يورپ ميں ايک مہاجر کی زندگی، پنجرے ميں بند پرندے کی طرح | مہاجرین کا بحران | DW | 20.12.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

يورپ ميں ايک مہاجر کی زندگی، پنجرے ميں بند پرندے کی طرح

ہالينڈ ميں عراق اور ديگر ممالک کے ہزاروں مہاجرين کيمپوں ميں مقيم ہيں۔ جنگ و جدل سے دور يہ پناہ گزين محفوظ تو ضرور ہيں ليکن یہ اپنی زندگيوں کا موازنہ پنجرے ميں بند پرندوں سے کرتے ہيں۔

سات ماہ کے آدم کے ليے چين کی نيند پانا ناممکن سی بات ہے۔ شمالی ہالينڈ ميں لی وارڈن کے مقام پر موجود مہاجر کيمپ ميں قريب چھ سو پناہ گزينوں کی باتیں اور شور اسے سونے نہيں ديتا ليکن اس کے والدين مطمئن ہيں کہ کم از کم ان کا سب سے چھوٹا بيٹا بم دھماکوں کی گونج سے دور پرورش پا رہا ہے۔

آدم کے والد چھبيس سالہ احمد عراقی دارالحکومت ميں کپڑوں کی ايک دکان کا مالک تھے۔ 2014ء ميں بغداد ميں ہونے والے ايک بم دھماکے میں وہ اور ان کی اہليہ عاليہ بال بال بچے اور تب ہی انہوں نے يہ فيصلہ کيا کہ اپنی جان خطرے ميں ڈال کر بحيرہ ايجيئن کے راستے يورپ کا رخ کریں گے تاکہ ان کا اور ان کے اہل خانہ کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔ اپنی تمام تر جمع پونجی قريب نو ہزار يورو بروئے کار لاتے ہوئے وہ اس سال موسم گرما ميں اس انجان سفر پر نکل پڑے۔ انسانوں کے اسمگلروں کی مدد سے خطرناک سمندری اور زمينی راستوں سے ہوتے ہوئے وہ ہالينڈ پہنچنے کے خواہشمند تھے، جہاں ان کے خاندان کے کچھ دیگر افراد پہلے سے ہی مقيم ہيں۔ احمد اور عاليہ اپنے بچوں کے ہمراہ سولہ اکتوبر کو ہالينڈ پہنچے تاہم محض تين ہی ماہ ميں انہيں يہ اندازہ ہو گيا ہے کہ سياسی پناہ کے ليے يورپ آنے کا خواب جتنا سہانا ہے اتنا ہی پرآشوب بھی ہے۔

پانچ ہفتوں کی بھاگ دوڑ کے بعد کہيں جا کر احمد سياسی پناہ کے ليے اندراج کرانے ميں کامياب ہوا۔ ان کا کہنا تھا، ’’مجھے ايسا محسوس ہوا کہ جيسے ہالينڈ ميں ہم خوش آمديد نہيں اور ہميں يہ پيغام ديا جا رہا ہے کہ ہم چلے جائيں۔‘‘ ہالينڈ ميں نومبر کے وسط تک پناہ کے ليے تقريباً 54,000 درخواستيں جمع کرائی جا چکی تھيں اور حکام يہ تسليم کر چکے ہيں کہ مہاجرين کی بڑی تعداد کے سبب انہيں دشوارياں پيش آ رہی ہيں۔

ہالينڈ ميں نومبر کے وسط تک پناہ کے ليے تقريباً 54,000 درخواستيں جمع کرائی جا چکی تھيں

ہالينڈ ميں نومبر کے وسط تک پناہ کے ليے تقريباً 54,000 درخواستيں جمع کرائی جا چکی تھيں

احمد اپنے اہل خانہ کے سميت اب تک پانچ مختلف پناہ گاہوں ميں رہ چکا ہے۔ ان دنوں وہ لی وارڈن کے جس کيمپ ميں مقيم ہے، وہاں وہ ايک چھوٹے سے ’کيوبکل‘ ميں دو ديگر عراقی خاندانوں کے ساتھ رہ رہا ہے۔ ماضی میں نمائش وغيرہ کے ليے استعمال ہونے والے اس ہال ميں بنائے جانے والے کيوبکلز يا کمروں ميں نہ تو چھت ہے اور نہ ہی دروازہ۔ صبح کے وقت سات بجے ہال ميں روشنی ہو جاتی ہے، جس کے بعد کسی کے ليے بھی مزید سونا ناممکن ہو جاتا ہے۔ احمد بتاتا ہے، ’’يہ ايسا تجربہ ہے جيسے کوئی پرندہ پنجرے ميں بند ہو۔ وہ کھاتا پيتا تو ہے، ليکن وہ خوش نہيں ہوتا۔‘‘ احمد کے بقول ابھی اس کا سفر ختم نہيں ہوا ہے۔

دوسری جانب احمد مطمئن بھی ہے۔ اس کا سات ماہ کا بيٹا آدم اب اپنے پيروں پر کھڑا ہونے لگا ہے اور اس نے ’ماما اور بابا‘‘ کہنا بھی شروع کر ديا ہے۔ اگرچہ يورپ پہنچنے کے ابتدائی تين ماہ بعد يہ خاندان دستاويزی کارروائی اور مشکلات ميں گھرا ہوا ہے تاہم يہ اطمينان بھی ہے کہ ان کا بيٹا جنگ و جدل والے علاقے سے دور پرورش پا رہا ہے۔

احمد آج بھی خوفزدہ ہے کہ تارکين وطن کی اتنی بڑی تعداد کے سبب اسے واپس نہ بھيج ديا جائے۔ اسے يہ فکر بھی کھائے جا رہی ہے کہ نومبر ميں فرانسيسی دارالحکومت ميں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہالينڈ ميں مقامی لوگوں کا مہاجرين کے ساتھ رويہ بدل گيا ہے۔ ’’پہلے سڑکوں پر لوگ ہميں خوش آمديد کہا کرتے تھے ليکن اب ايسا نہيں ہوتا۔‘‘

اس صورتحال سے گزرنے والا احمد اکيلا نہيں۔ شورش زدہ ملکوں سے يورپ کا رخ کرنے والے سينکڑوں، ہزاروں پناہ گزينوں کو ايسے ہی مسائل کا سامنا ہے۔ يورپی حکام غير متوقع طور پر اتنی بڑی تعداد ميں پناہ کے متلاشی افراد کے پہنچنے کے سبب مشکلات سے دوچار ہيں۔ صرف اسی سال قريب ايک ملين مہاجرين بر اعظم یورپ پہنچ چکے ہيں۔

احمد کی اہليہ عاليہ آج بھی اونچی آواز سن کر ڈر جاتی ہے اور اسے وہ واقعہ ياد آ جاتا ہے جب اپنے ملک ميں وہ بم دھماکے ميں بال بال بچی تھی۔ احمد خود تمام تر مسائل کے باوجود مقابلتاً خوش ہے۔ اس کا کہنا ہے، ’’يہاں حالات بہت بہتر ہيں۔ نہ ہميں بھاگنا ہے، نہ ہی سمندری ميں ڈوبنے کا خوف ہے اور نہ ہی نقصان پہنچانے کی غرض سے کوئی ہمارے تعاقب ميں ہے۔‘‘ وہ پر اميد ہے کہ آئندہ کچھ سالوں ميں ہالينڈ کی شہريت حاصل کر کے ملازمت شروع کر دے گا اور پھر سب کچھ بدل جائے گا۔

اشتہار