثیت میں پہلی بار مشرق وسطیٰ میں فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے تصفیے کے لیے ’دو ریاستی حل‘ کی بھی حمایت کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ ایسے ہر ممکنہ حل پر مطمئن ہوں گے، جس تک اس تنازعے کے دونوں فریق مل کر پہنچیں گے۔

Symbolbild Nato (picture-alliance/UPPA W. Dabkowski)

’نیٹو رکن ممالک کے ذمے ہماری بہت بڑی بڑی رقوم ہیں،‘ ڈونلڈ ٹرمپ

جب سے ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر بنے ہیں، تب سے اور اس سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے بار بار کہا تھا کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے دائرہء کار میں رہتے ہوئے امریکا اس اتحاد کے لیے جتنی رقوم ادا کرتا ہے، وہ باقی تمام ملکوں سے زیادہ ہیں اور کئی رکن ملک ایسے بھی ہیں، جو اس تنظیم میں دفاعی بجٹ کے طور پر اپنے حصے کی طے شدہ رقوم بھی طویل عرصے سے پوری ادا نہیں کرتے۔

اس تناظر میں ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے نیٹو میں واشنگٹن کے اتحادی ملکوں پر زیادہ رقوم کی ادائیگی کے لیے جو دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اس کا مثبت نتیجہ نکلے گا اور نیٹو کے اخراجات کے سلسلے میں امریکا پر پڑنے والا مالی بوجھ بھی مستقبل میں کم  ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں ٹرمپ نے کہا، ’’انہیں (نیٹو کے رکن ممالک کو) ہمیں بہت بڑی بڑی رقوم ادا کرنا ہیں۔‘‘

DW.COM

اشتہار