ٹاپ امریکی جنرلز کی پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات | حالات حاضرہ | DW | 28.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ٹاپ امریکی جنرلز کی پاکستانی فوج کے سربراہ سے ملاقات

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جیمز این میٹس اور افغانستان میں بین الاقوامی اتحادی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے آج بدھ 28 مارچ کو ملاقات کر رہے ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق جنرل میٹس اور جنرل ایلن پاکستان کے دورے پر پہنچ گئے ہیں اور وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے راولپنڈی میں ملاقات کریں گے۔

بیان کے مطابق چار ماہ قبل پاکستان کی سرحدی چوکی پر نیٹو حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد فوجی کمانڈروں کے درمیان یہ پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقات میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کی تحقیقات اور سرحدی تعاون کے طریقہ کار پر بات چیت ہو گی۔

دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق امریکی فوج کے دو جرنیلوں کی ایک لمبے وقفے کے بعد پاکستان آمد اس بات کا عندیہ ہے کہ اس سے قبل ہوم ورک مکمل کیا گیا ہے۔ تجزیہ نگار ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر کے مطابق: ’’یہ ملاقات بہت اہم ہے اور اس سے بالکل عندیہ مل رہا ہے کہ اس میں دوطرفہ معاملات طے کیے جائیں گے کہ سرحد پر کس طرح سے تعاون کیا جائے، کون کس سے بات کرے گا، کون کس کو کس طرح کی معلومات دے گا اور اس کے بعد ایکشن کون لے گا۔‘‘

ISPR کے مطابق جنرل میٹس اور جنرل ایلن پاکستان کے دورے پر پہنچ گئے ہیں اور وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے راولپنڈی میں ملاقات کریں گے

ISPR کے مطابق جنرل میٹس اور جنرل ایلن پاکستان کے دورے پر پہنچ گئے ہیں اور وہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے راولپنڈی میں ملاقات کریں گے

پاکستانی پارلیمان کا خصوصی مشترکہ اجلاس پاک امریکہ اور نیٹو ممالک کے ساتھ تعلقات کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات پر طلب کیا گیا ہے تاہم گزشتہ دو دن اس معاملے پر مختلف وجوہات کی بناء پر بحث شروع نہیں کی جا سکی۔ اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کو ان سفارشات پر اعتراض ہے اور وہ چاہتی ہے کہ پہلے یہ سفارشات قابل عمل بنائی جائیں۔

تاہم بدھ کی شام اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی صدارت میں پارلیمان کا مشترکہ اجلاس دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک جانب قومی اسمبلی میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے جائزے کے لیے بحث اور دوسری جانب اعلیٰ سطح کی فوجی قیادت کے رابطوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان امریکی حکام کو یہ باور کرانا چاہ رہا ہے کہ اس کے لیے موجودہ حالات میں دوطرفہ تعلقات خصوصاً نیٹو سپلائی کی بحالی آسان نہیں۔ ایئر مارشل ریٹائرڈ مسعود اختر کے مطابق دائیں بازو کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی کے خلاف جس طرح سے احتجاج کر رہی ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کے لیے آسان نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا: ’’میرے خیال میں اس پالیسی کو عوام کی پشت پناہی حاصل نہیں ہو گی اور حکومت اور کیانی صاحب کو اس میں بے پناہ نہیں تو کافی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ امریکہ کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں وہ چاہتے ہیں کہ یہ ہو جائے اور چونکہ پاکستان کو امریکی مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے اس لیے ان کو ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سامان رسد کے راستے بند کر دیے تھے

سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں 24 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سامان رسد کے راستے بند کر دیے تھے

پاکستان میں 26 نومبر کو سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں اپنے فوجیوں کی ہلاکت کے بعد احتجاجاً افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے سامان رسد کے تمام زمینی راستے بند کر دیے تھے۔ امریکہ کی جانب سے بارہا ان راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا ہے تاہم پاکستانی حکومت کو نیٹو سپلائی کی بندش جاری رکھنے کے لیے اندرون ملک خاصے دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکہ مخالف سیاسی و مذہبی جماعتیں حکومت کو نیٹو سپلائی لائن کھولنے کی صورت میں ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دے چکی ہیں۔

قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے بھی اپنی سفارشات میں امریکہ سے سلالہ کے واقعے پر غیر مشروط معافی مانگنے اور اس واقعہ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما سے لے کر پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر نے پاکستانی پارلیمان کے احترام کے بیانات تو دیے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی سطح پر امریکہ نے پاکستان سے معافی نہیں مانگی۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستانی فوجی سربراہ کی امریکی جرنیلوں کے ساتھ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات اور خصوصاً دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مشترکہ کوششوں کے لیے کیا مثبت نتائج حاصل کر پاتی ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: افسر اعوان