ویکسین 60 برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے زیادہ مؤثر، فائزر | سائنس اور ماحول | DW | 18.11.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

سائنس اور ماحول

ویکسین 60 برس سے زائد عمر کے افراد کے لیے زیادہ مؤثر، فائزر

کورونا وائرس کے انسداد کی ویکسین کی تیاری کے حوالے سے اعلانات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سب سے پہلے جرمن کمپنی اور فائزر کے اشتراک سے ویکسین کے مؤثر بنانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

 فائزر کی ویکسین کے اعلان کے بعد موڈیرنا دوا ساز ادارے نے بھی اپنی ویکسین کے مؤثر ہونے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں کمپنیوں کی تیار کردہ ویکسین کے بعد ایسے بیانات بھی سامنے آئے ہیں کہ اگلے موسم گرما میں معمولاتِ زندگی وبا سے قبل کی صورت اختیار کر لیں گے۔ فائزر دوا ساز ادارے کی ویکسین میں جرمن فارماسوٹیکل کمپنی بائیو این ٹیک کا تعاون بھی شامل ہے۔ اس ویکسین کی تیاری میں مالی سرمایہ فائزر کا ہے۔

زندگی ایک برس میں معمول پر آجائے گی، جرمن ویکیسن مینوفیکچرر

ہماری ویکسین 90 فیصد تک مؤثر ہے، جرمن اور امریکی کمپنی

ویکسین مؤثر ہے

فائزر اور بائیو این ٹیک کے جاری کردہ تازہ بیان میں واضح کیا گیا کہ ان کی تیار کردہ ویکسین پینسٹھ برس اور اس سے زائد عمر کے افراد میں مؤثر ہونے کی شرح چورانوے فیصد ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ اس عمر کے افراد کو اس ویکسین سے بھرپور تحفظ حاصل ہو گا۔ یہ بیان تیسرے مرحلے کے مزید نتائج سامنے لانے کے بعد کیا گیا۔ دنیا کے مختلف ممالک کے اکتالیس ہزار افراد کو اس ویکسین کے دو مرتبہ انجیکشن لگائے گئے۔ جن ممالک کے رضا کاروں کو ویکسین کی خوراک دی گئی ان میں امریکا، جرمنی، ترکی، جنوبی افریقہ، برازیل اور ارجنٹائن خاص طور پر نمایاں ہیں۔ ان ممالک میں ویکسین کے ٹیسٹ کے ایک سو پچاس سینٹر بنائے گئے تھے۔

ماہرین کی آراء

برطانیہ کی لیورپول یونیورسٹی کے فارماکالوجی ڈیپارٹمنٹ کے سینیئر ریسرچر اینڈریو ہل کا کہنا ہے کہ بڑی عمر کے افراد میں ویکسین کا مؤثر ہونا انتہائی اہم اور کلیدی عنصر ہے۔ ہل کے مطابق یہ معاشرے کے کمزور افراد کو مدافعت اور تحفظ فراہم کرے گی۔ ریڈنگ یونیورسٹی کے پروفیسر برائے وائرولوجی ایان جونز کے مطابق فائزر کی ویکسین کا ڈیٹا بہت طاقتور اور حوصلہ مند ہے اور یہ افراد کے تحفظ کا باعث ہو گا۔ دوسری جانب ایک مارکیٹ تجزیہ کار نیل ولسن کا کہنا ہے کہ موڈیرنا کی جانب سے بھی ویکسین تیار کیے جانے کی خبر سے مالی منڈیوں میں دوا ساز اداروں پر کاروباری حلقے کے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور یہ سن 2021 کے روشن ہونے کی بڑی دلیل ہے۔

امریکا میں ویکسین لگانے کا ہنگامی منصوبہ

فائزر اور بائیو این ٹیک کے بیان کے مطابق اس ویکسین کے ہنگامی استعمال کی امریکی فیڈرل ڈرگ ایجنسی سے حاصل کی جائے گی۔ اجازت ملنے کے بعد کم از کم چار امریکی شہروں میں ویکسین لگانے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ رواں برس کے ختم ہونے سے قبل ویکسین کی پچاس ملین خوراکیں تیار کر لی جائیں گی اور اگلے برس کے دوران 1.3 تین بلین مزید خوراکیں تیار کی جائیں گی۔ یورپی یونین اور برطانیہ بھی ویکسین خریدنے والوں میں شامل ہیں۔ برطانیہ آکسفورڈ یونیورسٹی اور ایسٹرا زینکا ویکسین کی بھی ایک سو ملین خوراکیں خریدے گا۔ اس ویکسین کے آخری آزمائشی مرحلے کے نتائج جلد ہی عامل کر دیے جائیں گے۔

چینی ویکسین

چین میں کووڈ وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والی ویکسین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سائنوویک نامی مدافعتی دوا اس وقت وسطی آزمائشی دور میں ہے اور اس کے حوصلہٴ افزاء اور مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ چین میں کم از کم چار ویکسینیں تیاری کے درمیانی دور مکمل کرنے والی ہیں۔ ان میں سے ایک کی آزمائش پاکستانی رضاکاروں پر بھی جاری ہے۔ چین میں اس ویکسین کے ٹیسٹس سات سو افراد پر کیے گئے ہیں۔ یہ ویکسین سائنو ویک بائو ٹیک چینی دوا ساز کمپنی تیار کر رہی ہے۔ ابھی تک تیسر مرحلے کے نتائج کی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ چینی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں مہنے میں قریب ساٹھ ہزار افراد کو مدافعتی ویکسین لگائی گئی ہے۔

ع ح ، ع ت (روئٹرز، اے پی)